Showing posts with label T M Writer. Show all posts
Showing posts with label T M Writer. Show all posts

Friday, 17 October 2025

Ek thi Mishal by T M


مثال دلہن بنی بیٹھی تھی! مثال آج بہت خوش تھی بنا یہ جانے کہ قسمت اور تنزیل اسکے ساتھ کیسا کھیل کھیل چکے ہیں!!

وہ سبھی آصفہ اور باراتیوں کا انتظار کر رہے تھے۔۔ جبھی آصفہ کو ایک ملازمہ کیساتھ وہاں آتے دیکھ کر وہ سبھی پریشان ہوگئے کیونکہ انکے ساتھ تنزیل بھی نہیں تھا اور نا ہی باراتی! ؟

آپا تنزیل ؟؟؟؟

آصفہ آتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی!!

عارفہ، ساجدہ ، اور تنویر اسے یوں روتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے! وہاں موجود باراتی بھی گردنیں اور سر اٹھا کر انھیں دیکھنے لگے کہ آیا ماجرا کیا ہے؟؟

کیا ہوا ہے آصفہ! سب خیریت ہے نا؟؟ تنزیل کو کچھ ہوا تو نہیں!؟

رونے کی آواز سن کر مثال بھی اپنا لہنگا سنبھالتی اٹھ کر دروازے کے پاس چلی آئی!! لیکن آصفہ کو اکیلے اور روتے دیکھ کر وہ بھی پریشان ہوگئی تھی یہ سوچ کر کہ کہیں تنزیل کو کچھ ہو نا گیا ہو!!

کیا ہوا ہے آصفہ بتاؤ تو سہی!! تنزیل تو ٹھیک ہے نا؟؟ عارفہ کا دل ہول کھا رہا تھا!!

آصفہ روتے ہوئے بولیں !! کاش کہ تنزیل کو کچھ ہو ہی جاتا یا پھر وہ مر ہی جاتا تو آج مجھے یہ دن دیکھنا تو نا پڑتا!!!

ہوا کیا ہے آخر!! ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو؟ بتاؤ تو سہی میرا دل ڈوبا جا رہا ہے!!

آپا!! تنزیل کسی اور لڑکی سے رات کو نکاح کر کے اسے گھر لا چکا ہے!! وہ کہہ رہا ہیکہ وہ مثال سے شادی نہیں کرنا چاہتا!!! مجھے معاف کر دیں آپا!! میں شرمندہ ہوں۔۔ آصفہ عارفہ کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی۔۔

کیا؟؟ سب رنگ رہ گئے !!! باراتی کھسر پھسر کرنے لگے ۔۔

مثال کی آنکھوں کے گرد اندھیرا سا چھا گیا!! وہ دیوار کا سہارا لیتی بے سدھ نیچے بیٹھ گئی!! آنسوؤں کا گولہ حلق میں اٹک گیا تھا۔۔

کیا کہہ رہی ہو تم آصفہ ؟؟ عارفہ پھٹ پڑی!! تنزیل ایسا کیسے کر سکتا ہے؟؟ میری بچی دلہن بنی بیٹھی ہے! ادھر باراتی آ چکے ہیں! میں انھیں کیا جواب دونگی!کہ لڑکے نے عین رخصتی والے دن انکار کیوں کر دیا؟ لوگ میری معصوم پاکدامن بچی کے کردار پر انگلی اٹھائیں گے آصفہ !! کیوں کیا تنزیل نے ایسا؟؟ کیوں؟ کیوں میری معصوم بچی کی زندگی برباد کر دی!! عارفہ روتے روتے اچانک سے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتی زمین پر ڈھے گئیں!!

آپا!!! 





Tuesday, 14 May 2024

Woh jin pee yaqeen tha | T M Writer | Episode 1 | Joint family system | ...

 

ماں !!!ماں !!!ماں!!! کان پک چکے ہیں میرے ہر روز یہ سن سن کر!!!!

پھومی جان آپ اچھا نہیں کر رہیں میرے ساتھ ؟؟؟ میرے دل میں اپنے لیے نفرت پیدا کر رہی ہیں آپ ۔۔ خدا کی قسم آپ نے ابھی جاناں کو جانا ہی کہاں ہے؟؟ اگر کرنے پر آئی نا تو پھر ایسا کام کر جاؤں گی کہ آپ لوگ اپنی بغلوں میں منہ چھپاتے پھریں گے ۔۔۔

کسی دن میں ایسا تماشہ کھڑا کروں گی کہ پوری دنیا دیکھے گی۔۔ بابا تو کٹھ پتلی ہیں۔۔ جدھر انھیں گھمایا وہ ادھر ہی گھوم جاتے ہیں۔۔ مجھے تو وہ اپنی بیٹی سمجھتے ہی نہیں ہیں۔۔۔ صرف نام کے باپ ہیں۔۔ اگر دنیا والوں کی باتوں کا خوف نا ہوتا تو اب تک شاید وہ مجھے بھی گھر سے نکال چکے ہوتے۔۔۔ کبھی انھوں نے میرے سر پر ہاتھ تک نہیں رکھا؟؟ پھومی جان سے ڈرتے ہیں وہ۔۔ اپنی بیٹی کو پیار تک نہیں کرتے یہ سوچ کر کہ کہیں پھومی جان کو برا نا لگ جائے؟؟؟ دوسروں کی اولاد کی تو بہت فکر ہے مگر اپنی بیٹی کی نہیں!!؟

دو آنسو لڑھک کر اسکے گالوں پر بہہ آئے ۔۔ جسے اس نے بے دردی سے رگڑ ڈالا۔۔۔۔





Thursday, 4 April 2024

Raaz e mohabbat by T M Novels Episode 7

مگر انکی تصویریں حشمت خان کے گھر میں کیا کر رہی تھیں؟؟ اور ان پر کانٹے کا مارک؟؟ سمجھ نہیں آ رہا؟؟ یعنی کہ بریرہ کا شک درست تھا!!!

بالکل۔۔۔ تم صحیح جا رہے ہو۔۔ یعنی کہ اس شخص کا بریرہ اور خاص کر اسکی ماں سے بہت ہی خاص تعلق رہا ہے۔۔  اور یقیناً انکے پیچھے کوئی کہانی یا پھر کوئی راز دفن ہے۔۔ اور ہمیں یہ راز جاننا ہی ہوگا۔۔ تب ہی ہم اصلیت تک جا پہنچیں گے ۔۔ ان دو تصویروں کے پیچھے ہی پوری کہانی چھپی ہے۔۔ اب یہ سارے راستے ایک ہی منزل کو جارہے ہیں۔۔

مگر ہم یہ سب کریں گے کیسے؟؟

یہ ہم نہیں بلکہ بریرہ اسعد خان خود کرے گی۔۔

کیا مطلب ؟؟ سیم خان کی بات سن کر معید چونکا۔۔

یہی کہ سیم خان اپنا کام کرنے کیلئے رات اندھیرے کو نکلتی ہے اور یہ کام بریرہ اسعد خان دن کی روشنی میں کرے گی۔۔

میں سمجھا نہیں!! معید اب بھی نہیں سمجھا تھا۔۔

میں تمھیں سمجھاتی ہوں ۔۔۔




مگر یہ خطرناک ہوسکتا ہے!! وہ یہ سب کرے گی کیسے ؟؟ معید بریرہ کیلئے فکر مند ہوا۔۔۔مجھے بتاؤ تو سہی کچھ!!!!

سیم خان پراسرار مسکراہٹ کیساتھ معید کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔

ہاں جانتی ہوں ۔۔ مگر  یہ سب تمھارے سوچنے کا کام کا نہیں ہے اسی لیے تم صرف اپنے کام پر ہی توجہ دو۔۔ بریرہ اسعد خان یہ سب خود کر لے گی۔۔۔

ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔ مت بتاؤ ۔۔ میں بریرہ سے خود ہی پوچھ لونگا ۔۔۔میں بھی معید آفندی ہوں وہ مجھے سب کچھ بتادے گی۔۔

سیم خان اسے دیکھ کر مسکرائی۔۔۔ 




Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...