Showing posts with label Mohabbat our shajr e mamnua. Show all posts
Showing posts with label Mohabbat our shajr e mamnua. Show all posts

Friday, 9 June 2023

Filzz aa gaye or ....Sanabil ???| | Deeba Sheikh | Epi 27 | Likhari Mag...


 

 نفرت کا لفظ چھوٹا تھا جو وہ اس وقت اس  کیلئے محسوس کررہا تھا "میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم اتنی گھٹیا نکلو گی'"

"تم بھی اتنے گھٹیا نکلو گے میں نے بھی نہیں سوچا تھا کہ اپنی ساری جنسی خواہشات پوری کرنے کے بعد مجھے یوں چھوڑ دوگے" وہ بھی اسی لہجے میں بولی۔

 "بکواس بند کرو اپنی" وہ غصے سے دھاڑا تھا.  عیسٰی کا دل کیا اس باڑ کو پھلانگتے اسکا ٹیٹوا دبا دے اور پھر اس نے ایسا ہی کیا تھا کہ ہاتھ بڑھا کر اسکا گلا پکڑ لیا تھا فلز کی  سانسیں یک دم دب  گئیں تھیں وہ دونوں ہاتھوں سے اس سے اپنا گلا چھڑوانے کی کوشش  کر رہی تھی وہ  بے یقینی لئے پانی بھری آنکھوں سے عیسٰی کے چہرے کی وحشت کو دیکھ رہی تھی۔ 

" جو بھی کچھ ہمارے درمیان ہوا اس میں ہمیشہ تمھاری مرضی شامل رہی ہے میں نے کبھی تمھارا فائدہ نہیں اٹھایا ، اگر تمھاری وجہ سے سنابل کو کچھ ہوا یا میرا گھر خراب ہوا تو میں چھوڑوں گا نہیں تمھیں"وہ جھٹکے سے اسکا گلا چھوڑتا وارن کرتے ہوئے بولا 

فلز نے بری طرح کھانستے اپنی سانسوں کو بحال کرنے کی کوشش کی ، عیسٰی کا رویہ اس کیلئے ناقابل یقین تھا ، وہ اس کے ساتھ ایسے کیسے کر سکتا تھا ؟"مت چھوڑنا!لیکن پہلے اپنی بیوی کو تودیکھ لو غم میں کہیں کسی گاڑی سے نہ ٹکرا گئی  ہو"وہ  پھنکارتی  اسے تپا رہی تھی۔

وہ اسپر لعنت بھیجتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا ، ان عورتوں کے معاملے میں وہ دوسری دفعہ لاپرواہ ہوا تھا منظر سے غائب ہوجانے کی عادت تھی سنابل کی ، چھپ جانے والی تھی۔

Saturday, 27 May 2023

Mohabbat shajr e mamnua | Deeba Sheikh | Epi 24 | Likhari Mag |Urdu Nove...


 

اب وہ دونوں آمنے سامنے تھے وہ مبہوت سی اسے دیکھ رہی تھی اور وہ اندر ہی سورت النور   پڑھ رہا تھا۔

" ماننا پڑے گا عیسٰی تم پہلے سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت اور سحر انگیز ہوگئے ہو"

وہ بنا تاثر کے اسکی شکل دیکھ رہا تھا اتنا میک اپ اور فٹ رہنے کے باوجود بھی بڑھاپے کے آثار اس پر غالب تھے وہ اپنی نظروں سے اسے شیطان لگی تھی۔

"ماضی میں !!!"

"ماضی گزر گیا ہے لزیانہ ہم حال میں ہیں بہتر یہی ہے کہ تم مجھ سے وہ بات کرو جو تم کرنے کیلئے ادھر آئی ہو " وہ خشک لہجہ لئے اسکی بات کاٹ کر بولا۔

وہ اسکے چہرے پر در آئی واضح ناپسندیدگی کو  محسوس کر سکتی تھی۔

"ٹھیک ہے پھر حال ہی کی بات کرتے ہیں اور بات یہ ہے کہ اتنے سال گزرنے کے بعد بھی میں تمھارے سحر سے نکل نہیں پائی ہوں ، میں چاہتی ہوں کہ ہم پھر سے اپنے تعلقات بڑھائیں اور اس دفعہ بھی مجھے تمھاری وائف سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا سب کچھ پہلے کی طرح ہی چلتا رہے گا اب کے ہم کسی کو بھی پتہ نہیں چلنے دیں گے" لزیانہ نے ٹیبل پر دھرے عیسٰی کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے جیسے یقین دلانا چاہا۔

عیسٰی نے اسکے ہاتھ کو دیکھا اور پھر اسے ، یہ جہنمی عورت آج بھی اسے حرام کی ترغیب دے رہی تھی جب وہ فلز کے حصار کو توڑ سکتا تھا تو یہ کیا چیز تھی اسنے سختی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کے نیچے سے  نکالا اور   کھڑا ہوگیا "جو تم میرے ساتھ کرچکی ہو وہ بھلانا ناممکن ہے آئندہ میرے راستے میں مت آنا ورنہ تمھارا گلہ دبانے میں مجھے ٹائم نہیں لگے گا "

وہ دانت چبا کر بولا تھا.

وہ  اسکی بات سنتے شیطانی مسکراہٹ لئے کھڑی ہوئی تھی " وہی غصہ وہی تیور ! پر تمھارا اور تمھارے  گھر کا راستہ تو مجھے پتا ہے" وہ جیسے اسے کچھ جتاتے ہوئے بولی۔

پل میں اسکی آنکھیں کھلی تھیں دل بری طرح ڈرا تھا  سنابل کی اعتبار والی بات یاد آئی تھی اگر یہ گھر پہنچ جاتی ہے تو اس روئے زمین پر کوئی ایسا نہیں ہوگا جو اسکا گھر ٹوٹنے سے بجا لیتا ، سوائے اللہ کے، یہی سوچتے  عیسٰی کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں ، پل میں چہرہ غصہ سے  تنا  تھا " میرے گھر سے دور رہنا ورنہ " وہ انگلی اٹھاتے وارن کرتے ہوئے بولا۔

" ورنہ کیا کرو گے پھر سے وہی غلطی دہراؤ گے " وہ اسکے دائیں گال پر انگلی پھیرتے بولی۔ وہیں مقابل کے اندر شرارے سے پھوٹے تھے۔ عیسٰی نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ اپنے سے دور کرتے اسکے منہ پر زور دار تھپڑ مارا تھا کہ پل میں لزیانہ کی آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا گیا تھا اسنے گال پر ہاتھ رکھے غصے   سے عیسٰی کو دیکھا۔

" اس کے علاوہ اور بھی میں  بہت کچھ کرسکتا ہوں ،  میرے معاملے میں ذرا سنبھل کر  بات کرنا میں وہ پرانا والا عیسٰی نہیں رہا  ، بہتر ہے کہ تم اب  مجھ سے دور رہو سمجھیں" وہ اسے انگلی اٹھاتا پھر سے  وارن کرتا وہاں سے نکل گیا وہ زخمی نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی ۔

Tuesday, 11 April 2023

Sanabil becomes RUDE|Mohabbat our shajr e mamnua |Deeba Sheikh| Part 18|...


 

آنسوں سے بھری آنکھوں سے اس نے عیسٰی کو دیکھا وہ ایک گھٹنا زمین پر ٹکائے اسکے بے حد قریب تھا وہ اسکی قربت سے پریشان ہورہی تھی بدحواس ہورہی تھی۔

 پھر اسکی بات،غصے اور جھجھک کو اگنور کرتے عیسٰی نے فوراً ہی اسکی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے گود میں اٹھایا

"نہیںنن" گرنے کے ڈر سے آنکھیں میچتے سنابل نے بے ساختہ اس کے گریبان کو سختی سےدبوچا تھا 

وہ جو اسکے ناپسندیدہ برے لمس سے ڈر رہی تھی گھبرا،رہی تھی لیکن اس کے چھوتے ہی اسے جھٹکا لگا تھا پاؤں کی تکلیف بھولے اسنے نظر اٹھا کر عیسٰی کو دیکھا اسکے چھونے میں کوئی سختی برا احسا س نہیں جاگا تھا ڈر سے اسکے جسم کے رونگھٹے کھڑے نہیں ہوئے تھے تیزی سے بھاگتا دل انجانے خوف سے بیٹھا نہیں تھا وہ حیران تھی' یہ سب کیا تھا کہ جو لمس آج تھا وہ پہلے نہیں تھا اورجو پہلےتھا وہ آج نہیں ہے، ادھر جیسے ہی سنابل نے ڈر کر اسے پکڑا تھا عیسٰی نے چونک کر اسے دیکھا تھا کیا دل فریب بات تھی اسکی زندگی اسکی بانہوں میں تھی"کچھ لمحے پہلے جو غصے میں ہاتھ نہ لگانے کا کہہ رہی تھی اب سختی سے اسے ہی تھامے ہوئے تھی مہین سی مسکان عیسٰی کے ہونٹوں پر آئی تھی وہ سرشاری لئے دھیان سے سیڑھیاں اترتا نیچے آرہا تھا جیسے کوئی ایوارڈ لے کر سٹیج سے نیچے اتر رہا ہو یہ عجیب سی حرکتیں کرنے والی لڑکی واقعی اس کیلئے اللہ کا انعام ہی تھی اور پتا نہیں کس نیکی کے طفیل عطا کی گئی تھی 

نیچے آکر ہلکا سانس بحال کرتے اسےصوفے پر بٹھا کر خود بھی دایاں گھٹنا زمین پر ٹکائےنیچے بیٹھ کر اس کا جوتا اتارا پاؤں کو ہلکا سا ہلا کر دیکھا وہ اپنی پاؤں کی تکلیف سے زیادہ اسکے چھونے سے پریشان ہورہی تھی بے شک اسکے چھونے میں اب وہ برالمس نہیں تھا لیکن لاشعوری طور پر اسکا اسے ٹچ کرنا اسے اچھا بھی نہیں لگ رہا تھاسی کی طرح کمینہ ہے۔۔

Wednesday, 22 February 2023

Mohabbat our shajr e mamnua | Deeba Sheikh| Part 10| Essa trouble | Rude...

 

"کوئی اور بھی ہے یہاں۔۔۔"احساس جاگتے ہی اسکا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا دہشت سے اسکی آنکھیں پھٹی تھیں ،،،سنسناہٹ  کرنٹ کی طرح اسکی ریڑھ کی ہڈی سے گزری تھی جسم کے رونگٹے کانٹوں کی طرح کھڑے ہوگئے تھے  کہ گلے کی خشکی گرم بھاپ بھی نہ نکال پائی تھی۔

وہ بس اٹھ کر بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن اسکے قدم بھاری ہوگئے تھے وہ مزید ہراساں ہوا تھا کہ آنکھیں پھاڑے اس نے چاروں طرف دیکھا کہ اس اندھیرے میں اسے  مختلف روپ دھاری شکلیں نظر آرہی تھیں ویسی قبریں ویسے مردے جس پر ان کا گینگ مذاق کیا کرتا تھا اس وقت موت مردے قبریں عیسٰی کیلئے مذاق تھے پر آج۔۔۔اسے لگا قبریں شق  ہورہی ہیں دھواں نکل رہا ہے مردے ایک کے بعد ایک سفید لباس پہنے اٹھ رہے ہیں

خوف سے اسکے جبڑے گرنے کے در پر تھےکیل کی طرح ایک حقیقت اسکے دماغ میں ٹھک رہی تھی

" خوف حقیقت ہے موت مذاق نہیں " اسکا لا شعور ہی اسکے شعور میں گھس کر یہ منظر گری کر رہا تھا اور یہ اللہ کا کمال ہے اسے اپنا آپ ظاہر کرنے کیلئے کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی وہ انسان کو اسی کے ذہن سے مات دیتا ہے اور عیسٰی اس وقت مات کھا رہا تھا اور بہت بری طرح شکست خورہ ہو رہا تھا

٭٭٭٭

"موت مذاق نہیں ہوتی وہ جب اسکے معصوم بچے کو دبوچ سکتی ہے تو اسے کیوں نہیں؟"

یہی سوچتے وہ بری طرح ہواس باختہ ہوا تھا وہ کھڑا ہونا چاہتا تھا بھاگ جانا چاہتا تھا لیکن وہ اٹھ نہیں پارہا تھا

 جیسے کسی طاقت نے اسکے گھٹنوں پر وزن  ڈال کر انہیں زمین سے جوڑ دیا ہو ۔وہ کوشش کر رہا تھا پھر بھی وہ اٹھ نہیں پا  پارہا تھاوہ اب صحیح دہشت میں آیا تھا۔

تبھی وہ بوکھلائے ہوئے مدد کیلئے چیخاتھا لیکن اسے لگا کہ اسکی آواز حلق سے نکل ہی نہیں پا رہی۔

وہ آنکھیں  میچے لرزتے رویا تھا۔

 "تمھیں خوف نہیں آتا"؟اسکے کانوں میں سرگوشی ہوئی تھی

" کس سے"؟

"اللہ سے،"

"اللہ سے" وہ تمسخر سے ہنسا،،،

"آئے گا ایک دن تمھیں  بھی اللہ سے خوف آئے گا جب وہ تمھیں تمھاری اوقات دکھا کر منہ کے بل پھینکے گا"

"ہاں"۔۔۔وہ بھی  منہ کے بل پھینکا گیا تھا ۔

"اس دن تمھیں پتا چلے گا کہ وہ کتنا طاقت ور ہے اور تمھارے ساتھ کیا کیا کرسکتا ہے وہ ہر چیز دینے اور پھر لے لینے پر قدرت رکھتا ہے"

" ہاں "وہ بھی آزمایا گیا تھا،،،اسے بیٹے کی نعمت دی گئی تھی اور واپس بھی لے لی گئی تھی اسے لگا ہر قبر سے سنابل نکل کر اسے یہی کہہہ رہی ہو۔

"او۔۔ہ گاڈ ہیلپ میں۔مجھے جانے دو یہاں سے۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے،میییں مر جاؤں گا۔میں" میں اٹھ کیوں نہیں پارہا" اسکے کندھے وزن سے جھکتے جارہے تھے وہ پھٹی آنکھوں سے بندر کی طرح چاروں طرف دیکھ رہا تھا پر کوئی نہیں تھا کوئی نہیں !!!

وہ  پھر حلق کے بل چلایا تھا خوف خون کی طرح اسکے جسم سے گزر کر اپنا آپ منوا رہا تھا اسے اللہ یاد آرہا تھا

" اللہ رحم کرو" پلیزززز !!! مجھے یقین ہے مجھے اللہ کے خوف پر یقین ہے" تحاشا روتے اسکے منہ سے نکلا تھا۔وہ بے ربطگی سے روتے کچھ اور بھی کہہ رہا تھا!!! اسکی کنپٹیاں خوف سے پھٹنے کے قریب تھیں کہ دل ڈر کر اپنی جگہ بدلنے والا تھا کہ!!!

 کچھ دیر بعد دباؤ  کم ہوتے ہوتے ختم ہوگیا تھا  تبھی اسے اپنی ٹانگوں میں جان پڑتی  محسوس ہوئی تھی۔

وہ ہمت پڑتے ہی  خوف سے لرزہ وہاں سے  اٹھا تھا  کہ اسے لگا  اگر وہ یہاں ایک سیکنڈ بھی رہا تو دبوچ لیا جائے گا وہ آٹھتے ہی بھاگا تھا لیکن ٹانگوں کے سن ہونے سے وہ یک دم گر پڑا تھا وہ دہشت زدہ ہورہا تھا تبھی وہ گرتے پڑتے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے  وہاں سے بھاگا تھا۔


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...