Showing posts with label Soni Mirza. Show all posts
Showing posts with label Soni Mirza. Show all posts

Wednesday, 9 April 2025

Jan e aziz by Soni Mirza Complete novel download pdf


Jan e aziz by Soni Mirza Complete novel download pdf 

Season 2 


 "جی ٹائیگر؟"

"آٹھ بجے محترمہ کی فلائٹ ہے۔۔۔۔۔صرف آدھا گھنٹہ بچا ہے۔۔۔۔اور ٹھیک پانچ منٹ پہلے یہ محترمہ فلائٹ میں موجود ہو!۔۔۔۔ہیلپ کرو ڈارلنگ کی۔" اس نے لفظ چباۓ۔
میرم کا چہرہ مرجھا گیا تھا۔ نینا نے بھی اس کی ایک کلائی پکڑی تو دوسری ڈارلنگ نے تھام لی۔ وہ اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے پیچھے دروازے کی جانب لے جانے لگیں۔ آریال نے اپنا رخ سیڑھیوں کی طرف موڑ لیا تھا۔ وہ اسے جاتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ مگر میرم کی دل چیر دینے والی آوازیں اسکے کانوں سے ٹکرانے لگیں۔
"آریال پلیز انہیں روکیں!۔۔۔۔میں نے آپکے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔۔۔ہاں میں نے ایسا سوچا تھا۔۔۔۔پر کر نہیں پائی۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔۔پلیز آریال!۔۔۔آپکو ہماری محبت کا واسطہ۔۔۔۔آپکو میرال کی قسم!۔۔۔۔پلیز میرے ساتھ یہ سب کچھ مت کریں!۔۔۔۔میں نہیں رہ سکتی!۔۔۔۔میں آپکے بغیر کیسے رہوں گی؟۔۔۔۔پلیز ایسا مت کریں!۔۔۔۔آریال پلیززززز!"
وہ روتی اور چلاتی رہی۔ لیکن آریال پاشا واقعی پتھر کا بن چکا تھا۔ اپنی آنکھیں بند کئے وہ بس اسکی چیخیں سنتا رہا مگر کوئی مزاحمت نہ کی۔
تھوڑی ہی دیر بعد نینا کی گرفت ذرا سی ڈھیلی پڑی تو میرم نے اپنے اسی دائیں ہاتھ کا تھپڑ ڈارلنگ کے منہ پر جپھ دیا۔ طمانچہ لگنے کے سبب وہ بھی اپنی گرفت چھوڑ گئی تھی۔
چٹاخ کی آواز پر آریال نے جھٹ آنکھیں کھولتے ہوئے پیچھے گھوم کر دیکھا۔ میرم فوراً اسکی جانب بھاگی اور اس کے سینے سے جا لگی۔ ڈارلنگ اپنی گال پر ہاتھ رکھے میرم کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میرم کے چہرے کا نقشہ بگاڑ کر رکھ دے۔ وجہ صرف آریال تھا ورنہ وہ کبھی کسی کا ایسا طمانچہ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ رباب بھی اپنے کمرے سے باہر نکل کر سیڑھیوں کے اوپر کھڑی تماشہ دیکھنے لگی۔
"آریال پلیززز!۔۔۔۔آپکو کتنے واسطے دئیے ہیں۔۔۔۔ایسا مت کریں نا۔۔۔۔آپ اپنی میرم کو خود سے دور کیسے کر سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔آپ تو بہت پیار کرتے ہیں نا مجھ سے؟۔۔۔مممم۔۔۔۔میں نہیں رہ سکتی آپکے بنا۔۔۔آپ جانتے ہیں نا کہ مجھے آپ کے بغیر نیند نہیں آتی۔۔۔۔تو پھر میں ساری زندگی آپ کے بغیر کیسے رہوں گی؟۔۔۔۔ممم۔۔۔میں۔۔۔میں تو مر جاؤں گی۔" اس نے ہچکیاں لیتے ہوئے کہا اور آریال نے ہراساں نگاہوں سے تاڑتے ہوۓ اسے نفرت سے اپنے وجود سے الگ کیا اور غرایا۔
"تو پھر مر جاؤ!۔۔۔۔ٹرسٹ می! تم مر جاتی نا۔۔۔۔تو شاید مجھے اتنا درد نہ ہوتا جتنا اب ہو رہا ہے۔۔۔۔اس بے وفائی اور دھوکے سے بہتر تھا کہ کاش تم مر ہی جاتی!"
میرم کو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ الفاظ اسکے آریال نے ادا کئے ہیں۔ وہ جو کبھی اس کے مرنے کا زکر سن کر ہی تڑپ اٹھتا تھا آج خود اسے مرنے کا کہہ رہا تھا۔
اتنے تلخ بول؟ اتنے چبھنے والے جملے؟ اتنی نفرت؟ وہ اندر تک ٹوٹ گئی تھی، گھائل ہو گئی تھی، زخمی ہو چکی تھی۔
اس کے لبوں نے مزید بولنے کی ہمت نہیں کی تھی۔ اسی وقت ڈارلنگ اور نینا نے اسکے قریب آ کر پھر سے اسے کھینچا اور وہ چپ چاپ ان کے ساتھ چلتی بنی۔
دل و دماغ نے تو کوئی حرکت کی ہی نہیں تھی اور زبان بھی بولنے سےعاری تھی۔ ان کے ساتھ ساتھ وہ بالکل ایسے چل رہی تھی جیسے بالکل ساکت ہو چکی ہو۔


Novels are available  Here as in PDF and Online Read . You can download or read online through the links given below .



Saturday, 13 January 2024

Laa | Soni Mirza | Episode 2 | friends | hero singer| Caring boy | Innoc...

"یار ایسی بات نہیں ہے۔ وہ جو لڑکی مجھے دس ہزار روپے میں بک کر کے دی جا رہی تھی وہ بالکل بھی پیاری نہیں تھی۔۔۔۔۔اور علیشہ۔۔۔۔۔آے ہاۓ ہاۓ ہاۓ یارررر۔۔۔۔۔کیا حسین لڑکی ہے۔"
"یہ علیشہ وہی ہے جس کی ابھی بات کی تُو نے؟"
"ہاں وہی۔"
"اچھا پھر کیا ہوا؟"
"ہونا کیا تھا یار؟۔۔۔۔۔بس ایک آدمی دس لاکھ روپے میں اس کو لے جانے والا تھا لیکن میں نے اس کی ڈیل کینسل کروا دی کیونکہ میں اسے کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔پھر میں نے لیلیٰ کو پندرہ لاکھ کی آفر کی۔۔۔۔اور یوں وہ لڑکی میری ہو گئی۔"
"اس لڑکی میں ایسا کیا تھا کہ اس کے لیے تُو نے بینک لوٹ کر پندرہ لاکھ روپے بھرے؟"
"یار بات صرف اس کی خوبصورتی کی نہیں۔۔۔۔بلکہ وہ بہت ہی مجبور لڑکی تھی۔۔۔۔کسی بہت بڑی مجبوری کی وجہ سے اپنا جسم بیچ رہی تھی۔۔۔۔اور میں نے صرف اس کی مدد کی۔"
"ہاں اسکو اپنے پہلو میں لیٹا کر۔۔۔ہممم؟" زاویان نے منہ چڑایا۔
"نہیں۔۔۔۔میں نے اس کی رقم ادا کر دی اور اسے اپنے ساتھ کمرے میں بھی لے آیا۔۔۔۔لیکن پھر اس کے آنسو دیکھ کر میرا دل پگھل گیا اور میں نے اسے جانے دیا۔" اس کی بات سن کر وہ یک دم سیدھا ہوا۔
"جانے دیا مطلب؟۔۔۔۔پندرہ لاکھ بھر کر بھی تُو نے ایک اپنے پاس آئی لڑکی کو بنا چھوئے جانے دیا؟" وہ حیرانگی کے انتہائی وسیع درجے پر تھا۔


Wednesday, 29 November 2023

Judai mout hoti hai by Soni Mirza Episode 5 |Soni mirza novels |With Sou...

 

"ہاں بولو عاشُو! آدھی رات کو بھی تمہیں چین نہیں آتا"؟

"واہ! مجھے دن رات کی ڈیوٹی پر لگا کر خود مزے سے سو رہے ہو ہمم"؟ وہ غصہ ہوئی۔

"ہاں تو؟۔۔۔۔۔۔سونے دو۔۔۔۔۔گڈ نائٹ"!

"زی جان! تم خبر سنو گے ناں تو نیند فُرررر سے اڑ جاۓ گی تمہاری بھی"۔

"کیسی خبر"؟

"حور کڈنیپ ہوگئی ہے"۔

الفاظ سنتے ہی اس نے پوری آنکھیں کھولیں اور کرنٹ لگنے کی طرح جھٹ سے اٹھ بیٹھا۔


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...