Showing posts with label Bahon main thaam ley. Show all posts
Showing posts with label Bahon main thaam ley. Show all posts

Thursday, 22 June 2023

Rishta Pakka Ho gaya. . |Bahon main thaam ley | Ayesha Zulfiqar |Episode...

 

"اویس یار خدا دی قسم میں نے کسی دن اس عورت کے سر چڑھ کر خود کشی کر لینی ہے میں بتا رہا ہوں" شمس نے کہا

"او ہویا کی سی... ؟" رفیق نے پوچھا

"مجھ سے غلطی اتنی ہو گئی کے میڈم کو آ کر پانی مانگ کر ڈسٹرب کر دیا... وہ مہارانی صاحبہ ٹی وی دیکھ رہی تھیں,  کہتی جا وہ فریج کھڑی ہے خود ہی پی لے,  میں نے کہہ دیا سارا دن ٹی وی ہی دیکھتی ہے اگر اٹھ کہ ایک گلاس پانی پلا دے گی تو مر تو نہیں جاۓ گی...بس شروع ہو گئی " وہ بولا

اندر زرینہ زارا قطار رخسانہ کے سامنے دھاڑیں مار رہی تھی

"امی خدا دی قسم ابھی اندر داخل نہیں ہوا اور گالی پہلے نکلی اس کی زبان سے,  کہتا اے کنجرییے اٹھ کے پانی دا گلاس دے دے, امی مینوں بس اے دس دیو کہ میرا قصور کیا ہے... ؟ میری وہ چھوٹی سی غلطی کیا ساری عمر معاف نہیں ہونی ؟" وہ روۓ جا رہی تھی

اور یہ پچھلے چھ سال سے ہو رہا تھا

آۓ روز ان دونوں میاں بیوی کے دنگے چھڑے ہوتے تھے,  آۓ روز دونوں کی دھما چوکڑی اور گالم گلوچ,  کئی بار دونوں ایک دوسرے کا سر پھاڑ چکے تھے,  انہی لڑائی جھگڑوں میں دو بچے بھی دنیا میں آ گئے تھے

Friday, 16 June 2023

Haye o Rabba ... eh ki ? |Bahon main thaam ley | Ayesha Zulfiqar |Episod...


 

"میری ایک گل سن لو... " آئیندہ کوئی بھی رشتہ دیکھنے آیا,  تیرا باپ ان کے پاس نہیں بیٹھے گا" رخسانہ نے کہا

"بس میرے سے ہی تکلیف ہے اسے... " وہ پھٹ پڑے

"تیری کالی زبان سے تکلیف ہے مجھے... بندہ بڑھکیں نہ مارے تو چین کی نیند نہیں آتی بھلا... " وہ بولیں

"میرے نال بکواس نہ کر... " وہ تپ گئے

"امی بس کر... " زبیر نے انہیں خاموش کروا دیا, علینہ کھڑی آنسو گراۓ جا رہی تھی

"امی میرا ایک دوست ہے,  ادھر فیکٹری میں میرے ساتھ ہوتا ہے, وہ بس دو بہن بھائی ہیں,  باپ انتہائی بیمار رہتا ہے, ماں فوت ہو گئی ہے,  اس نے آج مجھ سے بات کی ہے علینہ کے رشتے کے بارے " اویس نے کہنا شروع کیا

"کون اویس بھائی ... ؟ حاتم... ؟" زبیر نے پوچھا

"او یار بیچ میں نہ بولا کرو,  زہر لگتی ہیں مجھے یہ گندی عادتیں " وہ اتنی سی بات پر ہی تڑخ گیا

"نام ہی پوچھا ہے... " زبیر بوکھلا سا گیا, اویس نے اسے رکھ کے گھورا

"اس کی عمر تھوڑی زیادہ ہے امی... " اویس ہچکچا رہا تھا

"کتنے سال کا ہے... ؟" رخسانہ نے پوچھا

"اکتیس سال... علینہ سے سات سال بڑا ہے" اویس نے کہا, رخسانہ چپ سی ہو گئیں

اتنی عمر کیسے گزر گئی... ؟ ویاہ کیوں نہیں کیا ؟" رخسانہ نے پوچھا

"امی اس کا رشتہ طے ہوا تھا ایک جگہ لیکن... شاید اس کی بہن کا کوئی مسئلہ بن گیا تھا,  اس کی دو بڑی بہنیں ہیں" اویس نے کہا

"او پتر عمر سے کچھ نہیں ہوتا,  تیری ماں بھی تو عمر میں مجھ سے بڑی تھی" رفیق صاحب نے رخسانہ کی دم پر پاؤں رکھ دیا

"اچھا... کتنے سال کا کاکا تھا تو چوہدری ؟" وہ بھڑک گئیں

"ہن مینوں یاد نہیں پر... " رخسانہ نے ان کی بات کاٹ دی

"ڈیڑھ مہینہ چھوٹا کاکا تھا تو مجھ سے,  میں نے ہی آ کر تجھے چلنا سکھایا تھا,  تیری پوٹیاں دھوتی رہی ہوں میں" رخسانہ تن فن کرتے ہوئے بولیں, زبیر اور حمزہ سر نیچے کئے ہنس رہے تھے

"ابو... یار جا باہر چلا جا" اویس تنگ آ گیا

"میں تو نہیں جاتا کہیں بھی... جب دیکھو باہر چلا جا" انہوں نے سگریٹ سلگائی تھی

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...