Friday, 7 July 2023

Welcome to the game | An dekha tilism | Ammara Fatima | Thriller | Epi 1...

 

وہ ان کو دیکھتی رہی ۔

"welcome to the game

How was your first surprise?

"گیم میں خوش آمدید، پہلا سرپرائز کیسا لگا ؟"

کھڑکی سے آتی تیز دھوپ  اس کے سرد ہوتے چہرے پہ پڑتی اس کے اڑتے رنگ کی گواہ تھی۔اس نے آئینے سے ہی دیکھا۔ وہ کھڑکی جس پہ بھاری پردے تھے اب وہ مکمل کھلی ہوئی تھی۔دونوں پٹ پوری طرح کھلے تھے۔یہاں تک کے پردے بھی ایک طرف تھے۔

وہ بوکھلا کر پھر دروازے کی جانب لپکی۔قدموں میں لڑکھڑاہٹ صاف واضح تھی۔

"مما۔۔ وشمہ۔۔۔! " وہ چیختے ہوۓ واپس نیچے آئی تھی۔

"مما۔۔۔۔ اوپر۔۔۔۔ اوپر۔۔۔ " آنکھوں سے بہتے آنسوں اور پھولے سانسوں میں وہ بمشکل ہی بول پا رہی تھی۔ 


Thursday, 6 July 2023

Baqr sach samny ley aya ..|Safer e maan epi 13 Part 1| Mahnoor Ahmed | L...


 

"سب اکٹھے ہیں تو میں بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں ،بہت سوچا ہے میں نے ،اور یہی فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم کو شادی..."

" نہیں ہو سکتی"   باقر زمان  نے گلزار احمد کی بات پوری نہیں ہونے دی درمیان میں کاٹ کر بول پڑا تھا سب سے زیادہ چونکا ذوہیب تھا اور اُس کا رنگ بھی بدلا تھا ،باقی سب بھی بے آرام ہوئے تھے ۔       " کہنا کیا چاہا رہا ہے تو؟"    لہجہ خشک ہوا تھا ۔ " یہی کہ اصباح  کی شادی میں ذوہیب سے نہیں کر سکتا...اب جبکہ میں اس کی اصلیت اور ظرف  جان چکا ہوں تو یہ ناممکن ہے کہ..."

"باقر ! ...کُھل کے بات کر،ہوا کیا ہے ،کس اصلیت کی بات کر رہا ہے تو ،پہلیاں نہ بجھوا،سیدھی بات کر"  بیبو جی ! نے مداخلت کی۔                

" خود ہی بتا دو ذوہیب !  تمہیں کتنی نفرت ہے مجھ سے،اس نفرت میں تم کس حد تک جا سکتے ہو...یہاں تک  کہ مجھے جان سے بھی مار سکتے ہو...ہوں"     دانت پیس کر باقر زمان مخاطب تھا ضبط کئیے بمشکل۔

"الزام لگا رہے تم مجھ پر،کچھ نہیں کیا میں نے"  ذوہیب کا لہجہ مستحکم تھا کوئی لچک کمزوری نہیں تھی   وہ ایک دوسرے سے ایسے مکالمہ کر رہے تھے جیسے کمرے میں اکیلے تھے اور کوئی موجود نہیں تھا مگر ایسا تھا نہیں وہاں اور لوگ بھی موجود تھے جو اب بے حد حیران تھے ششدر تھے ان دونوں کی باتوں کو سمجھ نہیں پا رہے تھے۔

"  تو اُس نے  یہ نئی پٹی پڑھائی ہے آپ کو،اس لئیے گئی تھی یہاں سے وہ "  اصباح نے اچانک آ کر بے جا مداخلت کی اور کرخت   بے باک پُر اعتماد لہجہ اپنایا تھا ،ذوہیب کو بہت آسرا ملا تھا  سکھ کا سانس لیا تھا وہ ہلکا سا مسکرایا تھا بھائی بہن آمنے سامنے تھے۔وہ جانتا تھا اصباح اُس کے خلاف کچھ نہیں سنے گی جوابی وار ضرور کرے گی،پہلے تو وہ اُس سے خفا تھا کہ  عین موقع پر اُس نے بھاگنے سے انکار کر دیا تھا مگر اب  اُس کی آمد ذوہیب کو غنیمت لگی تھی۔

"کس کی بات کر رہی ہو تم ؟"  باقر زمان نے پیشانی پہ بل ڈالے  پوچھا۔           " شنایا کی اور کس کی...اسی نے بھیجا ہے ناں آپ کو  ،مجھے اُس پر اعتبار کرنا ہی نہیں چاہیے تھا "      اُسے افسوس تھا اورباقر زمان نے ناسمجھنے والے انداز میں آئبرو اُچکائے  اور چہرہ پھیر کر بیبو جی! کی طرف دیکھا  تو وہ بولیں۔           

" شنایا چلی گئی ہے یہاں سے کل رات"   مگر اس بات پر باقر زمان نے کوئی خاص ری ایکشن نہیں دیا جیسے  اُسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا  وہ نارمل ہی رہا  ویسے بھی وہ کون سا اُس کے لئیے اہم تھی جو اُس کے آنے جانے ،ہونے یا  نہ ہونے  سے  اُسے کوئی فرق پڑتا وہ تو کبھی  بھی اُس کے لئیے تھی ہی نہیں،ہوتی تو جانے کا غم یا ملال ہوتا۔

" تم نہیں جانتی  یہ انسان کتنا دھوکے باز ہے فریب کر رہا ہے تمہارے ساتھ...جاؤ یہاں سے "    آرام تحمل سے سمجھایا ۔                  "    بھائی آپ..."  اصباح نے بولنا چاہا۔     "  جاؤ یہاں سے اصباح" وہ گرجا ۔

" باقر..."  بیبو جی! نے ٹوکا  وہ    اگلے ہی پل سنبھلا  بیبو جی! کی موجودگی   نے اُس کے ہاتھ پاؤں اور زبان مقفل کر دی تھی وہ اکیلا ہوتا تو اب تک ذوہیب کا گلا دبوچ چکا ہوتااب تو اُسے مزید غصہ تھا کہ اصباح  اُس کی وجہ سے  سامنے آ کھڑی ہوئی تھی بےباکی پہ اُتر آئی تھی۔اُس کا ضبط بے   ضبط ہونے کے قریب تھا۔

" بات کیا ہے باقر! کیا بولے جا رہا ہے تو؟" 

" شکر کریں میں  صرف بول رہا ہوں ورنہ اس نے  اتنی کسر چھوڑی نہیں کہ اس سے بات کروں" 

"کیا کیا ہے اس نے؟"   نفیسہ نے پوچھا۔

" قاتلانہ حملہ ...مجھ پر،مروانے کی کوشش کی ہے اس نے مجھے،میری زندگی تھی جو گولی میرے سینے کی بجائے بازو میں  لگی۔لیکن بہتر تھا سینے کے آرپار ہو جاتی"  اُس نے اصباح کی طرف دیکھ کر کہادکھ سے۔

"یہ الفاظ نہیں کوئی  دھماکا تھا جو  سب کے ہوش اور  چیتھڑے اُڑا لے گیا تھا   سب  کُھلے منہ اور پھٹی آنکھوں سے باقر زمان کی طرف دیکھ رہے تھے ایک بیبو جی! تھیں جن کی نگاہیں ذوہیب کے پل پل چہرے کے  بدلتے  رنگ پہ تھیں۔     "  کیا کہہ رہا ہے باقر؟"          بیبو جی ! نے ذوہیب سے  دوٹوک پوچھا،وہ بول نہیں سکا خشک لبوں پر زبان پھیری،سب کی نظریں اُس پر جم گئیں   وہ اُس کے جواب کے منتظر تھے اُسے کوفت محسوس ہوئی اُلجھن،وہ  بوکھلایا ہوا گویا ہوا۔         "  جھوٹ بول رہا ہے یہ،میں نے نہیں کروایا وہ تو اُس نے  " ذوہیب حیران تھا باقر زمان کو ساری حقیقت کا علم ہوا کیسے تھا اُنہوں نے تو بڑی پلائننگ سے اطہر کو پھنسایا تھا پھر کیسے؟

" اُس نے کس نے؟...بول ذوہیب "     بیبو جی! نے  پُرتپش انداز میں پوچھا ،وہ نہیں بولا۔

" تو اتنا کیسے گِر سکتا ہےذوہیب! اپنا ہی خون بہانے لگا  شرم لحاظ کہاں رکھ کے بھول گیا ہے تو...کیوں کیا ایسا جواب دے"    

" نہیں کروایا میں نے کتنی بار بتاؤں...وہ تو اُس "

"کس نے...؟"  بات دہرائی بیبو جی ! نے گلزار احمد بھی پوچھنے لگا نفیسہ نے بھی بازو پکڑا وہ گھبرا گیا اتنا طاقت وار تو تھا نہیں اگر ہوتا تو یوں چھپ کے نہ وار کرتا پھرتا۔

" ر...ریا نے کروایا تھا یہ جانتا ہے اچھی طرح" وہ بوکھلاہٹ میں کیا بول گیا تھا یہ اندازہ اُس پل  ذوہیب کو نہیں تھا  مگر وہ اپنے ہی لفظوں کے جال میں پھنس چکا تھا ۔

"ریا ...یہ کون  ہے؟"  نفیسہ نے لب ہلائے تھے۔

" یہ ہے ریا"  اگلے ہی پل باقر زمان  نےہاتھ  سیاہ   چادر کے  نیچے سے نکالا   جو اُس نے   ڈارک    براؤن سوٹ پہ  اُوڑھ   رکھی تھی  جیب سے  کچھ تصویریں نکالیں   اور  ذوہیب پر اُچھال دیں اور پیچھے ہٹ کر کھڑا ہو  گیا دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے۔ایک تصویر اصباح تک پہنچی جس میں ذوہیب نے اُنگلی ریا  کے گلابی لبوں پر رکھی ہوئی تھی اور محبت پاش نگاہوں سے اُسے دیکھ رہا تھا۔اصباح اپنے قدموں پر ٹِک نہیں سکی لڑکھڑائی  تبھی آمنہ آگے بڑھی اُسے تھاما مگر اُس کا سہار ا اصباح نے قبول نہ کیا ،جھٹک دیا اور کھڑے رہنے کے لئیے  دروازے کا سہارا لیا...سب کا یہی حال تھا اُڑی رنگت بے یقینی کی کیفیت اک پل میں کئی رشتوں کا تقدس مان بھرم  ملیا میٹ ہو گیا تھا بیبو جی!کھڑی نہیں رہ سکیں  پیچھے ہٹ کر کرسی پہ ڈھہہ سی گئیں ،وہ جانتی تھیں ذوہیب باقر زمان سے خار رکھتا ہے مگر وہ  نفرت کی اس حد سے واقف نہیں تھیں کہ وہ جان سے مارنے پر تُل جائے گا ...اگلے ہی پل خاموش کھڑے ذوہیب پہ جو پہلا  ہاتھ اُ ٹھا   وہ گلزار احمد کا تھا اور اُس کے بعد نفیسہ نے  روتے   ہوئے اُسے دھکے مار کر کمرے سے نکلا دیا اور خود  وہیں دیوار کا سہارا لئیے کھڑی رونے لگی تھی  سب خاموش تھے بالکل چپ نہ گلزار احمد کچھ بولا نہ ناصر۔نہ اصباح نہ آمنہ...سب ایک دوسرے سے نگاہیں چُرائے کھڑے تھے  الفاظ ختم ہو گئے  تھے یا شائد بے معنی؟

 باقر زمان  نے چہرے پر ہاتھ پھیرا   خود کو سنبھالا اور بیبو جی! کے پاس آیا اُن کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا  سر جھکائے اور بیبو جی ! نے کانپتا ہاتھ اُس کے سر پہ رکھ دیا  تھا ...مگر بات یہیں ختم نہیں ہوئی تھی یہ آغاز تھا .

                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                     ٭٭٭٭٭٭

Wednesday, 5 July 2023

Afreen all alone| Bili ka khana .. |Dharkanon ke sang sang |Epi 3 Part 2...


شیشے کچن ڈور کی جھری سے آتی، کھانے کی مزیدار خوشبو اس کی بھوک کو مزید بڑھارہی تھی۔

شہرام نے نظر گھمائی جب اتفاقا اس کی نظر ڈائننگ ٹیبل پر پڑی، جہاں چینی کے باول میں پڈنگ تھی، جس کے اوپر  فوڈ کلر سے "ھیلو کٹی" لکھا ہوا تھا، جو یقینا بلی کے لئے ہی بنائی گئی تھی، لیکن شہرام کی مت ماری گئی۔۔ اس وقت بھوک کی وجہ سے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مکمل سلب ھوچکی تھی۔ اس نے بنا سوچے سمجھے، پیالا اٹھایا اور ایک اسپون بھر کر منہ تک لایا۔۔۔۔ مزیدار خوشبو کے ساتھ ساتھ ذائقہ بھی نہایت اعلی تھا۔ جیسے جیسے وہ کھاتا گیا طلب بڑھتی گئی۔۔ اس نے یہ جانا کہ پڈنگ میں چکن اور دوسرے نامعلوم اجزاء شامل ہیں۔

یہ آج تک کے ویسٹرن ریسٹورانٹ میں کھائی گئی تمام پڈنگز سے یکسر مختلف تھی،

بڑی بات یہ کہ اس میں چکنائی کی مقدار بھی کافی کم تھی۔ جو کہ مکمل حفضان صحت کے اصولوں کے مطابق تھی۔۔

اس نے منہ بھر بھر کر چمچ لئے۔۔ اور کچھ منٹ میں ہی پیالہ خالی کردیا۔۔

ٹھیک اس وقت آفرین باقی کھانے کی پلیٹز لئے کچن سے باہر آئی۔

اسے دیکھ کر اس کی آنکھیں سرپرائیزنگ انداز میں کھلیں اور پیاری سی مسکراہٹ نے چہرے کا احاطہ کرلیا۔

"تم واپس آگئے ۔۔ شانی۔۔"

پھر یکدم سے اس کی آنکھیں پھٹی پھٹی سی رہ گئیں۔۔ جب اس نے شہرام کے ھاتھ میں بلی کے لئے بنائی گئی پڈنگ کا پیالا دیکھا۔۔

شہرام نے ساری کھیر کھالی تھی۔

اوھ گاڈ !، یہ تو بلی کا کھانا تھا۔۔۔!

آفرین کی مسلسل نظروں نے شہرام کو تھوڑا سا پزل کیا، وہ دل میں یہ سمجھا کہ آفرین، اسکے اپنی بنائی گئی چیز کھانے کی وجہ سے خوش ہے۔یہ سوچ آتے ہی اس نے ہلکا سا کھانس کر گلا صاف کیا۔

"تم نے جو پڈنگ بنائی تھی بھت ٹیسٹی تھی۔۔"

آفرین بلکل فریز ہوگئی تھی، وہ اس تذبذب میں کھڑی تھی کہ اگر وہ سچ بتائے گی کہ یہ شہرام کے لئے نہیں بلکہ بلی کے لئے تھی، تو یقینا وہ اسے غصہ میں قتل ہی کرلے گا۔۔

آخر کافی دیر تک حساب کتاب کرتے آفرین  زبردستی مسکرائی۔۔ 

Tuesday, 4 July 2023

Chacha bhatija ...same same |Sang shikan |Abeera Hassan |Epi 19| Likahri...


 

"حرم آپ کو کراٹے آتے ہیں ناں۔۔۔؟؟؟؟ میرے اشعر کو کراٹے اور کنگ فو سیکھنے کا بہت شوق ہے۔۔۔۔"

یزدان نے بھی جواباً دانت دکھاتے ہوئے کہا جبکہ اس کی بات کا مطلب روفایہ اور حرم کو چھوڑ کر یشعب اور یشار اچھی طرح سمجھ گئے تھے تبھی ان دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی جبکہ اشعر کا منہ لٹک گیا تھا۔۔۔

"مجھے کراٹے کنگ فو آتے ہیں ناں میں اشعر کو سکھا دوں گی مگر مجھے موئے تھائے فائیٹ کا بھی بہت شوق ہے۔۔ وہ مجھے سیکھنی ہے۔۔۔"

حرم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔

"وہ میں آپ کو سکھا دوں گا بلکہ پوری ٹریننگ دونگا وہ بھی اشعر کے ساتھ پھر آپ بدلے میں اشعر کو سکھا دیجیئے گا۔۔۔"

یزدان نے مسکراتے ہوئے حرم سے کہا۔۔۔

"بھائی ی ی ی ی۔۔۔۔ مجھے ان "خاتون" سے کچھ نہیں سیکھنا مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔"

وہ احتجاً چیخا تھا۔۔۔۔

"خاتون ہوگے تم ۔۔۔ خبردار جو مجھے خاتون کہا تو ابھی منہ توڑ دوں گی۔۔۔۔"

حرم سب کے سامنے لفظ "خاتون" سن کر بھڑک کر بولی ۔۔۔۔

"معافی خاتون۔۔۔۔"

اشعر نے فوراً اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی تھی اور ایک بار پھر سب زور سے ہنس پڑے تھے اور حرم خود بھی اشعر کی مسکین صورت کو دیکھتے ہوئے کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔۔۔

 

Ab aimen ko kon bachye ga ..? |Ishq main tum se | Aqsa Rehman |Episode 3...


 

بارش اب تیز ہو چکی تھی۔۔۔ساتھ ہی ٹھنڈی ہوائیں بھی چل رہی تھیں۔۔۔وہ پوری طرح بھیگ چکی تھی۔۔۔

" اوہو۔۔۔۔!! کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی۔۔۔؟؟ کوئی اپنے ساتھ اتنا ظلم کرتا ہے کیا۔۔۔۔؟؟"

وہ اسے دیکھ کر افسوس سے سر ہلا رہا تھا۔۔۔۔

وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور اس کا گریبان پکڑ لیا۔۔

" تم ۔۔۔تم قاتل ہو میرے باپ کے ۔۔۔۔میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔قاتل ہو تم۔۔" اس کا گریبان پکڑے وہ چلا رہی تھی۔۔

" دیکھو تو بھیگ گئی ہو تم۔۔۔بخار ہو جائے گا اس ٹھنڈ میں ۔۔میرے ساتھ چلو نا۔۔ میرے بستر میں آرام سے سونا۔۔جو اس دنیا میں ہے ہی نہیں اس کا کیا غم کرنا ۔۔جو تمہارے سامنے ہے اس کو سوچو نا۔۔۔" وہ اس کے ہاتھوں سے اپنا گریبان چھڑاتے ہوئے ہنسا۔۔۔

" تمہیں شرم نہیں آتی ایسی باتیں کرتے ہوئے، آ خر کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا ۔۔۔؟؟ کیوں کر رہے ہو یہ سب۔۔۔۔؟؟" اب وہ روتے ہوئے بے بسی سے بولی۔۔

" کیوں کر رہا ہوں یہ سب ۔۔؟؟ ارے میری جان۔۔۔!! تم اب تک نہیں سمجھی۔۔" وہ اب اس کی بے بسی سے محظوظ ہوا۔۔۔

" خدا کے لیے ۔۔۔خدا کے لیے چھوڑ دو مجھے۔۔۔میرے حال پر ۔۔۔پلیز اسجد۔۔۔مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو۔۔۔" وہ اب اس کے سامنے ہاتھ جوڑے التجا کر رہی تھی۔۔۔

" ایسے کیسے چھوڑ دوں۔۔؟؟ اس رات بھی تم بچ گئی تھی۔۔۔لیکن اب نہیں۔۔اب کون آئے گا۔۔؟؟ ہاں۔۔۔" وہ اب اسے پکڑ کے سیڑھیوں کی طرف کھینچ رہا تھا۔۔۔

" امی۔۔۔امی۔۔۔!!" وہ چلانے لگی۔۔۔

اسجد نے فوراً  اس کے منہ پہ ہاتھ رکھا۔۔

" خبردار جو منہ سے ایک لفظ بھی نکالا تو اچھا نہیں ہوگا تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔" وہ اس کے منہ پہ ہاتھ رکھے ہوئے بولا۔جبکہ وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ 

Monday, 3 July 2023

Rude Hero| Second Marriage | Tujh se hai hayyat meri | Zahra Ali | Epi 4...

اشتر نے اسٹڈی روم کی لائٹس آف کیں۔۔دروازہ بند کیا، اور اپنی خواب گاہ میں آگیا، سگریٹ ایش ٹرے میں مسل کر وہ بیڈ پر بیٹھا تکیے درست کرتے ہوئے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لیا، ہاتھ فولڈ کرکے سر کے پیچھے رکھا، اور تصویر نگاہوں کے سامنے کی۔۔وہ نئے سرے سے اس کا جائزہ لینے لگا۔۔۔اس کی خوبصورتی کا وہ اسیر ہوگیا۔۔۔بلیو کلر کے اسکارف سے اس نے سر اچھی طرح سے ڈھکا ہوا تھا۔۔چادر سے خود کو چھپایا ہوا تھا۔۔اشتر کو وہ پہلی نظر میں ہی بھا گئی۔

”مدتوں بعد جا کر کوئی ان آنکھوں کو پسند آئی ہے“ وہ تصویر سے باتیں کرنے لگا۔۔وہ مغرور شہزادہ۔۔۔غصیلا۔۔اکھڑ مزاج۔۔جس کی آنکھیں غضب ڈھاتی تھیں۔۔وہ  بت بنا اس تصویر سے باتیں کر رہا تھا۔

”کوئی اتنا بھی حسین ہوتا ہے۔۔؟“ اس کی آنکھوں میں نہ سختی تھی نہ نرمی تھی، چہرہ البتہ سپاٹ ہی تھا۔۔

”ان۔۔مول۔۔“ بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا اور اشتر نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا۔۔اس کی آنکھوں کو جو چیز بھاتی تھی وہ اسے حاصل کر کے ہی دم لیتا تھا۔۔ اس پری پیکر کو تکتے ہوئے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتا نہیں چلا۔۔


Saturday, 24 June 2023

Boys in action | Sach ab samny aye ga |Sang shikan |Abeera Hassan |Epi ...

 

"مگر آپ مجھے کال تو کر سکتے تھے۔۔۔؟؟؟ جانتے ہیں میں کتنا پریشان ہوگیا تھا۔۔۔"

یشعب نے ایک پرسکون سانس لیتے ہوئے دوبارہ سے اعتراض کیا تھا۔۔ اسے اب سمجھ آگیا تھا۔۔۔ واقعی دانی نے یشار کے ساتھ بلکل ٹھیک کیا تھا اور ساتھ ہی یشعب کو یہ اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کا دانی غلط ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔

"بلکل کر سکتا تھا مگر وہ کیا ہے ناں یش میری جان کہ جب اکیلا پرسکون کمرہ ہو اور بیوی سامنے موجود ہو تو دانی اور اشعر جیسوں کو کون پوچھتا ہے۔۔۔؟؟؟ پھر تو بندہ اپنے دونوں موبائل "ایئر پلین" موڈ پر ڈال کر پرسکون ہو جاتا ہے۔۔۔ اب تمھارا دانی پاگل تھوڑی ہے جو اپنے بچے کو ایسے "حساس" وقت میں "ڈسٹرب" کرکے اس کی بد دعائیں سمیٹتا۔۔۔ پچھلوں کی یاد تو صبح آتی ہے۔۔۔ تب اشعر کو فون بھی کیا جاتا ہے۔۔۔ اپنے فلیٹ پر بلا کر پورے ایک گھنٹے تک ناشتہ بھی بنوایا جاتا ہے اور بیوی کے ساتھ بند روم میں "فائٹنگ فائٹنگ" بھی کھیلا جاتا ہے اور بیوی کے سامنے سے ہٹتے ہی اپنا پرسنل موبائل "ایئر پلین موڈ" سے ہٹایا جاتا ہے۔۔۔ پھر پاکستان سے آنے والی کالز بھی دیکھی جاتی ہیں اور بندہ دانی اور اشعر کو کال کرتا ہے۔۔۔ ویسے اشعر میں نے سنا تھا بیوی خوبصورت ہو تو اس کے سامنے اچھے بھلے بندے کی عقل ماری جاتی ہے مگر اپنے بچے کو دیکھ کر میں اس بات پر سو فیصد ایمان لے آیا ہوں۔۔۔ سچی یششش۔۔ تم اس معاملے میں بھی میرا نام ضرور روشن کرو گے۔۔۔۔۔"

یزدان پورے دانتوں کی نمائش کرتا ہوا شوخی سے بولا تھا۔۔۔۔ جبکہ یشار اور اشعر کے سامنے یزدان کی بے شرمی پر یشعب شرم و خجالت سے سٹپٹا کر رہ گیا تھا۔۔۔ یزدان کی بات سن کر اشعر کھی کھی کرکے ہنسنے لگا تھا اور یشعب نے غصے سے گھور کر اس گدھے کو دیکھا۔۔ یقیناً اسی نے دانی کو صبح کے پورے سین کے بارے میں بتایا تھا۔۔۔

"امل ٹھیک کہتی ہیں دانی۔۔ آپ بہت بے شرم ہیں۔۔" وہ منہ بنا کر اسے گھورتا ہوا بولا۔۔۔

"ہاہاہاہاہاہا۔۔۔ ہائے کیا یاد دلا دیا یار۔۔۔؟؟؟ محترمہ امل جہانگیر صاحبہ کی نظروں میں تو مابدولت نے خاصی عزت کما رکھی ہے۔۔۔ ان کی تو بات ہی نہ کرو اور ذرا اپنے

"شیری" کو چپ کرواؤ۔۔ میرا بچہ دو دن سے یا تو سو رہا ہے یا بس رو رہا ہے۔۔۔"

یزدان مزے سے بولتا ہوا دوبارہ اپنی کرسی پر جھولنے لگا تھا۔۔۔ یشعب تاسف سے ایک طرف بیٹھے یشار کو دیکھتا ہوا دوبارہ اس کے پاس گیا تھا اور اسے ایک بار پھر سے کھڑا کرتے ہوئے بغور اس کا چہرہ دیکھا تھا۔۔ وہ بلکل اس کے اور یزدان جیسا تھا۔۔۔ یزدان اس کے پاپا کی شکل تھا یعنی وہ لوگ اپنے پاپا اور چچا میں ملتے تھے۔۔۔۔


Thursday, 22 June 2023

Rishta Pakka Ho gaya. . |Bahon main thaam ley | Ayesha Zulfiqar |Episode...

 

"اویس یار خدا دی قسم میں نے کسی دن اس عورت کے سر چڑھ کر خود کشی کر لینی ہے میں بتا رہا ہوں" شمس نے کہا

"او ہویا کی سی... ؟" رفیق نے پوچھا

"مجھ سے غلطی اتنی ہو گئی کے میڈم کو آ کر پانی مانگ کر ڈسٹرب کر دیا... وہ مہارانی صاحبہ ٹی وی دیکھ رہی تھیں,  کہتی جا وہ فریج کھڑی ہے خود ہی پی لے,  میں نے کہہ دیا سارا دن ٹی وی ہی دیکھتی ہے اگر اٹھ کہ ایک گلاس پانی پلا دے گی تو مر تو نہیں جاۓ گی...بس شروع ہو گئی " وہ بولا

اندر زرینہ زارا قطار رخسانہ کے سامنے دھاڑیں مار رہی تھی

"امی خدا دی قسم ابھی اندر داخل نہیں ہوا اور گالی پہلے نکلی اس کی زبان سے,  کہتا اے کنجرییے اٹھ کے پانی دا گلاس دے دے, امی مینوں بس اے دس دیو کہ میرا قصور کیا ہے... ؟ میری وہ چھوٹی سی غلطی کیا ساری عمر معاف نہیں ہونی ؟" وہ روۓ جا رہی تھی

اور یہ پچھلے چھ سال سے ہو رہا تھا

آۓ روز ان دونوں میاں بیوی کے دنگے چھڑے ہوتے تھے,  آۓ روز دونوں کی دھما چوکڑی اور گالم گلوچ,  کئی بار دونوں ایک دوسرے کا سر پھاڑ چکے تھے,  انہی لڑائی جھگڑوں میں دو بچے بھی دنیا میں آ گئے تھے

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...