قریب پہنچ کر اپنا بایاں بازو بڑھا کر اس کے چہرے کے قریب دیوار پر رکھ دیا۔ اب
دائیں طرف کپ بورڈ تھا۔اور بائیں طرف شہرام کا بازو۔جو اس کے چہرے کے قریب تر کان کوچھو
رہا تھا۔اس کی گہری آنکھوں میں اس وقت ایک سحر سا چھایا تھا جو سامنے والے کو مسحور
کرکے بے بس بنادینے کے درپے تھا۔
آفرین کا دل اس کے سینے میں زور سے دھڑکنے لگا۔اس کے خوبصورت چہرے پر وہ زیادہ
دیر نگاہ جما کر دیکھ نہیں سکی تھی۔ لیکن نگاہیں تھیں جو اسے دیکھنے کے جرم پر اکسا
رہی تھیں۔۔
گرم گرم سانسوں کی تپش سے آفرین کا وجود جھلسنے لگا۔اس نے بے اختیار مٹھیاں بھینچ
لیں۔آفرین کے لئے یہ سہنا اذیت ناک تھا۔۔ کافی اذیت ناک۔
آفرین نے اپنا چہرہ دور کردیا۔شرم
سے وہ نظریں بھی نہیں ملا پارہی تھی
"تمہاری یہ
جھوٹ بولنے کی عادت بہت بری لگتی ہے مجھے آفرین بیگم۔۔میں اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔ تم
نظر کب چراتی ہو؟ تب۔۔۔جب تم جھوٹ بولتی ہو۔"اس
کی پتلی کمر کو اپنے بازوؤں کے حصار میں لے کر، اس کی آنکھوں میں گھورتے ہوئے چبھتے
لہجے میں بولا۔"تم کمپنی کی انیورسری اٹینڈ کرنے گئی تھی نا۔۔۔۔کس نے پریشان کیا
ہے تمہیں؟ کس نے حراساں کیا ہے بولو۔۔؟"
"آں۔۔۔۔!! میں
کمپنی کی چیئروومین ہوں۔۔۔۔بھلا مجھے کون حراساں یا پریشان کرسکتا ہے؟" اس نے
اسکے سچ کو جھٹلانے کی کوشش کی اور نظریں جھکائے رکھیں کہیں اس میں رقم کہانی کو شہرام
بھانپ نہ لے۔"میں تھک چکی ہوں۔جاکر شاور لوں گی. "اسے خود سے دور کرکے وہ
اوپرجانے کو مڑی۔
"میرے اعصاب
سے مت کھیلو آفرین "وہ اسے اپنی طرف کھینچ کر دھاڑا۔۔۔"صاف نظر آرہا ہے کہ
تم کس قدر پریشان ہو۔۔۔۔میں تمہارا شوہر ہوں۔بہتر ہے مجھے سچ بتاؤ۔۔ورنہ مجھے تو تم
جانتی ہی ہو۔اصل بات کا پتا لگانا میرے لئے مشکل نہیں۔۔ لیکن اس کے بعد۔۔۔۔ اپنے جھوٹ
بولنے کی سزا کے لئے تیاررہنا۔"اس نے خبردار کیا۔۔اور آفرین واقعی بھی ڈر گئی۔
شیشے کچن ڈور کی جھری سے آتی، کھانے کی مزیدار خوشبو اس کی
بھوک کو مزید بڑھارہی تھی۔
شہرام نے نظر گھمائی جب اتفاقا اس کی نظر ڈائننگ ٹیبل پر پڑی،
جہاں چینی کے باول میں پڈنگ تھی، جس کے اوپر
فوڈ کلر سے "ھیلو کٹی" لکھا ہوا تھا، جو یقینا بلی کے لئے ہی
بنائی گئی تھی، لیکن شہرام کی مت ماری گئی۔۔ اس وقت بھوک کی وجہ سے اس کی سوچنے
سمجھنے کی صلاحیت مکمل سلب ھوچکی تھی۔ اس نے بنا سوچے سمجھے، پیالا اٹھایا اور ایک
اسپون بھر کر منہ تک لایا۔۔۔۔ مزیدار خوشبو کے ساتھ ساتھ ذائقہ بھی نہایت اعلی
تھا۔ جیسے جیسے وہ کھاتا گیا طلب بڑھتی گئی۔۔ اس نے یہ جانا کہ پڈنگ میں چکن اور
دوسرے نامعلوم اجزاء شامل ہیں۔
یہ آج تک کے ویسٹرن ریسٹورانٹ میں کھائی گئی تمام پڈنگز سے یکسر
مختلف تھی،
بڑی بات یہ کہ اس میں چکنائی کی مقدار بھی کافی کم تھی۔ جو
کہ مکمل حفضان صحت کے اصولوں کے مطابق تھی۔۔
اس نے منہ بھر بھر کر چمچ لئے۔۔ اور کچھ منٹ میں ہی پیالہ
خالی کردیا۔۔
ٹھیک اس وقت آفرین باقی کھانے کی پلیٹز لئے کچن سے باہر آئی۔
اسے دیکھ کر اس کی آنکھیں سرپرائیزنگ انداز میں کھلیں اور پیاری
سی مسکراہٹ نے چہرے کا احاطہ کرلیا۔
"تم واپس
آگئے ۔۔ شانی۔۔"
پھر یکدم سے اس کی آنکھیں پھٹی پھٹی سی رہ گئیں۔۔ جب اس نے
شہرام کے ھاتھ میں بلی کے لئے بنائی گئی پڈنگ کا پیالا دیکھا۔۔
شہرام نے ساری کھیر کھالی تھی۔
اوھ گاڈ !، یہ تو بلی کا کھانا تھا۔۔۔!
آفرین کی مسلسل نظروں نے شہرام کو تھوڑا سا پزل کیا، وہ دل
میں یہ سمجھا کہ آفرین، اسکے اپنی بنائی گئی چیز کھانے کی وجہ سے خوش ہے۔یہ سوچ
آتے ہی اس نے ہلکا سا کھانس کر گلا صاف کیا۔
"تم نے جو
پڈنگ بنائی تھی بھت ٹیسٹی تھی۔۔"
آفرین بلکل فریز ہوگئی تھی، وہ اس تذبذب میں کھڑی تھی کہ
اگر وہ سچ بتائے گی کہ یہ شہرام کے لئے نہیں بلکہ بلی کے لئے تھی، تو یقینا وہ اسے
غصہ میں قتل ہی کرلے گا۔۔
آخر کافی دیر تک حساب کتاب کرتے آفرین زبردستی مسکرائی۔۔
"م م ۔۔۔ میں
یہ کھانا لائی تھی تمہارے لئے۔۔" وہ ہچکچائی تھی۔ اور جلدی سے نظر چرا کر
باھر نکلنا چاہا ۔۔ اس جلد بازی میں اس کا پاوں کارپیٹ میں اٹکا اور وہ گرنے لگی تھی۔۔ لیکن اس سے
پہلے کہ زمین بوس ھوتی اسے لگا اس نے بے اختیار کوئی چیز تھام لی ہے۔۔ لیکن پھر بھی
وہ زمین بوس ھوگئی۔۔ تاہم نیچے بچھے کارپٹ کی وجہ سے اسے سخت چوٹ نہیں لگی تھی۔۔
جب حواس سلامت ہوئے تو ۔۔۔۔۔۔ اور اپنی بند آنکھیں کھولیں تو پہلی نظر مردانہ ننگی ٹانگوں پر پڑی
تھی۔۔
"آآہ
ہ۔۔۔۔،ت۔۔۔۔تم نے ٹاول کیوں اتارا ہے؟"
آفرین تو دنگ رہ گئی۔۔ زندگی میں پہلی بار اس قسم کی سچوئشن
کا سامنا ہوا تھا۔
"میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔"آفرین نے دھندھلائی
نظروں سے اسے دیکھ کر جلدی سے بات بڑھائی۔
شہرام کے ہونٹوں کے کونے ایک دوسرے میں پیوست ہوگئے۔
جب کہ مسکراتے ہوئے آفرین نے جلدی جلدی اپنا مافی الضمیر بیان
کیا "اگرچہ واقعی میں تم سے شادی
کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ، تو جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں ایک
بری لڑکی ہوں۔ میں اس سال 22 کی ہونگی ،
اور میں نے نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے۔ میں ایک قابل عورت ہوں جو گھر اور باہر دونوں
جگہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ مزید
یہ کہ میں اپنے شوہر کا بہت خیال رکھوں گی۔
میں بھی اپنا پیسہ کمانے کے قابل ہوں۔
میں صحت مند ہوں اور مجھ میں کوئی بری عادت نہیں ہے۔ سب سے بڑھ کر ، میں رلیشن میں سچی ہوں۔"
شہرام اسپیچ لیس کھڑا اسے بولتے دیکھتا رہا، پھر اس نے اپنی
آنکھیں مسلیں، اور اسے دوبارہ عجیب نظروں سے گھورا
آفرین نے ہاتھ بڑھایا۔
"میں قسم کھاتی ہوں، کہ آج سے ، میں آپ کے ساتھ اچھا سلوک کروں گی ،اس
کا آپ سے وعدہ کرتی ہوں۔"
"بکواس بند کرو."
شہرام سوری اس کی بک بک سے اتنا تنگ آچکا تھا کہ وہ یکدم اٹھ کھڑا ہوا۔
جب آفرین نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ وہ
واقعی بھت لمبا ہے۔ وہ چھ فٹ اور دو انچ کے قریب تھا ، اور اس کے
علاوہ ،اس کی شخصیت کافی حیرت انگیز تھی۔
اگر تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو تو اپنا برتھ سرٹیفکیٹ لے
کر آئو، اور کل صبح 10 بجے رجسٹری آفس میں مجھ سے ملو۔"
اس شخص نے اپنی جیب میں ایک ہاتھ ڈال کر اسے گھورا۔
آفرین گھبرا گئی۔ اس کے بعد وہ ہڑبڑا کر بولی ، "کیا تم مجھ
سے جھوٹ بول رہے ہو؟"
"یہ تمہیں کل پتا چلے گا۔" شہرام سوری نے پیچھے مڑ کر کہا اور متکبرانہ
چال چلتا پب سے باہر نکل گیا ۔
کہانی اتنی جلدی موڑ کھائے گی آفرین کو بلکل بھی امید نہیں
تھی،وہ ابھی تک کانوں سنے پر بے یقین کھڑی تھی کہ شاید اس نے کچھ زیادہ پی لی ہے۔
"شہرام مم۔۔مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔"اس نے کانپتے ہونٹوں سے بمشکل لفظ ادا کئے۔
وہ
اسے ایسے گھور رہا تھا جیسے اسے جانتا ہی نہ ہو۔ جیسے اس کے سامنے کوئی اجنبی عورت
کھڑی ہو۔
کیونکہ
اس کا باڈی گارڈ آفرین کو نہیں جانتا تھا۔اسی لئے قریب آکر اسے بازو سے کھینچ کر
دھکیلا جس سے وہ نیچے گر پڑی۔ گارڈ سمجھا وہ مالک کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی
ہے۔
پتھریلے
تاثرات کے ساتھ شہرام اسے نظر انداز کرکے لفٹ میں گھس گیا۔اپنے درد کو برداشت کرتی
آفرین جلدی سے اٹھ کر اس کے طرف بھاگی۔
"شہرام۔۔۔میں راضی ہوں۔۔ تم جو بھی کہو گے میں ماننے کو تیار
ہوں۔۔۔۔ہر بات ماننے کو تیار ہوں۔۔ لیکن ولید اور اس کی کمپنی کو مسئلے سے
نکالو۔۔۔۔پلیزززز ۔۔"وہ التجائیہ انداز میں
روہانسی ہوکر بولی ۔لفٹ چل چکی تھی۔شہرام اس کی بات پر دنگ رہ گیا۔(یہ عورت
صرف ولید کی کیئر کررہی ہے۔۔) اس کے اندر اشتعال سا اٹھا۔مٹھیاں بھینچ گئی۔ہونٹ
باہم مل گئے۔
تھوڑی
دیر بعد ہی اس کے ہونٹ معنی خیزی سے مسکراہٹ میں ڈھلے۔
"مجھے یاد نہیں میری ڈیمانڈ کیا تھی؟"
آفرین
اس کے الفاظ دز میں چلی گئی۔(یہ وہ کیا کہہ رہا تھا؟ کیا وہ اس کے منہ سے سننا چاہ
رہا تھا؟)اس نے بے اختیار اردگرد لفٹ میں ان دونوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔
کچھ
دیر سوچنے کے بعد اسے یاد آیا کہ وہ کیا سننا چاہ رہا تھا؟ شہرام واقعی سخت کمینہ ثابت ہوا تھا۔ اس نے دل
ہی دل میں اسے گالیوں سے نوازا۔
"مم۔۔۔میں آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔"الفاظ اس کے حلق میں اٹک گئے
تھے۔
"آپ کے ساتھ کیا؟ " شہرام نے مزا لیا۔اور اس کے قریب
جھک آیا ۔آفرین اپنے کانپتے ہوئے ہونٹ کاٹنے لگی۔وہ اس وقت سخت تکلیف میں تھی ۔یہ
بھت زیادہ تھا۔۔
"کیا تم۔۔۔یہ سمجھ رہی ہو کہ میرے ساتھ سونے سے، ہر چیز ٹھیک
ہوجائے گی ۔تمہیں کوئی پچھتاوا نہیں ہوگا؟ "اس نے آفرین کی آنسو برساتی
آنکھوں میں جھانکا۔اندر سے وہ خود کو ان پانیوں میں ڈوبتا محسوس کررہا تھا لیکن
اسے آفرین کو سزا دینی تھی ولید کے ساتھ منگنی کرنے اور تعلق رکھنے کی سزا۔
آفرین
شدت سے رونے لگی۔ اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔سر جھکائے سرخ چہرے کے ساتھ وہ بری
طرح رورہی تھی۔
"پتا ہے تم مجھے کب بہت پیاری لگتی ہو؟ تب۔۔۔جب تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں
آنسو آتے ہیں۔اور اس حسین مکھڑے پر ڈر و خوف کے تاثرات آتے ہیں۔ھاھا۔۔ اس سے میرے
اندر تمہارے لئے ھمدردی بڑھتی ہے۔"اس نے اس کے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر اپنے
سامنے کیا۔"میں تم کو ایک اور موقعہ دیتا ہوں۔۔میرے ساتھ آؤ۔
’’تم…۔۔تم
واقعی ایک شیطان ہو ۔‘‘ آفرین کے ہونٹ پھڑکے اور وہ کانپنے لگی۔ وہ اب بھی اس سب کے لئے خود کو تیار نہیں کرپائی
تھی۔
شہرام
اس کے قریب جھک آیا اور اس کے کان کے پاس شیطانی لہجے میں سرگوشی کی۔"ہاں۔۔۔ہوں
میں شیطان۔۔۔اگر تم اس سب کے لئے راضی نہیں ہو تو کیوں آئی ہو اس شیطان کے
پاس؟ تمہیں اب بھی اجازت ہے۔۔۔جاسکتی ہو۔"
"ٹھٹھ۔۔۔ٹھیک ہے۔۔۔مم۔۔۔میں تمہارے ساتھ چلوں گی۔"بھرائی آواز میں بے بسی
سے کہہ کر آفرین نے اس کا بازو تھام لیا۔