"م م ۔۔۔ میں
یہ کھانا لائی تھی تمہارے لئے۔۔" وہ ہچکچائی تھی۔ اور جلدی سے نظر چرا کر
باھر نکلنا چاہا ۔۔ اس جلد بازی میں اس کا پاوں کارپیٹ میں اٹکا اور وہ گرنے لگی تھی۔۔ لیکن اس سے
پہلے کہ زمین بوس ھوتی اسے لگا اس نے بے اختیار کوئی چیز تھام لی ہے۔۔ لیکن پھر بھی
وہ زمین بوس ھوگئی۔۔ تاہم نیچے بچھے کارپٹ کی وجہ سے اسے سخت چوٹ نہیں لگی تھی۔۔
جب حواس سلامت ہوئے تو ۔۔۔۔۔۔ اور اپنی بند آنکھیں کھولیں تو پہلی نظر مردانہ ننگی ٹانگوں پر پڑی
تھی۔۔
"آآہ
ہ۔۔۔۔،ت۔۔۔۔تم نے ٹاول کیوں اتارا ہے؟"
آفرین تو دنگ رہ گئی۔۔ زندگی میں پہلی بار اس قسم کی سچوئشن
کا سامنا ہوا تھا۔
اب وہ دونوں آمنے سامنے تھے وہ مبہوت سی
اسے دیکھ رہی تھی اور وہ اندر ہی سورت النور
پڑھ رہا تھا۔
" ماننا پڑے گا
عیسٰی تم پہلے سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت اور سحر انگیز ہوگئے ہو"
وہ بنا تاثر کے اسکی شکل دیکھ رہا تھا اتنا
میک اپ اور فٹ رہنے کے باوجود بھی بڑھاپے کے آثار اس پر غالب تھے وہ اپنی نظروں سے
اسے شیطان لگی تھی۔
"ماضی میں
!!!"
"ماضی گزر گیا ہے
لزیانہ ہم حال میں ہیں بہتر یہی ہے کہ تم مجھ سے وہ بات کرو جو تم کرنے کیلئے ادھر
آئی ہو " وہ خشک لہجہ لئے اسکی بات کاٹ کر بولا۔
وہ اسکے چہرے پر در آئی واضح ناپسندیدگی
کو محسوس کر سکتی تھی۔
"ٹھیک ہے پھر حال
ہی کی بات کرتے ہیں اور بات یہ ہے کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی میں تمھارے سحر سے
نکل نہیں پائی ہوں ، میں چاہتی ہوں کہ ہم پھر سے اپنے تعلقات بڑھائیں اور اس دفعہ
بھی مجھے تمھاری وائف سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا سب کچھ پہلے کی طرح ہی چلتا رہے گا
اب کے ہم کسی کو بھی پتہ نہیں چلنے دیں گے" لزیانہ نے ٹیبل پر دھرے عیسٰی کے
ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے جیسے یقین دلانا چاہا۔
عیسٰی نے اسکے ہاتھ کو دیکھا اور پھر اسے ،
یہ جہنمی عورت آج بھی اسے حرام کی ترغیب دے رہی تھی جب وہ فلز کے حصار کو توڑ سکتا
تھا تو یہ کیا چیز تھی اسنے سختی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کے نیچے سے نکالا اور
کھڑا ہوگیا "جو تم میرے ساتھ کرچکی ہو وہ بھلانا ناممکن ہے آئندہ میرے
راستے میں مت آنا ورنہ تمھارا گلہ دبانے میں مجھے ٹائم نہیں لگے گا
"
وہ دانت چبا کر بولا تھا.
وہ
اسکی بات سنتے شیطانی مسکراہٹ لئے کھڑی ہوئی تھی " وہی غصہ وہی تیور !
پر تمھارا اور تمھارے گھر کا راستہ تو
مجھے پتا ہے" وہ جیسے اسے کچھ جتاتے ہوئے بولی۔
پل میں اسکی آنکھیں کھلی تھیں دل بری طرح
ڈرا تھا سنابل کی اعتبار والی بات یاد آئی
تھی اگر یہ گھر پہنچ جاتی ہے تو اس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوگا جو اسکا گھر
ٹوٹنے سے بجا لیتا ، سوائے اللہ کے، یہی سوچتے
عیسٰی کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں ، پل میں چہرہ غصہ سے تنا
تھا " میرے گھر سے دور رہنا ورنہ " وہ انگلی اٹھاتے وارن کرتے
ہوئے بولا۔
" ورنہ کیا کرو گے
پھر سے وہی غلطی دہراؤ گے " وہ اسکے دائیں گال پر انگلی پھیرتے بولی۔ وہیں
مقابل کے اندر شرارے سے پھوٹے تھے۔ عیسٰی نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ اپنے سے دور کرتے
اسکے منہ پر زور دار تھپڑ مارا تھا کہ پل میں لزیانہ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا
چھا گیا تھا اسنے گال پر ہاتھ رکھے غصے
سے عیسٰی کو دیکھا۔
" اس کے علاوہ اور
بھی میں بہت کچھ کرسکتا ہوں ، میرے معاملے میں ذرا سنبھل کر بات کرنا میں وہ پرانا والا عیسٰی نہیں
رہا ، بہتر ہے کہ تم اب مجھ سے دور رہو سمجھیں" وہ اسے انگلی
اٹھاتا پھر سے وارن کرتا وہاں سے نکل گیا
وہ زخمی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی ۔
" جسے تم
دھوکے کا نام دے رہے ہو ،وہ تو ایک چھوٹی سی ٹرِک تھی مسٹر باقرزمان ! تم سے آگے نکل کر کامیاب ہونے کی،تمہیں مات دینے کی" ریا نے کانفیڈنس سے کہا اب کمزور پڑنا بے کار تھا وہ
سمجھ چکی تھی شہزاد اُس کے ہاتھ لگ چکا تھا ۔
" مجھ سے آگے نکلنے کا کب سوچا؟" غیر یقینی ہی غیر یقینی تھی ،وہ اپنی کرسی پہ
بیٹھ گیا ۔
" ہمیشہ سے سوچا ہوا تھا ،بس انتظار تھا کہ تمہارا
کوئی دشمن ہاتھ لگے جو میرا ساتھ دے۔پھر مجھے اطہر ہمدانی! مل گیا رقابت کی آگ میں
جلتا ہوا،اور اُس آگ میں وہ تمہیں
جلا دینا چاہتا تھا میں نے تو صرف جلتی پہ تیل ڈالا ہے...اور شہزاد
!دولت کا بھوکا،میں نے اُس کی بھوک مٹا
دی"
" صرف پانچ لاکھ لگائی میرے اعتماد کی قیمت...یہ بھی
شائد زیادہ لگا دی تم نے،کیونکہ سچے جذبوں کی
قیمت دوکوڑی بھی نہیں یہاں"
وہ نفی میں سر ہلاتا ہاتھ میز پہ
رکھے اُسے دیکھنے لگا ۔
" دیکھو باقر !
آپ کے یہ فلسفے لیکچرز جذبے اس جنگ میں کام نہیں آتے،جنگ احساسات سے لڑی نہیں
جاتی ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے "
" جنگ...؟"
" ہاں یہ جنگ ہی تو ہے دولت
کمانے کی،مقام مرتبہ حاصل کرنے کی ،کامیابی کی بلندیوں پہ پہنچنے کی ...یہ
ایمانداری وفاداری دوستی اعتماد ان اصولوں پہ چل کے کام نہیں بنتا یہ کمزور لوگوں
کے ہتھیار ہیں " وہ اعتماد سے
بولی۔ " ہتھیار کوئی بھی کمزور نہیں ہوتا ،اہم یہ
ہوتا ہے کہ وہ ہتھیار کس ہاتھ میں ہے ۔وہ ہاتھ
مضبوط ہے یا کمزور ؟" یہ کہہ کر باقر زمان اُٹھ کھڑ اہوا اور فون
اُٹھا کر اسکرین روشن کر لی ماتھے پہ خفیف سی کھچاؤ
کی شکنیں نمودار ہوئی تھیں
"میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔"آفرین نے دھندھلائی
نظروں سے اسے دیکھ کر جلدی سے بات بڑھائی۔
شہرام کے ہونٹوں کے کونے ایک دوسرے میں پیوست ہوگئے۔
جب کہ مسکراتے ہوئے آفرین نے جلدی جلدی اپنا مافی الضمیر بیان
کیا "اگرچہ واقعی میں تم سے شادی
کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ، تو جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ایک
بری لڑکی ہوں۔ میں اس سال 22 کی ہونگی ،
اور میں نے نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے۔ میں ایک قابل عورت ہوں جو گھر اور باہر دونوں
جگہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ مزید
یہ کہ میں اپنے شوہر کا بہت خیال رکھوں گی۔
میں بھی اپنا پیسہ کمانے کے قابل ہوں۔
میں صحت مند ہوں اور مجھ میں کوئی بری عادت نہیں ہے۔ سب سے بڑھ کر ، میں رلیشن میں سچی ہوں۔"
شہرام اسپیچ لیس کھڑا اسے بولتے دیکھتا رہا، پھر اس نے اپنی
آنکھیں مسلیں، اور اسے دوبارہ عجیب نظروں سے گھورا
آفرین نے ہاتھ بڑھایا۔
"میں قسم کھاتی ہوں، کہ آج سے ، میں آپ کے ساتھ اچھا سلوک کروں گی ،اس
کا آپ سے وعدہ کرتی ہوں۔"
"بکواس بند کرو."
شہرام سوری اس کی بک بک سے اتنا تنگ آچکا تھا کہ وہ یکدم اٹھ کھڑا ہوا۔
جب آفرین نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ وہ
واقعی بھت لمبا ہے۔ وہ چھ فٹ اور دو انچ کے قریب تھا ، اور اس کے
علاوہ ،اس کی شخصیت کافی حیرت انگیز تھی۔
اگر تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو تو اپنا برتھ سرٹیفکیٹ لے
کر آئو، اور کل صبح 10 بجے رجسٹری آفس میں مجھ سے ملو۔"
اس شخص نے اپنی جیب میں ایک ہاتھ ڈال کر اسے گھورا۔
آفرین گھبرا گئی۔ اس کے بعد وہ ہڑبڑا کر بولی ، "کیا تم مجھ
سے جھوٹ بول رہے ہو؟"
"یہ تمہیں کل پتا چلے گا۔" شہرام سوری نے پیچھے مڑ کر کہا اور متکبرانہ
چال چلتا پب سے باہر نکل گیا ۔
کہانی اتنی جلدی موڑ کھائے گی آفرین کو بلکل بھی امید نہیں
تھی،وہ ابھی تک کانوں سنے پر بے یقین کھڑی تھی کہ شاید اس نے کچھ زیادہ پی لی ہے۔