Showing posts with label Kanzul Hayya. Show all posts
Showing posts with label Kanzul Hayya. Show all posts

Friday, 25 April 2025

Sabaz qadam se mubarak qadam by Kanzul Hayya


تم یہاں کیا کررہی ہو لڑکی ، بڑی مامی نے کچن کے اندر داخل ہوکر کہا ۔

امی یہ مجھے کھانا دے رہی تھی۔ غفران نے کہا۔ وہ جانتا تھا کہ غلطی کسی کی بھی ہو اسکی ماں کا غصہ ہمیشہ سارہ کے اوپر ہی نکلتا تھا۔

بیٹا کتنی بار سمجھایا ہے کہ اس منحوس لڑکی سے دور رہو ، یہ سب کو کھا جاتی ہے۔ بڑی مامی نے غصے سے کہا۔

کیا ہو گیا ہے امی آپکو ، کتنی بار سمجھایا ہے کہ آپ ایسی باتیں مت کیا کریں ۔

جبران کی ذندگی اتنی ہی لکھی تھی ، اس میں اسکی کیا غلطی ہے۔غفران اپنا کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔

غفران یہ لڑکی منحوس ہے ، یہ آہستہ آہستہ میرے گھر کو ختم کردیگی۔ بڑی مامی نے غصے سے کہا۔

غفران غصے سے پیر پٹک کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔

تیری وجہ سے میرے بیٹے نے کھانا بھی نہیں کھایا۔ تو اس گھر سے چلی کیوں نہیں جاتی۔ بڑی مامی نے غصے سے کہا تو سارہ کی آنکھوں میں آنسؤ آگے ۔

وہ چاۓ کی ٹرے اٹھا کر کچن سے نکل گئ۔ اب اسکا دل پڑھائ میں کہاں لگنا تھا۔






Wednesday, 26 March 2025

Kabhi tum gussy se kabhi main pyar se by Kanzul Hayya

Child hood nikah , cousin marriage 

 

مہ رخ تو ماشااللہ بہت بڑی اور خوبصورت ہو گئ ہے،

تائ امی مہ رخ کو مسکرا کر گلے لگا کر بولی۔

کیوں أئیں ہیں أپ لوگ یہاں، مہ رخ غصے اور نفرت سے بولی۔

مہ رخ خ۔۔۔۔، ثمینہ بیگم دبا دبا سا چینخی۔

امی مجھے خاموش کروانے سے بہتر ہے کہ أپ ان لوگوں کو دروازے سے اندر أنے ہی نہیں دیتی، ابھی کے ابھی انکو بولیں یہاں سے جائیں، مہ رخ چلا کر بولی۔

بیٹا ٹھنڈ رکھو گھر أۓ مہمانوں کیساتھ ایسا نہیں کرتے ۔

نانو بولے۔

نانو مجھے پتہ ہے کہ گھر أۓ مہمانوں کیساتھ کیسا سلوک کرنا چاہئے، پر مہمان بھی اس لائق ہو، أپ ان سے کہیں کہ یہاں سے جائیں، مہ رخ غصے سے بولی۔

وہاب نے غصے سے اپنی مٹھیاں بھنچ لی ، اپنی بے عزتی بھی بہت محسوس ہوئ لیکن اس لڑکی کو بعد میں سبق سکھانے کا سوچ کر خاموش ہوگیا۔




Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...