Showing posts with label U Tube Channel Video. Show all posts
Showing posts with label U Tube Channel Video. Show all posts

Tuesday, 25 November 2025

Raaz e hayyat by Mehek Hanam Complete Novel

 


Raaz e hayyat by  Mehek Hanam Complete Novel 

Wani base novel , after marriage , rude hero , strong girl , rude heroine , revenge , haveli base , after nikah , 

"تم نے زارا کے بال کاٹے ہیں؟"باران کی آواز میں سرد ملال اور دبی ہوئی شدت تھی۔ ایسا سکوت تھا کہ ہر لفظ کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہا تھا۔سائرہ کا چہرہ یکایک سفید پڑ گیا۔ اس نے ایک نظر اپنی ماں کی جانب ڈالی، جو خود بھی پریشان کھڑی تھیں۔ لاونج کی فضا بوجھل ہوچکی تھی۔ زارا، جو اب بھی سر جھکائے کھڑی تھی۔

"باران بیٹا، یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟"حبہ خانم بیٹی کے دفاع میں سامنے آئیں، مگر باران نے سخت لہجے میں کہا۔

"چچی جان، مہربانی فرما کر پیچھے ہو جائیے۔ میں کسی قسم کی بدمزگی نہیں چاہتا۔"یہ پہلا موقع تھا کہ باران کی آواز میں بڑوں کے لیے ایسی سرد مہری تھی مگر پھر بھی حد ادب میں تھی۔

"میں کچھ پوچھ رہا ہوں، سائرہ!"باران کا تحمل اب کچے دھاگے پر تھا۔

"وہ... وہ... میں نے... وہ..."سائرہ کی زبان لڑکھڑائی، چہرے پر شرمندگی تھی، لیکن غرور نے اسے سچ قبول کرنے سے روکے رکھا۔

"وہ وہ کیا؟ سیدھا جواب دو!"باران کی اگلی دھاڑ اتنی شدید تھی کہ انارہ نے زوبیہ خانم کے پیچھے چھپنے میں ہی عافیت جانی۔

"ہاں! میں نے کاٹے ہیں! اور تم اس ونی میں آئی، دو کوڑی کی لڑکی کے لیے مجھ پر برس رہے ہو؟"سائرہ کی آواز بلند ہوئی تو حویلی کے ماحول پر جیسے زہر بکھر گیا۔باران نے ایک لمحہ آنکھیں بند کیں، گہری سانس لی، پھر سر موڑ کر زارا کو دیکھا جو اب بھی لرزتی ہچکیوں میں گم تھی۔ ایک پل کو وہ کچھ کہے بغیر رہا، مگر اگلے لمحے...تھپڑ!

باران کا ہاتھ بجلی کی مانند گھوما اور سائرہ کے گال پر ایسی ضرب لگا کہ وہ لڑکھڑاتے ہوئے صوفے پر جاگری۔لاونج میں ایسا سکوت چھایا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ باران... باران حیدر خان نے ہاتھ اٹھایا ہے۔شاہ میر بے ساختہ اس کی جانب بڑھا۔ اگر دیر کرتا تو شاید دوسرا تھپڑ بھی پڑ چکا ہوتا۔

"باران! ہوش کرو!"شاہ میر کی سخت آواز نے کمرے کی جمی ہوئی فضا کو  رواں کیا ۔حبہ خانم تیزی سے اپنی بیٹی کے پاس پہنچیں، جو گال پہ ہاتھ رکھے  رو رہی تھی مگر باران کا چہرہ اب بھی غصے سے سرخ تھا، آنکھوں میں آگ تھی، جیسے وہ ابھی بھی بہت کچھ کہنا چاہتا ہو، بہت کچھ کرنا چاہتا ہو...ان سب کے بیچ، اگر کوئی تھا جو اس ساری ہنگامہ خیزی کو سکون اور مکمل اطمینان کے ساتھ دیکھ رہا تھا، تو وہ حرم تھی۔دیوار سے ٹیک لگائے، وہ پورے منظر کو اس طرح ملاحظہ کر رہی تھی جیسے برسوں پرانی کسی الجھن کا کڑا حساب برابر ہوتے دیکھ رہی ہو۔ سائرہ کا چہرہ، جو ابھی کچھ لمحے قبل غرور کا مسکن تھا، اب باران کے ایک تھپڑ کے بعد شکستہ خاکے میں بدل چکا تھا۔

حرم کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ ابھری، جسے اس نے فوراً ہی ضبط کرتے ہوئے ہونٹوں کو دانتوں تلے دبا لیا۔ وہ جانتی تھی سائرہ نے کب سے ہر ایک کو نفسیاتی اذیت کا نشانہ بنا رکھا ہے، مگر کوئی بھی اس کے غرور کو توڑنے کی جرأت نہ کر سکا۔ آج پہلی بار، اس کے غرور کا تاج زمین پر گرا تھا۔ اگر باران خود یہ کام نہ کرتا، تو وہ ضرور کرتی۔ اور شاید اس سے زیادہ بےرحمی سے۔

”باران! یہ کیا حرکت ہے؟ کیا یوں  گھر کی بیٹی پر ہاتھ اٹھایا جاتا ہے؟“اسماہ خانم کی ناراضی ان کے لہجے میں ڈھل گئی تھی۔ وہ باران کی سختی کو ہضم نہ کر سکیں۔ آخر سائرہ، جیسی بھی تھی، ان کی حویلی کی ہی بیٹی تھی۔باران نے ان کے اعتراض پر ایک لمحہ کو سائرہ کو ایسی نگاہوں سے دیکھا کہ جیسے صرف نظریں نہیں، آگ کے شعلے برس رہے ہوں۔ پھر ایک جھٹکے سے سر موڑا، گویا اسے کچھ کہنا ہی فضول لگ رہا ہو۔

"یہاں سے جاؤ۔ سب کے سب!"باران کا حکم سنتے ہی ملازمین نظریں جھکائے فوراً لاونج سے کھسک گئے۔

"تم لوگ بھی جاؤ۔"اس بار مخاطب اس کے بھائی تھے۔ ارمان اور زارون نے ایک دوسرے کو دیکھا، سر جھکایا، اور خاموشی سے نکل گئے۔ لیکن شاہ میر وہیں کھڑا رہا۔

"شاہ، تجھے دعوت نامہ دینا پڑے گا کیا؟"باران کے سرد لہجے میں اب تلخی شامل تھی۔

"دیکھ، باری..."

"شاہ!"شاہ میر کی بات کو درمیان سے کاٹتے ہوئے باران نے اسے دیکھا۔ وہ نظروں کا مفہوم سمجھ گیا اور بغیر کچھ کہے واپس پلٹ گیا۔اب لاونج میں صرف خواتین تھیں۔ سائرہ، جو ابھی تک گال تھامے بیٹھی تھی، باران، اور زارا...

باران نے زارا کے بازو کو نرمی سے تھامتے ہوئے اسے اپنی مورے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اس کا لہجہ اب گواہی مانگ رہا تھا، فیصلہ نہیں سنا رہا تھا۔

Click on link below to read novel 





Saturday, 25 October 2025

Na hua naseeb qarar e jaan by Amna Tariq


منحہ سعید کو کسی نامعلوم شخص نے اغواء کرلیا تھا۔

یہ خبر سیسے کی طرح سنان اور زیان کے کان میں لگی تھی۔

قیامت تھی جو اس وقت ان سب پر آن پڑی تھی۔

زیان دیوانہ وار ادھر ادھر بھاگ رہا تھا۔ ہزیاتی انداز میں وہ منحہ کو پکار رہا تھا مگر جواب ندارد۔ اور سنان؟ وہ تو پکارنے سے بھی قاصر تھا۔ قوت لسان تو اس سے جیسے چھین لی گئی تھی۔ اس کا دماغ اس سب کو پراسس کرنے سے قصر تھا۔ اس کا دل چاہا وہ کسی طرح اپنی جان کے بدلے ہی سہی منحہ کو واپس لے آئے۔ مگر کچھ چیزیں اور کچھ خواہشات دل تک محدود رہ جاتی ہیں۔

سنان کے ہاتھ میں موجود فون یکدم بجا۔ اس نے برق رفتاری اور غائب دماغی سے کال اٹھائی۔

"بچا سکتے ہو تو بچا لو اسے آر ڈی۔"  آر ڈی؟؟ یاد تو ہوگا ناں؟ خیر اس کہانی کو بعد کے لیے چھوڑ ہم واپس منظر پر آتے ہیں۔ سنان کے ہاتھ زور زور سے کانپنے تھے۔ بامشکل اس کے دماغ نے چند الفاظ پراسس کیے۔ سمجھ آنے پر اس نے فون دیکھا تو کال بند ہوچکی تھی۔ واٹس ایپ پر ایک لوکیشن بھیجی گئی تھی۔

"ز۔۔زیان، زیان" سنان ہزیاتی انداز میں چیخا۔ زیان، جو دیوانہ وار آس پاس بھاگ رہا تھا، اس آواز پر چونکا۔ برق رفتاری سے بھاگتا وہ سنان تک آیا۔

بغیر کچھ کہے سنان اسے گھسیٹتا اپنے ساتھ اپںی گاڑی تک لایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔ گاڑی کچھ ہی دیر میں سڑکوں پر دوڑ رہی تھی۔

"کہاں جارہے ہو" زیان بے جان آنکھوں سے بولا۔

"منحہ کو لینے" مختصر الفاظ ہی نے زیان کے جسم میں روح پھونک دی تھی۔

Complete Novel 




Saturday, 10 May 2025

Hasraton ke sahil per by Abeera Hassan

 

ضیشم کی سرخ غیظ وغضب سے بھری نظریں خود پر مرکوز دیکھ کر نواز خان کے گلے میں ایک گلٹی سے ابھر کر رہ گئی تھی کیونکہ نواز خان سمیت اس وقت کمرے میں موجود ہر شخص جانتا تھا کہ سردار ضیشم اجلال خان صرف گرجتا نہیں تھا۔ اس نے کہہ دیا تھا کہ وہ نواز خان پر نظر رکھوائے گا تو اب ایسا ہونا طے تھا۔ اب جب تک نواز خان اور اس کا بیٹا زندہ رہتا تب تک وہ ضیشم کی کڑی نگرانی سے بچ نہیں سکتا تھا ۔ضیشم اجلال کی بات پتھر پر لکیر کی طرح ہوتی تھی۔ اپنے پاپا کی طرح اس کے فیصلے بھی بے لچک اور پختہ ہوا کرتے تھے۔ وہ ابھی پچیس سال کا تھا مگر بچپن سے اپنے پاپا کے ساتھ رہتے اور انھیں لوگوں کے ساتھ اس طرح کے معاملات طے کرتے دیکھ کر اب اس کا تجربہ ڈبل ہو چکا تھا۔۔ تبھی اس نے اپنا فیصلہ سنانے کے بعد کسی کی طرف بھی دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا اب کوئی بھی اس کے سامنے دم مارنے کی جرأت نہیں کر سکے گا۔۔۔ یہی یہاں کا نظام تھا جو سالوں سے چلتا آ رہا تھا اور اس نظام کو بنانے والا ضیشم کا ہی خاندان تھا کیونکہ نسلوں سے "ڈیرہ یاور خان" گاؤں پر ضیشم اجلال خان کے خاندان کا راج تھا۔





Friday, 25 April 2025

Sabaz qadam se mubarak qadam by Kanzul Hayya


تم یہاں کیا کررہی ہو لڑکی ، بڑی مامی نے کچن کے اندر داخل ہوکر کہا ۔

امی یہ مجھے کھانا دے رہی تھی۔ غفران نے کہا۔ وہ جانتا تھا کہ غلطی کسی کی بھی ہو اسکی ماں کا غصہ ہمیشہ سارہ کے اوپر ہی نکلتا تھا۔

بیٹا کتنی بار سمجھایا ہے کہ اس منحوس لڑکی سے دور رہو ، یہ سب کو کھا جاتی ہے۔ بڑی مامی نے غصے سے کہا۔

کیا ہو گیا ہے امی آپکو ، کتنی بار سمجھایا ہے کہ آپ ایسی باتیں مت کیا کریں ۔

جبران کی ذندگی اتنی ہی لکھی تھی ، اس میں اسکی کیا غلطی ہے۔غفران اپنا کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔

غفران یہ لڑکی منحوس ہے ، یہ آہستہ آہستہ میرے گھر کو ختم کردیگی۔ بڑی مامی نے غصے سے کہا۔

غفران غصے سے پیر پٹک کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔

تیری وجہ سے میرے بیٹے نے کھانا بھی نہیں کھایا۔ تو اس گھر سے چلی کیوں نہیں جاتی۔ بڑی مامی نے غصے سے کہا تو سارہ کی آنکھوں میں آنسؤ آگے ۔

وہ چاۓ کی ٹرے اٹھا کر کچن سے نکل گئ۔ اب اسکا دل پڑھائ میں کہاں لگنا تھا۔






Wednesday, 16 April 2025

War by SJ Writer YouTube Special


وہ آج بھی اُتنی تکلیف میں تھی،جتنی 5 ماہ پہلے تھی.

دل آج بھی اُتنا زخمی تھا،جتنا پہلے تھا.ہو آج بھی وہی تھی،جہاں پہلے تھی.

"دل لگی ہوتی تو کچھ دن لگتے ٹھیک ہونے میں "

"محبت ہوتی تو مہینے لگتے ٹھیک ہونے میں "

"لیکن یہ تو عشق تھا وہ بھی محرم کا"

"وہ اُسکی عادی تھی اور جب عشق عادی ہو جائے تو زندہ رہنا مشکل ہو جاتا ہے"

بالکل اُسی طرح جس طرح وہ اپنے محرم کے بغیر اب زندگی گزار رہی تھی.دل تھا پھٹنے کے قریب لیکن وہ کیا کرتی. اُس کے پاس جینے کی وجہ تھی.

"اِک ایسی وجہ موت کے مترادف تھی"

اُس وجہ کو جینے کے لئے اب اُسے کچھ درد اود سہنا تھا.

اِک آنسو اس کے گال پر لڑھک گیا تھا.پھر برسات ہوئی.پھر وہی تکلیف ہوئی.

اب اس کے ساتھ اُس خواہش کو پورا کرنا تھا.جس کا وعدہ وہ کر چکی تھی..




Monday, 14 April 2025

Tasawur by Nazish Munir


 Tasawur by Nazish Munir 

"تصور" صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک سفر ہے—ایک سفر جو قاری کو اپنے خوابوں، خیالات اور احساسات کی دریافت کی جانب لے کر جاتا ہے۔ یہ میرا آپ سے ایک مکالمہ ہے، ایک دعوت ہے کہ آپ بھی اپنی سوچوں کے سمندر میں غوطہ لگائیں اور اپنی حقیقت کو دریافت کریں۔

زندگی کے سفر میں انسان بہت سے جذبات سے گزرتا ہے لیکن کچھ جذبات ایسے ہوتے ہیں جو اندر ہی اندر ہماری روح کو کھا جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک جذبہ "حسد" ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جو بظاہر معمولی لگتا ہے، مگر اس کی شدت رشتوں، خوشیوں اور سکون کو ختم کر دیتی ہے۔

حسد ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو دوسروں کی کامیابیوں اور خوشیوں پر خوش ہونے کے بجائے ان سے نفرت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ نہ صرف ہماری اپنی زندگی کو برباد کرتا ہے بلکہ ان رشتوں کو بھی ختم کر دیتا ہے جو ہمارے لیے قیمتی ہوتے ہیں۔ یہ کتاب اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ حسد کو قابو میں رکھنا کیوں ضروری ہے اور کس طرح ہم اپنی زندگی کو شکرگزاری، محبت اور خود آگاہی کے ذریعے بہتر بنا سکتے ہیں۔

"تصور" میں کچھ ایسے کردار ہیں جنہوں نے مجھے یہ کتاب لکھنے کی وجہ دی۔ اَشوع، اروحہ، اور عمارہ جیسی لڑکیاں جو حسد اور محبت کی جنگ میں الجھ کر زبردستی کے رشتوں میں بندھ گئیں۔ ہر ایک اپنی آزمائشیں سہہ رہی ہے اور اپنی راحتوں کے لمحے تلاش کر رہی ہے۔ ان کے قصے دل کو چھوتے ہیں، ان کی کہانیاں سچائی اور جذبات سے بھری ہیں، اور شاید اسی لیے میرے دل کے قریب بھی۔


Click on the link to read 




Wednesday, 26 March 2025

Kabhi tum gussy se kabhi main pyar se by Kanzul Hayya

Child hood nikah , cousin marriage 

 

مہ رخ تو ماشااللہ بہت بڑی اور خوبصورت ہو گئ ہے،

تائ امی مہ رخ کو مسکرا کر گلے لگا کر بولی۔

کیوں أئیں ہیں أپ لوگ یہاں، مہ رخ غصے اور نفرت سے بولی۔

مہ رخ خ۔۔۔۔، ثمینہ بیگم دبا دبا سا چینخی۔

امی مجھے خاموش کروانے سے بہتر ہے کہ أپ ان لوگوں کو دروازے سے اندر أنے ہی نہیں دیتی، ابھی کے ابھی انکو بولیں یہاں سے جائیں، مہ رخ چلا کر بولی۔

بیٹا ٹھنڈ رکھو گھر أۓ مہمانوں کیساتھ ایسا نہیں کرتے ۔

نانو بولے۔

نانو مجھے پتہ ہے کہ گھر أۓ مہمانوں کیساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے، پر مہمان بھی اس لائق ہو، أپ ان سے کہیں کہ یہاں سے جائیں، مہ رخ غصے سے بولی۔

وہاب نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھنچ لی ، اپنی بے عزتی بھی بہت محسوس ہوئ لیکن اس لڑکی کو بعد میں سبق سکھانے کا سوچ کر خاموش ہوگیا۔




Thursday, 20 March 2025

Dosri mohabbat | Rimsha Riaz | Epi 2 #revenge #aftermarriagenovels #rom...

 

ایک لڑکا وائٹ شرٹ پہ ہاف آستینوں والی واسکٹ پہنے سائیڈ پوز میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔

وہ وجہیہ تھا سیدھا دل میں اترتا تھا۔

وہ ٹھٹھک گئی ، اس کا محرم تو حسن و جمال سے مالا مال تھا۔ دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔

کافی دیر ہوئی وہ سونے ہی لگی تھی کہ دھڑام سے دروازہ کھلا وہ ڈر کے اٹھ بیٹھی۔

وہ وجہیہ مرد اس کے سامنے تھا مگر انکھوں میں اجنبیت اور ناگواری تھی۔

اس نے نظریں جھکا لیں ۔

وہ دروازہ دھڑام کر کے بند کر گیا۔وہ اور سہم گئی۔

وہ اس کی طرف بڑھا اس کی دھڑکن تیز رفتار تھی۔ وہ اس کے قریب آیا بازو دبوچ کے اس کو کھڑا کیا۔

وہ سسکی ۔

وہ کچھ بھی بولنے کے بجائے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔

یہی ڈر دیکھوں تمھاری آنکھوں میں! وہ طیش سے بولا۔

جج جی؟ وہ بازو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔

تم یہاں کس لیئے آئی ہو ہاں۔ مجھے کھلونے نہیں چاہیں! وہ چیخا۔

آپ آپ ارام سے بولیں؛ اس نے کان پہ ہاتھ رکھے۔

مجھے تم میں زرا بھی انٹرسٹ نہیں ہے ، پیسے کے لئے شادی کی ہے ناں تم نے؟ وہ اس کے کان میں غرایا۔

آپ غلط! وہ تھوک نگل کر بولنے لگی۔

چپ باکل چپ! آواز نہ آئے ۔ وہ انگلی سے اشارہ ہر کے بولا۔وہ بیلک تھری پیس میں ملبوس تھا۔

وہ چپ ہو گئی ۔

اٹھو یہاں سے اس کمرے میں جاؤ اور جب تک میں نہ بولوں شکل مت دکھانا! وہ دھاڑتا ہوا بولا۔

جی؟ وہ چونکی

سمجھ نہیں ائی سمجھاؤں تمھیں وہ بیلٹ کی طرف اشارہ کر کے بولا ۔

وہ ڈر کے مارے بھاری لہنگا اٹھا کر اٹیچ روم میں چلی گئی۔اس کی سسکیاں وہ اسانی سے سن سکتا تھا۔ یہ سسکیاں اس کے لیے کوڑے کی مانند تھی۔

اس نے ضبط سے آنکھیں بند کیں ۔

ـــــــــــــــــــــــــــ



Monday, 3 February 2025

Wolf mafia love | Maha Shah | Episode 2 | Secret agent |Mafia base | gan...

 

دو گھنٹے کے بعد وہ ایگزام روم سے باہر نکلا اور بازوؤں کو موڑ کر انگڑائی لی ۔ واپسی کے لیئے قدم لیتے اس کی نظر گول گپوں پر پڑی ۔ وہ مسکرایا ۔ جانتا تھا ایمان کو بہت پسند ہیں ۔۔ وہ گول گپے لے کر گھر کے باہر پہنچا ۔۔ گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔۔ اس کا دل نا محسوس انداز میں دھڑکا ۔۔۔۔ و بھاگ کر اندر داخل ہوا پورے گھر کا سامان بکھرا پڑا تھا ۔ وہ لرزتے قدموں سے آگے بڑھا ۔۔۔۔ آگے کا منظر دیکھ کر اس کی روح فنا ہوئی ۔۔۔ ایمان کو دیکھ کر اس کی جان نکل گئی وہ بکھری بکھری سی بیٹھی تھی  ۔۔۔

 ایمان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دھاڑا ۔۔۔۔ اس کی ایمان لٹ گئی تھی ، بے آبرو ہوگئی تھی ۔۔۔۔ ایمان !!!!!! وہ چلایا تھا اس کو ایسا لگا اس کے گلے میں خراشیں پڑ گئیں ہوں ۔۔۔

مار دو اس لڑکی کو ۔۔۔۔ ایک آدمی کمرے سے باہر نکلا ارقم نے اس کو دیکھا اس کی صورت اپنے دماغ میں قید کی ۔۔۔

 تم کتے ،،، میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں!!!!!!! ارقم دھاڑتے ہوئے اس کے قریب گیا ۔۔۔ ابھی وہ سترہ سال کا سارا تھا اس لیئے اس کا قد بھی چھوٹا تھا وہ اس آدمی کے کندھے تک پہنچ رہا تھا ۔۔۔ اس آدمی کے بندوں نے اس کو پکڑا ۔۔۔۔

بچے ہو ابھی بچے ہی رہو ۔۔۔ وہ شخص مغرور لہجے میں بولا ۔۔۔

 چھوڑو میرے بیٹے کو ۔۔۔۔ ارقم کی ماں روتے ہوئے بولی اپنی ماں کو دیکھ کر وہ تڑپ ہی گیا۔۔۔ منہ زخمی تھا ۔۔۔ ان کو بہت مارا گیا تھا۔۔۔۔

 نامرد ذلیل کتے ،، شرم نہیں آتی تجھے،میں تیری جان لے لوں گا ۔۔۔۔ وہ دھاڑا ۔۔۔ اس آدمی کا صبر تمام ہوا اس نے چاقو سے اس کے گردن پر وار کرنا چاہا لیکن ارقم کی ماں نے اس کو پیچھے سے دھکا دیا جس سے کٹ اس کی آنکھ سے دائیں گال تک لگا خون کا فوارہ باہر نکلا ۔۔۔۔

تیری تو ۔۔۔۔۔۔۔۔کمینی عورت ۔ وہ گالیاں بکتا ان کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔

 امییییییییی۔۔۔ اس کو ان کی طرف بڑھتے دیکھ وہ چلایا ۔۔۔۔

 بھاگو بیٹا ۔۔۔ بھاگو ۔۔۔ ہمارا بدلہ تم لینا، بھاگو، تمہیں میری قسم ۔۔۔۔ وہ چلائیں تھیں ۔۔۔ ارقم نے روتے ہوئے ایک نظر ایمان کو دیکھا جس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔

 ایمان ۔۔۔۔ وہ اس کی طرف بڑھا اس کو اپنے زخم آنے درد کی پرواہ نہیں تھی اس کا دل اپنی ماں ، اور محبت کے لیئے رو رہا تھا ۔۔۔

 جاؤ ار آر ارقم ۔۔۔۔ ایمان ٹوٹے لفظوں میں بولی اگلے ہی پل اس کے منہ سے چیخ نکلی وہ اس کے پیٹ میں بھرا گھونپ چکاتھا ۔۔۔

 ایمانںنننننننن۔۔۔۔۔۔امییییییییی۔۔۔۔ وہ بے بس سا چیخا ایک طرف اس کی ماں تھی جس نے اس کو چلنا سکھایا تھا، دوسری طرف اس کی محبت تھی جس نے اس کو ہنسنا سکھایا تھا ۔۔۔

 بھاگو!!!!! اس کی ماں چلائی ۔۔ اس کے بندے اس کی طرف بڑھے اس کا چہرہ خون سے سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔ 





Sunday, 19 January 2025

Yeh dosti | Mah bint e sajjad | Episode 7 | Friends | hero police #reve...


 

" لیکن نہ تو میں تمہیں طلاق دوں گا اور نہ تم مجھ سے خلع لو گی سمجھی"

زیان نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے مقابل کھڑے کرتے ہوئے کہا

"تم مجھے زبردستی یہاں پر روک نہیں سکتے زیان"

جنت نے اس کی گرفت کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا

"میں بہت کچھ کر سکتا ہوں لیکن فلحال کے لیے تمہیں بتاتا چلوں کہ میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ میری قید میں تم اپنی مرضی سے آئی تھی لیکن یہاں سے نکل تم میری مرضی سے ہی سکتی ہو اور میرا تمہیں چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے"

زیان نے اسے اپنی گرفت سے آزاد کر کہ تو وہ اس پر جھپٹتی اس سے پہلے وہ اس سے دور ہوا تھا وہ کئی دفعہ پہلے بھی اپنے منہ کا حلیہ اس کی ناخنوں سے بگاڑ چکا اوپر سے سلیم اس کی شکل دیکھ کر ہنستا تھا اب پھر وہ اپنے خوبصورت چہرے پر کوئی نشان نہیں چاہتا تھا آخر کو وہ شہر کا ایس پی تھا جب لوگ اس کے چہرے کی ایسی حالت دیکھتے ہوں گے تو کیا سوچتے ہوں گے وہ اکثر سوچ کر جھرجھری لیتا تھا

"تو پھر کیا ارادے ہیں تمہارے گھٹیا ایس پی یہ بھی بتا دو"

جنت کی طیش بھری آواز پر وہ حال میں لوٹا جو اسے خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی

"ارادے تو کافی نیک ہیں بس اگر تم مان جاؤ تو کیا ہی کہنے"

اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس نے آنکھ مار کر کہا تو جنت نے پاس پڑا واس اٹھا کر اس کی جانب پھینکا جسے وہ اگر بروقت پکڑتا نہ تو اب تک اس کا سر پھٹ چکا ہوتا

"تم جیسے گھٹیا شخص سے ایسی ہی امید کی جا سکتی ہے دفعہ ہو جاؤ یہاں سے ورنہ میرے ہاتھ سے ضائع ہو جاؤ گے آج"

جنت نے غصے سے بھپر کر کہا اور دوسرا واس اٹھانے کے لیے بڑھی اس کا ارادہ بھانپتے ہوئے زیان نے وہاں سے جانے میں ہی بہتری جانی لیکن دروازے پر رک گیا

"ایسے کیسے ضائع کر دو گی میں تمہارے ہاتھ سے ضائع ہونے کے لیے تو پیدا ہوا ہوں جیسے "

اس نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا اور اپنے طرف آتے واس کو دیکھ کر فوراً سے پہلے دروازہ بند کیا جو اس منہ پر لگتا اگر وہ دروازہ بند نہ کیا ہوتا تو دروازہ بند ہوتے ہی زیان نے ایک جاندار قہقہہ لگایا اسے بہت مزہ آتا تھا جنت کو تپانے میں لیکن یہ الگ بات تھی کہ ان چکروں میں خود اس کے ہاتھوں کئی بار مرتے مرتے بچا تھا






Monday, 16 December 2024

Yeh dosti | Mah bint e sajjad | Episode 1| Friends | Hero singer #reve...




 

I'M AYAT YAZDANI DUAGHTER OF  ASHFAQ YAZDANI"

سامنے بیٹھی لڑکی نے مسکراتے ہوئے اطمینان سے اپنا تعارف کروایا جب کہ ضئیم کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا

"جہاں تک مجھے علم ہے کہ اشفاق یزدانی کی کوئی بیٹی ہی نہیں ہے پھر آپ کون؟"

اب کی بار اس نے لہجے کو نرم رکھنے کی کوشش کی لیکن آخر میں وہ تلخ ہو گیا تھا  اس کی بات پر آیت کی موبائل پر چلتی انگلیاں ایک لمحے کے لیے رکیں پھر اس نے سر اٹھا کر سامنے کھڑے شخص کو دیکھا

" تو پھر یہ آپ کے ناقص علم کی غلطی ہے کہ آپ کو اپنے دس سال پرانے بزنس پارٹنر کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں چلیں میں آپ کے علم میں تھوڑا سا اضافہ کر دیتی ہوں کچھ فیملی ایشوز کی وجہ سے میں اپنی موم کے ساتھ ڈیڈ یعنی اشفاق یزدانی کو چھوڑ کر آسٹریلیا چلی گئی تھی اور ابھی کچھ عرصہ قبل ہی میں واپس آئی ہوں تو اب آپ کو پتہ ہونا چاہتے کہ آیت یزدانی کون ہے"

آیت نے پر اعتماد لہجے میں کہہ کر اسے اپنا تعارف کروایا تھا ضئیم ابھی بھی الجھا الجھا لگ رہا تھا تبھی اس نے دوبارہ سوال کیا

" ویسے میں آپ سے ایک بات پوچھوں جب آپ نے مجھے دیکھا تو ایسی شکل کیوں بنائی جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو؟ "

"وہ اس لیے کہ آپ کی شکل کسی سے بہت ملتی ہے کسی ایسے سے جوسالوں پہلے مٹی کے ڈھیر تلے جا سوئی ہے"

اس نے بظاہر مزاحیہ انداز میں پوچھا تھا لیکن ضئیم کے جواب پر وہ کچھ پلوں کے لیے چپ ہو گئی




Thursday, 5 December 2024

Mery bakhat ki siyahi | Aqsa Tehreem | Episode 1 | Rape base | Cousin | ...


۔۔

اپنی زبان بند رکھنا ۔۔ ورنہ اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر چڑھانے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤں گا ۔۔  وہ لڑکا سفاکیت کی ساری حدیں عبور کرتا غرایا تھا ۔۔ 

کیا ملا تمہیں یہ سب کر کے ۔۔ آخر کیوں کیا ایسا ۔۔ میں نے کہا کیا تھا تمہیں ۔۔  وہ بےبسی کی انتہا پے دکھ سے بولی تھی ۔۔ وہ خباثت سے مسکرا دیا ۔۔

بھول گئی وہ تھپڑ جو تم نے مجھے مارا تھا ۔۔  اس کا بدلہ لیا ہے میں نے ۔۔   کہتے ساتھ اس نے ایک جھٹکے سے اسے چھوڑا تھا وہ زمین پے گر پڑی ۔۔  تکلیف سے اس کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے تھے ۔۔




Wednesday, 4 December 2024

Aye ishq e junoon | Arfa Khan | Episode 1 | Army base | University | Se...

 

جیسے کہ سر یہ کیس اب میرے انڈر ہے۔ تمام پلانز اور کنڈیشنز میرے مطابق ہوں گی اور رزلٹ آپ کے مطابق ہو گا۔ سر میں وہاں ایک اسٹوڈنٹ کی حیثیت سے جاؤں گا۔ میری شناخت انڈر کور ہو گی۔ میجر راحم نے پلان ترتیب دینا شروع کیا۔ 

تمہیں کسی پارٹنر کی ضرورت ہے؟ کرنل شاہ زیب نے استفسار کیا۔

نہیں سر میں اپنی ٹیم کے ساتھ کام کروں گا کیونکہ یہ کیس میں لیڈ کروںگا تو انسٹرکشنز اور رولز میرے فالو کیے جائیں گے۔ یہ کہہ کر میجر راحم کھڑا ہو گیا۔

کیس خاصا کمپلیکیٹڈ ہے تو ذرا دھیان سے۔ کرنل شاہ زیب نے اپنائیت بھرے لہجے میں کہا۔

سر مجھے چیلنجز ویسے بھی فیسینیٹ کرتے ہیں یو نو ناں ڈونٹ وری۔ میجر راحم نے مسکراتے ہوئے کہا۔

یہ مشورہ میجر راحم کے لیے نہیں بلکہ راحم سکندر کے لیے تھا۔ اس کے شاہ زیب انکل کی طرف سے۔ انہوں نے محبت سے کہا۔




Sunday, 1 December 2024

Dard e dil | Asra Khan | Episode 1 | Gangster | Hero police | Cousin | F...




 

"ویسے یہ بتاؤ شاہ اور فہد کی لڑائی کس بات پر ہوئی تھی؟"

ہانی نے آیان سے پوچھا۔ اب وہ کافی حد تک خود پر قابو پا چکی تھی ساتھ ہی اپنی کچھ دیر پہلے والی حالت کا سوچ کر دل ہی دل میں ڈوب جانے کی خواہش کر رہی تھی۔

"یہ تو نہیں پتا کہ لڑائی کیوں ہوئی؟ بس اتنا پتا چلا کہ وجہ کوئی لڑکی ہے جو شاہ کو پسند تھی اور اسے فہد نے چھیڑنے کی ہمّت کر لی اور بس پھر نتیجہ تمہارے سامنے ہے"

 آیان اسے بتا کر معذرت کرتا اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا۔

"وہ لڑکی جو شاہ کو پسند تھی وہ کون ہو سکتی ہے؟"

 وہ تھوڑی پر ہاتھ رکھتی سوچنے لگی کہ اسی اثنا میں اچانک اسکے ذہن میں جھماکہ ہوا۔

"یار وہ دیکھ آئٹم بڑا ٹائٹ ہے"

فہد کے وہ گھٹیا جملے۔ اور ہاں میں نے وہاں شاہ کو بھی دیکھا تھا وہ مجھے ہی تو دیکھ رہا تھا۔ مطلب کہ وہ لڑکی میں ہوں؟ جسکی وجہ سے شاہ نے اس سے لڑائی کی تھی۔ اوہ نو! پلیز اللّه جی رحم کریں۔ ساری کڑیاں جڑتی جا رہی تھیں ، انجام برا نظر آ رہا تھا۔ ہانی کا سانس کہیں اٹک کر رہ گیا تھا





Saturday, 30 November 2024

Kari dhoop k baad | Bint e Mehmood | Epi 1 #urdunovels #aftermarriageno...

 

 "سر یہ آپ کا بیٹا ہے؟" پچھلی نشستوں سے ایک آواز ابھری تھی۔

 "جی "اس نے جواب دیا تھا اور  وائٹ بورڈ کی طرف بڑھ گیا تھا،ایک ہاتھ سے معاذ کو اٹھاتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے سوال سمجھانے لگا تھا۔

دفعتا معاذ  کی نظر مہر پر پڑی تھی جو تب سے سر جھکا کر بیٹھی ہوئی تھی،ایک بار کے بعد اس نے باوجود خواہش کے معاذ کوآنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔

مہر کو دیکھ کر معاذ نیچے اترنے کے لیے مچلنے لگا تھا، فارس پڑھانے میں اتنا محو تھا  اس نے  بے دھیانی میں معاذ کو نیچے اتار دیا۔

وہ  چلتا ہوا گیا اور مہر کا گھٹنا پکڑ کر اس نے "ماما " پکارا، مہر نے جھٹکے سے سر اٹھایا ،اور اسے دیکھا۔

 یہ دیکھ لینے کے بعد کے وہ اس کی ماما ہی ہے۔۔معاذ خوش ہو کر ماما ماما کی تکرار کرنے لگا تھا۔

فارس نے مڑ  کر اسے دیکھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب ان دونوں کی نظریں ملی تھیں۔

مہر نے فورا نظروں کا زاویہ بدلا تھا اور اپنے ہونٹوں کو اتنی سختی سےدانتوں تلے دبا لیا تھا کہ یوں لگ رہا تھا کسی بھی وقت اس کے ہونٹوں سے خون چھلک پڑے گا۔

فارس فورا اسکی طرف بڑھا تھا اور ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا وہ معاذ کو لیکر کلاس روم سے باہر تھا۔ 




Friday, 15 November 2024

Mohabbat ek jugnoo | Nazish Munir | Epi 1 | Friends base | Innocent girl...

 

"دیکھیے۔۔۔۔"اسے سمجھ نہیں آٸی وہ اسے اپنا بےوقوف بننا کیسا بتائے۔

"دیکھ رہا ہوں بول بھی چکو۔۔۔"وہ اس اور ایکٹنک کی دکان سے سخت عاجز آچکا تھا۔کیا تھی وہ لڑکی۔۔۔

تہزیب نے ایک ہی سانس میں اسے ساری رواد سنا دی۔۔۔وہ منہ کھولے ہونقوں کی طرح اسے کی بات پر کیا ردعمل دے سوچ رہا تھا۔۔۔

تہزیب اسکے تاثرات پر خجل سی ہوگٸی۔۔

مجھے آپکا فون چاہیے۔۔"

"کیوں اب کیا تمھارا اسے لے کر بھاگ جانے کا ارادہ ہے؟"

"آپکو میں ایسی لگتی ہوں۔"

"تم ویسی بھی نہیں لگتی تھی "اسکی حرکتوں سے وہ عاجز آچکا تھا۔وہ منہ بسور کر رہ گٸی۔۔۔داٶد نے بس کے اسٹاف سے بات کی لیکن اماں بی اور اسکی بیٹی کا کچھ معلوم نہ ہوا۔۔۔وقت دو گھنٹہ مزید سرک گیا۔تہزیب نے داٶد کے موبائل کے ذریعے ماموں سے رابطہ کرنا چاہا لیکن حج کے دوران انکا نمبر بند جارہا تھا۔۔وہ دل برداشتہ سیٹ پر ضبط کیے بیٹھی تھی۔





Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...