Showing posts with label Zubia Sheikh. Show all posts
Showing posts with label Zubia Sheikh. Show all posts

Monday, 11 November 2024

Sahara | Zubia Sheikh | Complete Novel #aftermarriagenovels #complete...

 

سسرال والوں کے ظلم ہانیہ پر بڑھتے جارہے تھے جب سے اس کے شوہر کا انتقال ہوا تھا تب سے ساس اور نندیں کھانا تک نہ دیتیں۔ اور نندوئی اس پر غلط نظر رکھتا ۔ رات ہانیہ اپنے کمرے کو لاک کرکے سوتی پر اک دن گھر مہمان آئے تو ساس نے مہمانوں کو ہانیہ کے کمرے میں سلادیا اور ہانیہ اس رات کچن میں بستر لگا کر سوئی تو نندوئی کو موقع مل گیا وہ ہانیہ کے قریب گیا تو ہانیہ چلانے لگی پر نندوئی نے اسی پر الزام ڈال دیا تو سسرال والوں نے ہانیہ کو مار کر گھر سے نکال دیا وہ آدھی رات زخموں سے چور سڑک پر بیٹھی تھی جب اس نے اچانک چلا کر کہا اے میرے رب مجھے انصاف چاہیے۔ یہ کہتے وہ رونے لگی کہ اسی وقت۔۔۔




Friday, 18 October 2024

Anjani Mohabbat | Zubia Sheikh | Complete Novel | Doctor girl | #complet...

 

 تو مجھے بتا دو زاو یار کیا چاہتے ہو کیوں بڑھاپے میں میری ہڈیاں تڑوانا چاہ رہے ہو وہ ہسپتال ہے وہیں داخل کروا دینا مجھے

 زاویار نے کہا بابا میں اپ کو ایک بات بتا دوں مجھے ردا ہر حال میں چاہیے میں اس سے محبت کرتا ہوں اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں

 علی صاحب نے کہا تم پاگل ہو گئے ہو وہ لڑکی کسی کے ساتھ منسوب ہے اور تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے رشتے کی بات کروں اس سے

 بابا میں نے اپ کو بتا دیا ہے اگر اپ نے جلد از جلد کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا تو میں اپنے طریقے سے ردا کو اپنی زندگی میں شامل کروں گا پھر مت کہیے گا کہ زاو یار تم اپنے بوڑھے باپ کا خیال نہیں کرتے

  علی صاحب نے دانت چباتے ہوئے کہا تو تم کون سا خیال کر رہے ہو میرا بلڈ پریشر تو تم ایسے اوپر نیچے کرتے ہو جیسے تمہارے کوٹ کے بٹن ہو زاویار نے کہا تو اپ کو اٹھنا پہنا کریں نہ ہی میں بٹن لگاؤں گا

 علی صاحب نے اسے گھور کر دیکھا وہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے بیٹے کا مطلب تھا کہ وہ اتنا نہ سوچا کریں لیکن اولاد کے بارے میں نہیں سوچیں گے تو کس بارے میں سوچیں گے زاویار نے اپنے دونوں ہاتھ تو سے اپنے باپ کے ہاتھ تھامے اور بولا 




Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...