Showing posts with label Nazish Munir. Show all posts
Showing posts with label Nazish Munir. Show all posts

Monday, 14 April 2025

Tasawur by Nazish Munir


 Tasawur by Nazish Munir 

"تصور" صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک سفر ہے—ایک سفر جو قاری کو اپنے خوابوں، خیالات اور احساسات کی دریافت کی جانب لے کر جاتا ہے۔ یہ میرا آپ سے ایک مکالمہ ہے، ایک دعوت ہے کہ آپ بھی اپنی سوچوں کے سمندر میں غوطہ لگائیں اور اپنی حقیقت کو دریافت کریں۔

زندگی کے سفر میں انسان بہت سے جذبات سے گزرتا ہے لیکن کچھ جذبات ایسے ہوتے ہیں جو اندر ہی اندر ہماری روح کو کھا جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک جذبہ "حسد" ہے۔ یہ ایک ایسا احساس ہے جو بظاہر معمولی لگتا ہے، مگر اس کی شدت رشتوں، خوشیوں اور سکون کو ختم کر دیتی ہے۔

حسد ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو دوسروں کی کامیابیوں اور خوشیوں پر خوش ہونے کے بجائے ان سے نفرت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ نہ صرف ہماری اپنی زندگی کو برباد کرتا ہے بلکہ ان رشتوں کو بھی ختم کر دیتا ہے جو ہمارے لیے قیمتی ہوتے ہیں۔ یہ کتاب اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ حسد کو قابو میں رکھنا کیوں ضروری ہے اور کس طرح ہم اپنی زندگی کو شکرگزاری، محبت اور خود آگاہی کے ذریعے بہتر بنا سکتے ہیں۔

"تصور" میں کچھ ایسے کردار ہیں جنہوں نے مجھے یہ کتاب لکھنے کی وجہ دی۔ اَشوع، اروحہ، اور عمارہ جیسی لڑکیاں جو حسد اور محبت کی جنگ میں الجھ کر زبردستی کے رشتوں میں بندھ گئیں۔ ہر ایک اپنی آزمائشیں سہہ رہی ہے اور اپنی راحتوں کے لمحے تلاش کر رہی ہے۔ ان کے قصے دل کو چھوتے ہیں، ان کی کہانیاں سچائی اور جذبات سے بھری ہیں، اور شاید اسی لیے میرے دل کے قریب بھی۔


Click on the link to read 




Friday, 15 November 2024

Mohabbat ek jugnoo | Nazish Munir | Epi 1 | Friends base | Innocent girl...

 

"دیکھیے۔۔۔۔"اسے سمجھ نہیں آٸی وہ اسے اپنا بےوقوف بننا کیسا بتائے۔

"دیکھ رہا ہوں بول بھی چکو۔۔۔"وہ اس اور ایکٹنک کی دکان سے سخت عاجز آچکا تھا۔کیا تھی وہ لڑکی۔۔۔

تہزیب نے ایک ہی سانس میں اسے ساری رواد سنا دی۔۔۔وہ منہ کھولے ہونقوں کی طرح اسے کی بات پر کیا ردعمل دے سوچ رہا تھا۔۔۔

تہزیب اسکے تاثرات پر خجل سی ہوگٸی۔۔

مجھے آپکا فون چاہیے۔۔"

"کیوں اب کیا تمھارا اسے لے کر بھاگ جانے کا ارادہ ہے؟"

"آپکو میں ایسی لگتی ہوں۔"

"تم ویسی بھی نہیں لگتی تھی "اسکی حرکتوں سے وہ عاجز آچکا تھا۔وہ منہ بسور کر رہ گٸی۔۔۔داٶد نے بس کے اسٹاف سے بات کی لیکن اماں بی اور اسکی بیٹی کا کچھ معلوم نہ ہوا۔۔۔وقت دو گھنٹہ مزید سرک گیا۔تہزیب نے داٶد کے موبائل کے ذریعے ماموں سے رابطہ کرنا چاہا لیکن حج کے دوران انکا نمبر بند جارہا تھا۔۔وہ دل برداشتہ سیٹ پر ضبط کیے بیٹھی تھی۔





Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...