Showing posts with label Bint e Mehmood. Show all posts
Showing posts with label Bint e Mehmood. Show all posts

Saturday, 30 November 2024

Kari dhoop k baad | Bint e Mehmood | Epi 1 #urdunovels #aftermarriageno...

 

 "سر یہ آپ کا بیٹا ہے؟" پچھلی نشستوں سے ایک آواز ابھری تھی۔

 "جی "اس نے جواب دیا تھا اور  وائٹ بورڈ کی طرف بڑھ گیا تھا،ایک ہاتھ سے معاذ کو اٹھاتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے سوال سمجھانے لگا تھا۔

دفعتا معاذ  کی نظر مہر پر پڑی تھی جو تب سے سر جھکا کر بیٹھی ہوئی تھی،ایک بار کے بعد اس نے باوجود خواہش کے معاذ کوآنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا تھا۔

مہر کو دیکھ کر معاذ نیچے اترنے کے لیے مچلنے لگا تھا، فارس پڑھانے میں اتنا محو تھا  اس نے  بے دھیانی میں معاذ کو نیچے اتار دیا۔

وہ  چلتا ہوا گیا اور مہر کا گھٹنا پکڑ کر اس نے "ماما " پکارا، مہر نے جھٹکے سے سر اٹھایا ،اور اسے دیکھا۔

 یہ دیکھ لینے کے بعد کے وہ اس کی ماما ہی ہے۔۔معاذ خوش ہو کر ماما ماما کی تکرار کرنے لگا تھا۔

فارس نے مڑ  کر اسے دیکھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب ان دونوں کی نظریں ملی تھیں۔

مہر نے فورا نظروں کا زاویہ بدلا تھا اور اپنے ہونٹوں کو اتنی سختی سےدانتوں تلے دبا لیا تھا کہ یوں لگ رہا تھا کسی بھی وقت اس کے ہونٹوں سے خون چھلک پڑے گا۔

فارس فورا اسکی طرف بڑھا تھا اور ایک لمحے کی تاخیر کیے بنا وہ معاذ کو لیکر کلاس روم سے باہر تھا۔ 




Monday, 4 November 2024

Hamrah | Bint e Mehmood | Second marriage | contract base #story #compl...


 

"میں سروگیٹ بننے کو تیار ہوں،کیا وہ مجھے considerکرے گی" نمرہ نے اسکی سماعتوں پہ بم پھوڑا تھا۔

 "کیا تم پاگل ہو گئی ہو۔۔؟؟ " حیرت کی زیادتی سے صاعقہ کی آنکھیں باہر کو ابل آئی تھیں۔

 "نہیں۔۔۔"

"تم مذاق کر رہی ہو نا؟؟"

" ہرگز نہیں۔۔" 

"نمرہ۔۔۔"

 "ہاں صاعقہ! کل اچانک یہ بات میرے ذہن میں آئی۔

اب جبکہ تم نے کہا کہ ابھی تک اسے سروگیٹ نہیں ملی،تو میں سوچ رہی ہوں چانس لینے میں کیا حرج ہے" نمرہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔

 "لیکن نمرہ۔۔۔"

 "دیکھو! مجھے اس وقت کسی محفوظ پناہ گاہ کی ضرورت ہے۔

وہ مالک مکان کسی بھی وقت میرے سر پر پہنچ سکتا ہے۔

آج ،کل یا ابھی اسی وقت بھی۔۔۔

میرے پاس وقت نہیں ہے۔

 مجھے صرف پناہ چاہیے اور کچھ نہیں چاہیے یہاں تک کہ پیسے بھی نہیں،میں اسکو ہر طرح کی گارنٹی دینے کے لیے تیار ہوں اگر وہ کہے تو written میں بھی دے دوں گی۔"

"اور اپنی حفاظت کے لیے تم۔۔۔ کراۓ کی ماں بننے کو تیار ہو،آر یو ایون سیریس ؟؟" اسکی حیرت کم ہونے میں ہی نہیں آ رہی تھی۔

" i am more then serious" اس نے سنجیدگی سے کہا تھا۔




Wednesday, 30 October 2024

Zindagi shajar our main | Bint e Mehmood | Teacher hero | #story #comple...

 زندگی اپنے ڈگر پر چل نکلی تھی کہ میری(اس وقت) پرسکون زندگی میں پتھر "ماہامیر" نے مارا۔

 وہ بی ایس انگلش فورتھ سمسٹر کی سٹوڈنٹ تھی ۔

میں ان کو انگلش ناول کی کلاس پڑھاتا تھا۔

مجھے اس وقت یونیورسٹی میں پڑھاتے ہوۓ ایک مہینہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا ۔

جب ماہا ایک دن میرے آفس میں آئی۔

 اس آفس کو میرے علاوہ دواور پروفیسر بھی شیئر کرتے تھے پر اس وقت میں اتفاق سے اکیلا بیٹھا تھا۔

ماہا کی بات سن کر میں بھونچکا رہا گیا تھا۔

اپنی ستائیس سالہ زندگی میں،ایسی سچویشن میں نے کبھی فیس نہیں کی تھی۔

 اس کی بات سن کر میرا غصہ انتہا پر تھامجھے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ میں کیسے ری ایکٹ کروں۔

"آپ کا دماغ درست ہے آپ کو معلوم ہے،کیا بکواس کر رہی ہیں آپ" میں نے غصے سے دبی آواز میں کہا تھا۔

مبادا میری آواز کمرے سے باہر نا چلی جاۓ۔



Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...