Showing posts with label Shiddat by meerab hayyat Meerab hayyat. Show all posts
Showing posts with label Shiddat by meerab hayyat Meerab hayyat. Show all posts

Sunday, 23 July 2023

Aleesha Baddar Shikwy|Meerab Hayyat| Shiddat Last Episode Part 2| likhar...

 

"ہاں تو آپ کو شرم نہیں آئی۔۔" کہتے ہوئے اس نے فاصلہ بڑھانے کو اس کے سینے پر ہاتھ رکھا جس کی نگاہیں بے تابانہ اس کے نقوش سے لپٹ رہی تھیں۔۔

"جھوٹ بولتے ہوئے۔۔' اس کی آواز لرز اٹھی۔

"جعلی رپورٹ بنواتے ہوئے۔۔" وہ سسکنے کو تھی۔

"کورٹ میں اتنے مردوں کے سامنے میری ذات کو تماشا بناتے۔۔" بولتے ہوئے اس کی آنکھیں بہنے لگیں۔

"آپ تو جانتے ہیں نا کہ آپ باپ نہیں بن سکتے۔۔" وہ بچوں کی طرح رونے لگی۔

"پھر بھی آپ نے مجھے اپنے وکیل سے ذلیل کروایا۔۔۔" وہ اذیت بھری نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی جبکہ بدر تو بس اس کا رونا دیکھ رہا تھا۔

"اس۔۔۔س۔۔ نے۔۔ کک۔۔ کیا کہا۔۔ آ۔۔۔ آپ نے سنا نہیں۔۔۔ ججھ۔۔۔جھوٹی رپورٹ دکھا کر کہتا کہ۔۔۔ بب۔۔۔بچہ کس کا ہے۔۔" ہچکیوں کے درمیان شکوہ کرتی وہ اس پل بھول گئی کہ بدر کی مردانگی پر سوال اٹھانے والی وہ خود تھی اور بھول تو وہ خود بھی گیا تھا۔۔ سب۔۔۔ سب کچھ پیچھے رہ گیا تھا۔ علیشہ کے الزامات ۔۔۔ اس کی کم ظرفی۔۔ عدالت میں ہوئی توہین۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے پڑا وہ تھپڑ۔۔ سب کچھ اس لمحے جیسے محو ہو گیا تھا۔۔ کچھ واضح تھا تو علیشہ چوہان کا وجود۔۔ اس کے آنسو۔۔ آنکھوں کی اذیت ۔۔ آواز کا بھاری پن۔۔ وہ ہار گیا۔۔ ایک بار پھر۔۔ وہ جسے آج تک کمرۂ عدالت میں بڑے سے بڑا وکیل شکست نہ دے سکا تھا اسے وہ چھوٹی سی لڑکی شکست فاش دے گئی تھی۔ ہاں وہ بیرسٹر بدر لغاری۔۔ جسے دشمن بے بس نہ کر سکے تھے وہ اپنی بیوی علیشہ چوہان کے سامنے بے بس ہو گیا تھا۔


Saturday, 22 July 2023

Badar kabhi baap | Meerab Hayyat | Shiddat Last Episode Part 1| likhari ...

 

"جھوٹ مت بولو بدر۔۔۔ آج قتل کردوں گا تمہارا۔۔۔ کیوں سہی تم نے اس کی بکواس۔۔؟؟؟" آگے بڑھ کر اسے بازو سے پکڑتے ہوئے اپنی جانب گھماتا شانزل چلایا۔

"اپنی زبان کو لگام دو۔۔ بیوی ہے وہ میری۔۔۔!" اسے پیچھے دھکا دیتا بدر غرایا۔۔

"بیوی اگر گھٹیا ہو تو اس کے منہ سے نکلے الفاظ کو بکواس ہی کہا جاتا ہے۔۔!" شانزل پہلے سے زیادہ غصے میں بولا تھا۔ بدر نے شدید اشتعال کے عالم میں اس کا گریبان جکڑ لیا۔

"بیوی اگر محبت ہو تو وہ جیسی بھی ہو، جیسا بھی بولے اس کے متعلق بکواس کرنے والے کا منہ توڑ دیا جاتا ہے۔!" اسے جھنجھوڑ کر بولتے بدر نے آخر میں اسکے منہ پر پوری قوت سے مکا مارا تھا۔ شانزل لڑکھڑا کر دو قدم دور ہوا۔ بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا تھا جو اس لڑکی کے گہرے وار سے نبرد آزما ہوتا اسی کے لیے پاگل ہو رہا تھا۔

"وہ۔۔۔ جیسی بھی ہے۔۔ میری ہے۔۔ میں اس کے خلاف ایسے الفاظ برداشت نہیں کرسکتا۔۔!" شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوئے بدر اسے وارن کرنے والے انداز میں بولا۔ خون چھلکاتی آنکھوں میں غصہ ہلکورے لے رہا تھا۔ شانزل نے نچلا لب دانتوں میں دباتے ہوئے ناک سے نکلتے خون پر ہاتھ رکھ لیا۔

'وہ کم ظرف ہے بدر۔۔!" شانزل نے تکلیف زدہ مدھم لہجے میں اسے جتایا تو بدر کی آنکھوں کی اذیت بڑھ گئی۔

"آج جان گیا ہوں۔۔!" اس کے لب دھیرے سے ہلے۔

"تو پھر یہ بھی جان لو۔۔ کہ یہ جو کم ظرف ہوتے ہیں ناں، ان کے دل کی گلیاں بڑی تنگ و تاریک ہوتی ہیں۔۔ اگر محبت غلطی سے ایسے دل کا رخ کر بھی لے تو یا تو وہاں کی تاریکی سے گھبرا کر بھاگ جاتی ہے یا پھر وہاں کی تنگی میں اس کا دم گھٹ جاتا ہے۔۔!" اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا وہ اس پل بدر کی اندرونی اذیت کی عکاسی کر رہا تھا۔۔ وہ جتنا مضبوط کمرہ عدالت میں بن آیا تھا اس پل اتنا لگ نہیں رہا تھا ۔

"بکواس بند کرو۔۔۔!" پلکیں جھپک جھپک کر آنکھوں میں امڈتی نمی پینے کی کوشش کرتا وہ بھاری ہوتی آواز میں بولا۔۔

"کم ظرف اگر محبت کر بھی لے تو اس کی انا جلد یا بدیر اس محبت کا قتل کر دیتی ہے بدر۔۔۔!" شانزل کے لہجے میں تھکاوٹ تھی۔بدر نے ہولے سے نفی میں سر ہلایا۔ وہ ایک بار پھر پلٹا۔۔

"محبت مر جاتی ہے بدر۔۔۔ مرجاتی ہے۔۔!" وہ اس کی پشت پر چلایا۔ بدر نے سرعت سے آنکھوں آنکھوں کو رگڑ ڈالا۔ شاید ان میں امڈتی نمی کا رخسار پر پھسلنا اسے گوارا نہیں تھا۔


Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...