Showing posts with label Sang shikan by Abeera Hassan. Show all posts
Showing posts with label Sang shikan by Abeera Hassan. Show all posts

Tuesday, 18 July 2023

Chacha , bhatija romance .. |Sang shikan |Abeera Hassan |Epi 21| Likahri...

 وہ پھولوں کی اس خوشبوں کو سانسوں میں اتارتے ہوئے کھڑکی پر لٹکی ان خوبصورت گلاب کک لڑیوں کو چھو کر دیکھ ہی رہی تھی کہ تبھی روم کا دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا اور روم کو لاک کرکے وہ سیدھا بیڈ کی طرف بڑھا تھا مگر خالی بیڈ کو حیرت سے دیکھتے ہوئے اس نے نظریں گھما کر چاروں طرف دیکھا تھا۔۔ سامنے ہی کھڑکی کے پاس وہ دروازے کی طرف پیٹھ کئے کھڑی تھی۔۔۔ یزدان مسکراتے ہوئے آگے بڑھا تھا اور اس نے امل کے پاس پہنچتے ہی پیچھے سے اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں قید کر لیا تھا۔۔

"اسلام علیکم محترمہ امل یزدان بٹ صاحبہ۔۔۔" وہ ساکت کھڑی امل کے گال کو چومتے ہوئے مسکرا کر بولا مگر خاموش کھڑی حرم کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی تھی۔۔ یزدان نے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ کنٹرول کی تھی کیونکہ وہ اس کی شرمیلی اور ڈرپوک طبیعیت سے اچھی طرح واقف تھا۔۔۔ تبھی اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر وہ بیڈ پر لے آیا تھا۔۔۔

"میں نے کہا محترمہ امل یزدان بٹ صاحبہ سلام۔۔۔ کم سے کم سلام کا جواب تو دے دیں۔۔۔"

یزدان نے امل کو بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے شوخی سے کہا مگر اس نے سر گھٹنوں پر رکھتے ہوئے اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔۔ تبھی یزدان نے مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ اونچا کیا تھا جو آج عام دنوں کے مقابلے بے حد خوبصورت لگ رہا تھا۔۔ وہ سر سے پاؤں تک پور پور یزدان کے لئے سجی تھی۔۔ پیشانی پر سجا خوبصورت ٹیکہ جھومر اور ناک میں پہنی بڑی سے نتھ جو اس کی ٹھوڑی سے نیچے تک لٹک رہی تھی۔۔ یہ آرائش اس کے نازک سے نقوش پر بے حد حسین لگ رہے تھی۔۔۔ یزدان نے دھیرے سے اس کی خوبصورت نتھ کو پکڑ کر اوپر کیا تھا مگر تبھی امل زور سے چیخ پڑی تھی۔۔۔

"آہ۔۔۔ میری ناک ۔۔۔"

وہ پٹ سے آنکھیں کھول کر غصے سے یزدان کو دیکھنے لگی تھی۔۔۔

"افف۔۔۔ سوری سویٹ ہارٹ۔۔۔ بٹ دس از ناٹ رائٹ امل۔۔۔ آپ تو آج کے دن بھی مجھے نظر اٹھا کر دیکھنے کو تیار نہیں ہو رہیں۔۔۔ آپ سے اچھی تو وہ شینا ہے کم سے کم وہ جب جی چاہے بلا جھجھک میرے گلے میں اپنی بانہیں ڈال کر تو کھڑی ہو جاتی ہے۔۔۔ کیا کانفیڈنٹ لڑکی ہے۔۔۔۔"

یزدان مزے سے بولتا ہوا امل کے چہرے کو دیکھنے لگا تھا جس نے شینا کا نام سنتے مشکوک نظروں سے دانی کو دیکھا تھا۔۔۔

"کون شینا۔۔؟؟؟ آپ تو کہتے تھے کہ آپ کی زندگی میں میرے سوا کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ پھر یہ شینا کون ہے۔۔۔؟؟؟ آپ مجھ سے ایسے ہی جھوٹ بولتے ہیں یزدان۔۔ اسی لئے مجھے آپ پر یقین نہیں ہوتا۔۔۔ میں جا رہی ہوں اب۔۔۔ آپ جائیں اپنی شینا کے پاس۔۔۔"

وہ غصے سے بولتی اپنی جگہ سے اٹھنے لگی تھی کہ یزدان نے اس کی چوڑیوں سے بھری

تھام کر ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔۔

"شینا ہو یا رینا۔۔۔ میری امل جیسی کوئی نہیں ہے۔۔ اپنی امل کے سامنے میں کسی اور کو دیکھوں تو بھلے ہی آنکھیں پھوڑ دیجیئے گا آپ کہ قسم اف تک نہیں کروں گا مگر شرط بس ایک ہے کہ بدلے میں میری امل کو بھی مجھ سے ویسے ہی محبت کرنی پڑے گی جیسے میں اپنی زندگی ۔۔ اپنی دھڑکن ۔۔ اپنے جینے کی وجہ ۔۔ اپنی بیوی ۔۔ اپنی امل سے کرتا ہوں۔۔۔۔"

یزدان نے کہتے ہوئے امل کے گالوں کو چوما تھا اور امل کی بولتی بند ہوگئی تھی۔۔۔

"آپ کو میں نے بے حد چاہا ہے۔۔۔ بہت محبت کی ہے امل اور آج میں اپنی محبت کو لفظوں میں نہیں بلکہ اپنے عمل سے ثابت کروں گا۔۔۔"





Tuesday, 4 July 2023

Chacha bhatija ...same same |Sang shikan |Abeera Hassan |Epi 19| Likahri...


 

"حرم آپ کو کراٹے آتے ہیں ناں۔۔۔؟؟؟؟ میرے اشعر کو کراٹے اور کنگ فو سیکھنے کا بہت شوق ہے۔۔۔۔"

یزدان نے بھی جواباً دانت دکھاتے ہوئے کہا جبکہ اس کی بات کا مطلب روفایہ اور حرم کو چھوڑ کر یشعب اور یشار اچھی طرح سمجھ گئے تھے تبھی ان دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی جبکہ اشعر کا منہ لٹک گیا تھا۔۔۔

"مجھے کراٹے کنگ فو آتے ہیں ناں میں اشعر کو سکھا دوں گی مگر مجھے موئے تھائے فائیٹ کا بھی بہت شوق ہے۔۔ وہ مجھے سیکھنی ہے۔۔۔"

حرم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

"وہ میں آپ کو سکھا دوں گا بلکہ پوری ٹریننگ دونگا وہ بھی اشعر کے ساتھ پھر آپ بدلے میں اشعر کو سکھا دیجیئے گا۔۔۔"

یزدان نے مسکراتے ہوئے حرم سے کہا۔۔۔

"بھائی ی ی ی ی۔۔۔۔ مجھے ان "خاتون" سے کچھ نہیں سیکھنا مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔"

وہ احتجاً چیخا تھا۔۔۔۔

"خاتون ہوگے تم ۔۔۔ خبردار جو مجھے خاتون کہا تو ابھی منہ توڑ دوں گی۔۔۔۔"

حرم سب کے سامنے لفظ "خاتون" سن کر بھڑک کر بولی ۔۔۔۔

"معافی خاتون۔۔۔۔"

اشعر نے فوراً اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی اور ایک بار پھر سب زور سے ہنس پڑے تھے اور حرم خود بھی اشعر کی مسکین صورت کو دیکھتے ہوئے کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔۔۔

 

Saturday, 24 June 2023

Boys in action | Sach ab samny aye ga |Sang shikan |Abeera Hassan |Epi ...

 

"مگر آپ مجھے کال تو کر سکتے تھے۔۔۔؟؟؟ جانتے ہیں میں کتنا پریشان ہوگیا تھا۔۔۔"

یشعب نے ایک پرسکون سانس لیتے ہوئے دوبارہ سے اعتراض کیا تھا۔۔ اسے اب سمجھ آگیا تھا۔۔۔ واقعی دانی نے یشار کے ساتھ بلکل ٹھیک کیا تھا اور ساتھ ہی یشعب کو یہ اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کا دانی غلط ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔

"بلکل کر سکتا تھا مگر وہ کیا ہے ناں یش میری جان کہ جب اکیلا پرسکون کمرہ ہو اور بیوی سامنے موجود ہو تو دانی اور اشعر جیسوں کو کون پوچھتا ہے۔۔۔؟؟؟ پھر تو بندہ اپنے دونوں موبائل "ایئر پلین" موڈ پر ڈال کر پرسکون ہو جاتا ہے۔۔۔ اب تمھارا دانی پاگل تھوڑی ہے جو اپنے بچے کو ایسے "حساس" وقت میں "ڈسٹرب" کرکے اس کی بد دعائیں سمیٹتا۔۔۔ پچھلوں کی یاد تو صبح آتی ہے۔۔۔ تب اشعر کو فون بھی کیا جاتا ہے۔۔۔ اپنے فلیٹ پر بلا کر پورے ایک گھنٹے تک ناشتہ بھی بنوایا جاتا ہے اور بیوی کے ساتھ بند روم میں "فائٹنگ فائٹنگ" بھی کھیلا جاتا ہے اور بیوی کے سامنے سے ہٹتے ہی اپنا پرسنل موبائل "ایئر پلین موڈ" سے ہٹایا جاتا ہے۔۔۔ پھر پاکستان سے آنے والی کالز بھی دیکھی جاتی ہیں اور بندہ دانی اور اشعر کو کال کرتا ہے۔۔۔ ویسے اشعر میں نے سنا تھا بیوی خوبصورت ہو تو اس کے سامنے اچھے بھلے بندے کی عقل ماری جاتی ہے مگر اپنے بچے کو دیکھ کر میں اس بات پر سو فیصد ایمان لے آیا ہوں۔۔۔ سچی یششش۔۔ تم اس معاملے میں بھی میرا نام ضرور روشن کرو گے۔۔۔۔۔"

یزدان پورے دانتوں کی نمائش کرتا ہوا شوخی سے بولا تھا۔۔۔۔ جبکہ یشار اور اشعر کے سامنے یزدان کی بے شرمی پر یشعب شرم و خجالت سے سٹپٹا کر رہ گیا تھا۔۔۔ یزدان کی بات سن کر اشعر کھی کھی کرکے ہنسنے لگا تھا اور یشعب نے غصے سے گھور کر اس گدھے کو دیکھا۔۔ یقیناً اسی نے دانی کو صبح کے پورے سین کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔

"امل ٹھیک کہتی ہیں دانی۔۔ آپ بہت بے شرم ہیں۔۔" وہ منہ بنا کر اسے گھورتا ہوا بولا۔۔۔

"ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ ہائے کیا یاد دلا دیا یار۔۔۔؟؟؟ محترمہ امل جہانگیر صاحبہ کی نظروں میں تو مابدولت نے خاصی عزت کما رکھی ہے۔۔۔ ان کی تو بات ہی نہ کرو اور ذرا اپنے

"شیری" کو چپ کرواؤ۔۔ میرا بچہ دو دن سے یا تو سو رہا ہے یا بس رو رہا ہے۔۔۔"

یزدان مزے سے بولتا ہوا دوبارہ اپنی کرسی پر جھولنے لگا تھا۔۔۔ یشعب تاسف سے ایک طرف بیٹھے یشار کو دیکھتا ہوا دوبارہ اس کے پاس گیا تھا اور اسے ایک بار پھر سے کھڑا کرتے ہوئے بغور اس کا چہرہ دیکھا تھا۔۔ وہ بلکل اس کے اور یزدان جیسا تھا۔۔۔ یزدان اس کے پاپا کی شکل تھا یعنی وہ لوگ اپنے پاپا اور چچا میں ملتے تھے۔۔۔۔


Wednesday, 10 May 2023

Leo is...? |Bechari Ruffi |Sang shikan|Abeera Hassan |Episode 12| Urdu ...






وہ اشعر کے ساتھ اس کی گاڑی میں آ بیٹھی تھی۔۔ یشعب انھیں چھوڑنے نیچے تک آیا تھا۔۔۔ روفایہ کو دھیمی آواز میں کچھ ہدایات دینے کے ساتھ ہی اس نے روفایہ کو ایک چھوٹا سا کالے رنگ کا بیگ بھی تھما دیا تھا کہ وہی رقم تھی جو روفایہ نے نکاح والے دن یشعب کو اپنی مدد کے عوض دی تھی۔۔۔

"یہ نکاح آپ کے لئے ایک سودا تھا "روفایہ یشعب" مگر میں نے آپ کو اپنے دل کی مکمل رضا سے اپنایا تھا۔۔۔ یہ وہ تمام رقم ہے جو آپ نے مجھے اس دن دی تھی۔۔۔۔"

وہ روفایہ کی خوبصورت آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا جو رات بھر کے رتجگے اور رونے کے باعث سرخ ہوکر سوج رہی تھیں۔۔۔ یشعب کا دل ایک بار اس کی ان خوبصورت جھیل سی آنکھوں کو دیکھ کر ڈگمگایا تھا۔۔ اس کا دل چاہا تھا کہ وہ ان خوبصورت آنکھوں کے سارے آنسوں اپنے لبوں سے چن لے۔۔ اس کے دل کے سارے درد مٹا کر روفایہ کے خوبصورت ہونٹوں کو مسکراہٹ سے آشنا کر دے مگر فی الحال وہ اپنے دل کی چاہت کو پورا نہیں کر سکتا تھا تبھی ایک گہری سانس کھینچتے ہوئے اپنی نگاہوں کا زاویہ بدل گیا تھا۔۔

جبکہ روفایہ بھی اپنی آنسوں پیتی ہوئی وہ چھوٹا سا بیگ تھامتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔ اس کا دل رات سے درد کا پکا ہوا پھوڑا بن چکا تھا۔۔۔ آنکھیں رات سے آنسوؤں کا سمندر بن چکی تھیں۔۔۔ وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی تھی ۔۔۔ اس کے بیٹھتے ہی اشعر نے گاڑی اسٹارٹ کر دی تھی۔۔۔ یشعب اب بھی باہر ہی کھڑا تھا مگر روفایہ نے ایک نظر بھی اس پر نہیں ڈالی تھی۔۔ اس نے یشعب کا دیا ہوا پیسوں کا بیگ بھی لاپرواہی سے سائیڈ پر ڈال دیا تھا۔۔۔ گاڑی ایئر پورٹ کی جانب گامزن تھی مگر اس کا دل سخت بے چین ہو رہا تھا۔۔۔ اسے پاکستان نہیں بلکہ واپس اپنے گھر "الحیات" پہنچنا تھا لیکن اپنے سامنے موجود اس "گدھے" کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وہ اس چلتی گاڑی سے کیسے نکلتی۔۔۔؟؟؟؟ اشعر موت کے فرشتے کی طرح اس کے سر پر سوار تھا۔۔۔ وہ اپنی آنکھیں صاف کرکے چلتی گاڑی سے باہر کے نظاروں میں گم یہی سوچ رہی تھی کہ وہ کس طرح اس گاڑی سے نکل کر بھاگے مگر اسے کوئی بھی طریقہ نہیں سوجھ رہا تھا۔۔ اس کا فون بھی نجانے کہاں تھا ورنہ وہ حرم یا پھر اپنے باڈی گارڈز کو ہی کال کرکے ان سے مدد لے لیتی۔۔ مگر وہ اس کی مدد کیسے کرتے۔۔؟؟؟ وہ تو رات بھی اسے اکیلے بے یارومددگار چھوڑ کر چلے گئے تھے۔۔ تبھی اس یشعب ازلان بٹ کو اپنی اصلیت دکھانے کا موقع مل گیا تھا۔۔۔ کل رات سے اب تک وہ خود کو جتنا سخت بے بس محسوس کر رہی تھی اتنا مجبور و بے بس تو اس نے خود کو شاید اپنی پوری زندگی میں نہیں سمجھا تھا۔۔ ابھی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے ہی یشعب نے اسے سختی سے وارننگ بھی دے ڈالی تھی کہ اگر وہ شرافت کے ساتھ اشعر کے ساتھ پاکستان چلی جائے گی تو وہ اسے کچھ نہیں کہے گا لیکن اگر اس نے کسی بھی قسم کی چالاکی کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کا ایسا حشر کرے گا کہ روفایہ اس کے نام سے بھی پنہا مانگنے لگے گی۔۔۔ وہ شخص واقعی جنگلی اور وحشی تھا۔۔۔ اس کے جنگلی پن کے مظاہرے وہ رات اچھی طرح دیکھ چکی تھی اور صبح بھی یشعب نے اس کے ساتھ جو جارحانہ رویہ اپنایا تھا اس نے بھی روفایہ کو اس سے بری طرح خوفزدہ کر دیا تھا۔۔۔ آگے بھی وہ اگر اپنی کسی غلطی کے بعد اس جنگلی شخص کے ہتھے چڑھ جاتی تو وہ اس کا جو حال کرتا اسے سوچ کر ہی اس وقت بھی روفایہ کے رونگھٹے کھڑے ہونے لگے تھے۔


Friday, 7 April 2023

Sang shikan by Abeera Hassan| ؑEpisode 8| Leo Kidnap Ruffaya| |Urdu No...

 

"سوری روفی جان ۔۔۔ آپ میرے لئے ایک چیلنج تھیں اور چیلنجز کو پورا کرنا میرا جنون ہے مگر در حقیقت آج میرے بجائے آپ نے ایک مشکل ترین چیلنج پورا کیا ہے۔۔۔ آپ وہ پہلی ہستی ہیں جس نے بنا کسی دقت کے بڑی آسانی کے ساتھ پہلی ہی ملاقات میں "لیو" کی نا قابل تسخیر ذات کو تسخیر کر لیا ہے۔۔۔ " 

ہوش و حواس سے بیگانہ ہونے سے پہلے اس نے اپنے کان کی لو پر کسی کے جلتے لبوں کا لمس محسوس کیا تھا اور یہ مدھم سی سرگوشی بھی اس نے سنی تھی اس کے بعد مکمل بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ اس کا دماغ تاریکیوں میں گم ہوتا چلا گیا تھا۔۔۔  


Saturday, 18 February 2023

Sang shikan by Abeera Hassan| ؑEpisode 1| Hidden Nikah| Forced marriage ...


 

"تیار تو تھی مگر اس بدشکل آدمی نے دیکھو کیا کیا۔۔؟؟؟ پانی پھینک کر سارے کپڑوں کا ستیاناس کر دیا۔۔۔ اندھا کہیں کا۔۔۔ کالی بھیانک صورت والا۔۔۔ اب یہاں کھڑے میری باتیں کیا انجوائے کر رہے ہو۔۔۔؟؟؟ شکل گم کرو اپنی بدصورت انسان اور ایمن تم اوپر جاکر میرے کپڑے نکالو۔۔۔ حرم میں دو منٹ میں چینج کرکے آتی ہوں۔۔۔ تم باہر ویٹ کرو میرا۔۔۔۔"

روفایہ جلدی جلدی بولتی تیزی سے واپس پلٹ گئی۔۔۔ حرم روفایہ کا یہ ازلی مغرور

انداز و لہجہ دیکھ کر تاسف سے نفی میں سر ہلاتی ہوئی دوبارہ باہر چل دی جبکہ کب سے خاموش کھڑا حدید روفایہ کے پیچھے جاتی ایمن کے اشارہ کرنے پر پلٹ کر واپس جانے لگا۔۔۔ روفایہ کے حقارت بھرے جملے سن کر نجانے کیوں وہ طنزیہ انداز میں مسکرا دیا تھا اور پھر پلٹ کر ایک بھرپور نظر دور جاتی اس گھمنڈی لڑکی پر ڈالی جس نے اس پر ہاتھ اٹھا کر خود اپنے لئے غضب کو آواز دے لی تھی۔۔ حدید کو بس صحیح وقت اور موقع کا انتظار تھا۔۔ اس کے بعد کون ہوتا جو اسے حدید سے بچا سکتا تھا۔۔۔؟؟؟ وہ دل میں روفایہ کا انجام سوچتا ہوا وہ تاسف سے سر ہلا کر باہر کی طرف چل دیا۔۔۔ 

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...