Monday, 26 April 2021

To day posting list PDF 24,26 April ,2021

                                                                                     




To day posting list PDF

24,26  April ,2021 

This is the list where you can easily read our daily novels which we post on that particular day . It will make you to easily find your favorite novels collections . Which novels are added in this day you will come to know and you can download and read online by clicking on  the given  " List " . 
we will try to  to give you such list on daily bases .
These writer has written these novels with their effort and spend lots of time and energy . They are trying hard to give you strong material and heart touching words and characters . 
No doubt some of them is very famous among you but who are new writers try to read them and  appreciate their efforts .

                                       Now here is the list of

April  2021

  
You can download through the links and  can read them .

If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

Here is her novel to read and to download 


To day posting list PDF


Complete Novels 

Episode Novels

If you have problem in download please click this link belo



Yaqeen Article by ArfA Alvi

  یقین

ابتداء ہے رب جلیل کہ با برکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔ جو زمین کی پہلی سطح سے لے کر آ سمان کی آخری بلندی تک ہر چیز کا مالک ہے۔ جو لفظ کن سے کائنات تخلیق کرتا ہے۔ جو مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ جس کے قبضہ قدرت میں ہر ذی روح کی جان ہے۔ جو چیونٹی سے لے کر ڈائناسور تک کا خالق ومالک و رازق ہے۔ جو رزق  لیکر بھی آزماتا ہے اور دیکربھی ۔ وہ جسے چاہے عزت دیتا ہے جسے چاہے ذلت ۔جو انسان کی شاہ رگ سے بھی قریب ہے۔ جو حاکم ہے اور یہ ساری دنیا اس کی محکوم ۔ بےشک وہ اللہ اپنی ذات، صفات میں وحدہ لا شریک ہے۔

تخلیق کائنات کے بعد جب انسان کو تخلیق کیا گیا یا تو اس کی ذات میں اچھائی اور برائی کا مادہ شامل کردیا، اور بتلایا کہ اچھائی جنت جبکہ برائی کی منزل جہنم ہے۔ اور اپنانے کا اختیار انسان کو دے دیا۔ تو صالحین نے جنت اور بدکاروں نےجہنم پائی۔ لیکن بعض اوقات اچھے کام کرنے والے بھی عذاب کا شکار کیوں ہوتے ہیں ۔۔؟ مشرکین تو کفر کی بنا پر جبکہ مسلمان نااُمیدی،مایوسی کے باعت اللہ سے دور ہوتے جا رہے۔ ہمارا نصیب مقدر پہلے سے لکھا جا چکا ہے اور انسان کو تاکید کی جاتی ہے اس پر یقین رکھنے اور ثابت قدم رہنے کی۔ مقدر کے لکھےکو دعا کے سوا اور کوئی طاقت نہیں بدل سکتی، لیکن ہم کیا کرتے ہیں جب بھی کوئی آزمائش آتی ہے دعا کرنے اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کی بجائے خدا کی ذات اقدس سے شکوے شکایات کرنے لگتے ہیں اللہ سے اس مشکل کی آسانی کی دعا کرنے کی بجائے انسان سے مدد مانگتے ہیں ۔انسان سے مانگتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی ہماری طرح فانی ہے بے بس مجبور لاچار ہے اگر وہ دے گا بھی تو اللہ کے دیے ہوئے میں سے تو بہتر نہیں کہ ہم براہ راست خدا سے طلب کریں۔

انسان جو سوچتا ہے اسی کی چاہ کرتا ہے اگر مل جائے تو ٹھیک نہ ملے تو نہ امیدی نہ شکرا پن جبکہ اللہ جو ہمیں عطا کرتا ہے بہترین ہوتا ہے اور جو نہیں کرتا اس میں کوئی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد اگر کوئی اس سے پیارکرتا ہے یا  فکرمند پریشان ہوتا ہے تو وہ صرف ایک ماں ہوتی ہے جو باقی سب سے زیادہ اسے چاہتی ہے ماں کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی  پہ آنے والی ہر مشکل وہ سہہ لےلیکن اولاد محفوظ رہے۔ تو وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے کیسے اکیلا چھوڑ سکتا ہے کیوں بھول سکتا ہے تمہیں، جبکہ اس نے وعدہ کیا ہے تمہیں رزق، سکون، عزت، محبت دینے کا۔

انسانی فطرت ہے کہ ہمیں دوسروں کی ظاہری اچھائی اس کی جانب مائل جبکہ برائی اس سے متنفر کرتی ہے، لیکن یہ صرف اللہ ہی ہے جوہم گناہوں سے چور انسانوں سے محبت کرتا ہے ہمارے سب راز جانتے ہوئے بھی دوسروں پرعیاں نہیں کرتا ،ہزار گناہوں کے باوجود ہماری آنکھ سے نکلنے والے ایک آنسوں پرہمیں معاف کر دیتا ہے ہماری توبہ قبول کرتا ہے ،ہمیں بخش دیتا ہے اور بدلے میں جنت عطا کرتا ہے۔

آزمائش تو شرط محبت ہے۔

خدا نے اگر کسی سے عشق کیا تو وہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔تو کائنات میں سب سے زیادہ مشکلات تکالیف سختیاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے برداشت کیں۔اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بارہا آزمائش میں مبتلا کیا۔اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے نہیں بلکہ ہم مسلمانوں کے لئے تاکہ ہم ان کی زندگی سے بہترین نمونہ حاصل کر سکے۔ تاکہ ہم آزمائش میں بھی اللہ کی رحمت کے طلبگار رہیں اور ثابت قدم بھی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم آزمائش کا مقابلہ صبر اور یقین کے ساتھ کریں کہ یہ عارضی ہے جلد ختم ہونےوہ اللہ بہت مہربان رحمان ،رحیم بخشنے والا ہے۔ بدر میں 313 کو ایک ہزار پر فتح دے سکتا ہے نوح علیہ السلام کی کشتی کو طوفان سے بچا سکتا ہے ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو ٹھنڈا اور موسی علیہ السلام کی قوم کے لئے سمندر کو چیرکر رستہ جبکہ فرعون کے لیے پھندا بنا سکتا ہے ،یوسف علیہ السلام کو اندھے کنویں میں رزق دے سکتا ہے یعقوب علیہ السلام کو چالیس سال بعد بینائی عطا کر سکتا ہے تو اے بندہ خدا تمہیں کیوںکراکیلاچھوڑے گا۔

دل سے کبھی پکار کر تو دیکھو اس کے سامنے گرگرا کر سجدہ ریز ہو کر دعا کر کے تو دیکھو اگر وہ عرش و فرش کا مالک پوری کائنات کو تمہارا وسیلہ نا بنا دے تو کہنا۔ رب تو منتظر ہوتا ہے اپنے بندے کی پکار کا اس کی التجا کا اس کی توبہ کا۔ایک بار صدق دل سے اسکی بارگاہ میں واسطہ محمد مصطفی و آ ل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دے کر تو دیکھو اگر نہ ملے تو کہنا۔(یاد رہے تو بہ آدم علیہ السلام بھی واسطہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قبول ہوئی)

۔ تو مانگو نا خدا سے انسان کے سامنے بھی تو اپنے رونے روتے ہو ناں۔ کتنی عجیب بات ہے نا ہم خود کو پرفیکٹ معتبر اور نایاب سمجھتے ہیں اپنے علاوہ کوئی نظر ہی نہیں آتا لیکن مشکل میں فانی انسان  سے کیوں کر امید۔ سوال تو اپنے سے معتبرذات سے کیا جاتا ہے نا جو صرف اللہ تعالی کی ہے۔ تو پھر بندے سے کیسا سوال۔۔۔؟

انسان اشرف المخلوقات ہو کر بھی اللہ سے مانگنے سے کتراتا ، اور حیوان لا علم،کم عقل ہونے کے باوجود بھی اللہ سے رجوع کرتا ہے ۔آہ۔۔۔ ہے نا عجیب بات آج کل کے حالات کے پیش نظر حیوان انسان سے بہتر ہے۔ دولت کی ہوس میں انسان انسان کی جان لینے سے بھی نہیں کتراتا،لیکن کوئی بھی حیوان اپنی نسل کے جانور کا شکار نہیں کرتا تو ہم سے بہتر ہی ہوئے ناں ۔۔۔

پرندے صبح رزق کی تلاش میں نکلتے ہیں اور شام کوخالی ہاتھ اپنے گھونسلوں میں  جاتے ہیں کیونکہ ان کو  یقین ہے کہ جس نے آج رزق دیا ہے وہ کل بھی ضرور عطا کرے گا ۔ کیونکہ اس نے وعدہ کیا ہے۔  صد افسوس انسان رزق کماتا اور بچاتا بھی ہے لیکن اس کی ذات پر یقین نہیں۔ ناامیدی اور مایوسی کے باعث اس قدر دور ہو گیا ہے کہ توکل ہی نہیں کہ جس نے پیدا کیا ہے اس نے کھلانے کا وعدہ بھی کیا ہے اور جو نصیب اور مقدر میں لکھا ہے وہ ہر حال میں مل کر رہے گا۔ بے شک

 ۔بس امید اور توقع کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں دعا کرتے رہے وہ ضرور عطا کرے گا۔

دعا ہے کہ کہ اللہ تعالیٰ اللہ ہم سب کو سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق زندگی گزارنے، ہر معاملے میں اللہ سے مدد مانگنے، ہمیشہ صراط مستقیم پر چلنے ،دوسروں کا احساس کرنے اور قرآن پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

طالب دعا: عرفع علوی

************

Phoolon ki tokri Article by Aiman Ishaq

  پھولوں کی ٹوکری

از قلم :  ایمن اسحاق

رمضان کا مہینہ اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ہر انسان مقدور بھر عبادتوں میں مصروف ہے۔ایسے میں فرشتے رحمتوں کے ٹوکرے لے کر جوق در جوق زمین پر اتر رہے ہیں ۔۔۔"فرشتے انسانوں کی عبادتوں کو ایک سنہری پنکھ میں لپیٹ کر اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں"۔۔

ہم جو عبادتیں جو عرضیاں اللہ کے حضور پیش کرتے ہیں وہ قبول ہوتی بھی ہیں یا نہیں ، یہ وہ بھی نہیں جانتے۔

ہم روزے میں عبادت تو کرتے ہیں لیکن اس کے اصل مقصد کو نہیں سمجھتے۔۔"اس کا اصل مقصد تو ہمیں ان برے اعمال سے بچانا ہے جو ہماری منزل میں کانٹے بچھا کر ہماری منزل کو کھا رہے ہیں"۔

بچوں سے اکثر ایک سوال پوچھا جاتا ہے۔روزہ رکھا ہے ؟ کہاں رکھا ہے؟

میں اکثر سوچتی تھی میرا روزہ کہاں رکھا ہے؟

اور پھر ایک دن مجھے اس کا جواب مل گیا۔"وہ روزہ جو میں ایک کام سمجھ کر رکھ رہی تھی ۔اس کی حفاظت میرا فرشتہ کر رہا تھا۔"

ہم جو کچھ کرتے ہیں فرشتے اس کو اعمال نامے میں درج کرتے ہیں تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہمارا روزہ نہ دیکھا جا رہا ہو۔اس کے درجے نہ ہوں۔"جو انسان جتنا خود پر قابو پاتا اور صبر کرتا ہے اس کا روزہ اتنا ہی اعلی درجے کا ہوتا ہے۔۔"

اب سوال یہ ہے کہ فرشتہ ہمارے روزے کی کیسے حفاظت کرتا ہے؟

"ہم جب روزہ رکھتے ہیں تو وہ روزہ ایک خوشنما پھولوں کی ٹوکری کی طرح ہوتا ہے۔۔اس ٹوکری میں رنگ برنگے مہکتے ہوئے پھول ہوتے ہیں کہ اگر ان پھولوں کی خوشبو ہم محسوس کر سکتے تو ہمیں پوری کائنات مہکتی ہوئی نظر آتی۔۔"

"انسان کے روزہ رکھتے ہی وہ ٹوکری فرشتے کے ہاتھ میں آ جاتی ہے"۔۔اور پھر جب ہم نماز ادا کرتے یا قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو ان پھولوں میں سے ایسی مہک آتی ہے کہ فرشتہ بھی مسکرا دیتا ہے۔۔اور اس کی مسکراہٹ سے پوری کائنات مہک اٹھتی ہے۔۔

"پھر وقت کے تھال میں سکے گرتے ہیں اور انسان کے اصل روزے کا آ غاز ہوتا ہے۔۔"

انسان جیسے جیسے غیبت کرتا ،بغض رکھتا اور غصہ کرتا اور برے اعمال کو اپناتا ہے تو پھولوں کی مہک کم ہو جاتی ہے۔حتی کہ ان میں ویرانی چھانے لگتی ہے ۔وہ جھوٹ بولتا ہے۔ اس کے کان وہ سنتے ہیں جن کے سننے سے منع کیا گیا ہے ۔اس کی آنکھیں وہ دیکھتی ہیں جن کے دیکھنے سے منع کیا گیا ہے۔۔

"تو ایسے میں ان پھولوں میں عجیب سی بد حالی آ جاتی ہے۔۔۔جیسے وہ اپنے ہونے پر ماتم کر رہے ہوں۔"فرشتہ پھولوں کی ٹوکری کو دیکھ کر افسردہ ہوا چلا جاتا ہے۔کہ جس کی مہک نے اسے تازہ دم کر رکھا تھا اس کی مہک اسی کا مالک کھا رہا تھا۔۔

انسان صرف اس زعم میں ہوتا ہے کہ وہ روزے سے ہے لیکن یہ زعم اسے گناہوں سے بچا نہیں سکتا اور وہ اپنا نقصان کر بیٹھتا ہے۔۔۔

"اس کی سوچ اسی کے لفظوں میں ڈھل کر اس کی تدبیر کو کھا جاتی ہے"۔۔اور پھولوں کی ٹوکری اپنی آغوش میں موجود پھولوں کو دیکھ کر صرف ماتم کرتی رہ جاتی ہے۔۔

"اور پھر آخر میں صرف ایک سنہری پنکھ رہ جاتا ہے۔وہ پنکھ دراصل ایک چابی کی طرح کا ہوتا ہے جسے انسان اپنی زبان ،آنکھوں اور کانوں کو پردہ لگا کر حاصل کرتا ہے۔۔"

"افطار کا وقت ہوتے ہی فرشتہ ہاتھ میں موجود ٹوکری میں صرف ایک سنہری پنکھ دیکھ کر انسان سے بھی زیادہ بے تابی سے روزے کے افطار کا انتظار کر رہا ہوتا ہے کہ وہ اس سنہری پنکھ کو اس انسان کے لیے بچانا چاہتا ہے جو اپنی نادانی میں اس پنکھ کے سنہری پن سےنا آشنا ہے، بلکہ وہ تو خود سے بھی نا آشنا ہے۔۔"

"روزہ افطار ہوتے ہی فرشتہ اپنے سفر پر روانہ ہو جاتا ہے۔اسے اس سنہری پنکھ کو اس کے اصل مقام تک پہنچانا ہوتا ہے۔"

پھولوں کی اس ٹوکری میں سنہری پنکھ کے اوپر وہ دعائیں ہوتی ہیں جو اس انسان نے افطار کے وقت مانگی ہوتی ہیں۔۔فرشتہ نہیں جانتا کہ اس انسان کا سنہری پنکھ کب اس کو منزل کا پتا بتائے گا۔شاید تب جب وہ اپنے گناہوں سے توبہ کر لے گا۔۔۔

فرشتہ الوداعی نظر افطار کرتے آدمی پر ڈالتا ہے اور اڑتے ہوئے سوچتا ہے۔

"اے انسان! تیرے لفظوں کی تلوار تیری منزل کو کھا گئی۔۔"

***********

Saey shajar Article by Maria Akram Mehar

  سائے شجر

از قلم: ماریہ اکرم مہر

"امی میں نے نہیں جانا کل سے کالج۔"کالج بیگ صوفے پر پٹختے بھرپور غصے سے ک ہا۔

"اب کیا ہو گیا بیٹا؟"آمنہ بیگم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھاتے اپنے دوپٹے کے پلو سے اس کے ماتھے پہ آ یا پیسنا پونچھتے پوچھا۔

"امی آ پ کو پتا ہے وہ جو میرے کالج والا روڈ ہے ناں وہاں پچھلے کئی دنوں سے بارش کا پانی جمع ہے مجھے وہاں سے گزرتے ہوئے بہت ڈرلگتا ہے مجھے ایسا لگتا جیسے فٹ پاتھ پہ چلتے ہوئے میرا ذرا سا پاؤ پھسلے گا اور میں اس گندے پانی میں گر جاؤ گی اور وہاں موجود تمام لوگ مجھ پر ہنسے گے۔"مرحہ نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔ جس پہ آمنہ بیگم نے تاسف سے اسے دیکھا۔یہ سب پچھلے ایک سال سے ہی چلا آ رہا تھا وہ معمولی سے معمولی بات پہ کالج نہ جانے کی بات کرتی وجہ یہ تھی کہ دو سال قبل اسکے والد اور اکلوتا بھائی ایک حادثے میں جان بحق ہوگئے تھے جس کا اسکے ذہہن پہ کافی برا اثر پڑا تھا۔پر اعتماد تو وہ پہلے بھی اتنی نہیں تھی مگر اب تو مکمل طور پر عدم تحفظ کا شکار ہو کر رہ گئی تھی۔گھر سے باہر قدم رکھتے ہی ایک عجیب سا خوف اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتا تھا۔اپنی طرف لوگوں کی اٹھتی نگاہیں اسے عدم تحفظ سے دو چار کرتی تھیں۔

"کالج نہیں جاؤ گی!یہ تو کوئی حل نہیں۔دنیا والوں کا سامنا کرنا سیکھو بیٹا آ خر تم جیسی اور لڑکیاں بھی گزرتی ہو نگی وہاں سے۔"آ منہ بیگم نے اسے سمجھا نےکی سعی کی۔

"امی مجھ سے نہیں ہو تا یہ سب بس میں نے کہ دیا جب تک وہ روڈ ٹھیک نہیں ہو جاتا میں کالج نہیں جاؤ نگ۔"وہ کہنے کے ساتھ ہی اپنا بیگ اٹھاتی سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔جبکہ آ منہ بیگم آزردہ سی بیٹھی رہیں پھر کچھ سوچ کر اپنے موبائل فون پہ ایک شناسا نمبر ملایا۔

اگلی صبح وہ اپنے کالج والے اوقات میں ہی اٹھی مگر کالج جانے کے ارادے سے نہیں وہ فریش ہو کر جوں ہی لاونج میں آئی تو دروازے پہ ہوتی دستک نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔آمنہ بیگم اس وقت کچن میں مصروف تھیں تبھی اسے خود جا کر دروازا کھولنا پڑا دروازے پہ اسکی کالج کی واحد دوست رحاب تھی۔جسے دیکھ کر اسے کچھ حیرانی ہوئی۔

"تم یہاں کیسے؟"اس نے جھٹ سوال کیا۔

"توبہ یار اندر بھی آنے دو گی نہیں کہ نہیں اور میں یونیفارم ہوں تو ظاہر ہے تمھارے ساتھ کالج ہی جاؤں گی۔"وہ کہنےکہ ساتھ ہی گھر کے اندر داخل ہو گی۔اسے کل آ منہ بیگم نے ہی فون کر کے مرحہ کے کالج نہ جانے والی بات تفصیلی بتائی تھی۔وہ دونوں ہی گورمنٹ کالج میں زیر تعلیم تھیں اور اتفاقاً دونوں کے گھر بھی کالج کے بالکل قریب ہی تھے۔اسی لیے اس نے آ منہ بیگم کی بات سن کر یہی طے کیا کہ وہ اب سے مرحہ کے ساتھ ہی کالج جایا کرے گی کیونکہ دونوں کے امتحانات ہو نے والے تھے ایسے میں مرحہ کا کالج سے ناغہ بلکل ٹھیک نہیں تھا اسی لیے رحاب نے یہی حل نکالا وہ جانتی تھی کہ یہ اس مسلئے کا مستقل حل نہیں ہے مگر فی الوقت اسے یہی ٹھیک لگا۔

"لیکن میں تو آج کالج نہیں جانا چاہتی۔"مرحہ زرہ اداس سی ہوئی۔

"کیا مطلب نہیں جانا چاہتی میں یہاں تمھارے ساتھ کالج جانے کے لیے آئی ہوں اور تم کہہ رہی ہو کہ تمھیں نہیں جانا تمھارے پاس دس منٹ ہیں جلدی سے تیار ہو کر آجاؤ۔"اسکے نظر چرا کر کہنے پر رحاب نے اسے ڈپٹا جس پر وہ چار و ناچار تیار ہو کر نیچے آ گئی۔آمنہ بیگم بھی کچن سے نکل آ ہیں رحاب نے انہیں سلام کیا جس پہ انہوں نے بھی اسے سلامتی کی دعا دی۔

"اچھا امی خدا حافظ میں جا رہی ہوں "وہ بیگ کندھے پر لیتی بولی۔

"ہاں لیکن ناشتہ تو کر لیتی۔"آ منہ بیگم نے اسے روکنا چاہا۔

"امی کالج میں ہی کچھ کھا لوں گی۔"بنا مڑے ہی اس نے جواب دیا۔جبکہ انہوں نے تشکر بھری نگاہوں سے دیکھا۔مگر کیا یہ مستقل حل ہے؟ان کے دل میں پھر سے یہی سوال آیا۔

 وہ دونوں گلی سے نکلتے ہوئے مین روڈ پر آ گئیں۔مرحہ کے کہنے کے مطابق واقع وہ روڈ بہت خراب تھا مگر فٹ پاتھ پہ چلتے ہوئے اسے کوئی خطرہ محسوس نہ ہوا جس خطرے سے مرحہ دو چار تھی۔رحاب کو اس سمے اس معصوم سی لڑکی پہ بہت ترس آیا وہ اسکے عدم تحفظ کی اصل وجہ جانتی تھی اسی لیے اسکا نرمی سے پاتھ تھام کر چلنے لگی۔بیشک مخلص دوست آپکی زندگی میں سایہ بننے والے بادلوں کی طرح ہوتے ہیں جو نہ آپکی منزل کا سفر کم کر سکتے نہ ہی ختم مگر یہ کڑی دھوپ کی جگہ اپنا سایہ بنا کر آپ کی منزل کا سفر کسی حد تک آسان ضرور بنا دیتے ہیں یہ عمر بھر آپ کے ساتھ نہیں رہتے مگر اپنی بہت خوبصورت سی یادیں ضرور ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔

کالج کے گیٹ پر پہنچ کر رحاب نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنی کلاس کی جانب بڑھ گئی۔مرحہ بھی چلتے ہوئے اپنی کلاس کی جانب بڑھنے لگی مگر چلتے ہوئے ایک لمحے کو اسکے قدم ایک نسوانی آواز پہ رکے یہ آواز تو وہ ہزاروں میں پہنچان سکتی تھی مگر یہ کییسے ممکن تھا۔یہ آواز تو اسکے بھائی روحان جیسی تھی۔جس کی وفات دو سال پہلے ہو چکی تھی تو پھر یہ کیسے ممکن تھا یہی سوچتے اسے آواز کے تعاقب میں کوریڈور میں قدم رکھا جہاں کچھ لڑکے کھڑے آپس میں باتیں کرہے تھے۔اسے لگا اس پل کسی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسی گندے روڈ پر پھینک دیا ہے وہاں موجود تمام لڑکے اس پر ہنس رہے تھے یہاں تک کہ وہ لڑکا بھی مونچھوں کو تاؤ دیتا اس پر ہنس رہا تھا جو اسے اپنے بھائی جیسا لگا تھا اس کے قدم خود بہ خود پیچھے کو ہوئے۔یہ آواز انہیں میں سے کسی ایک کی تھی اس نے لاشعوری طور پر قدم آگے بڑھائے آواز اب بھی آرہی تھی "سنیں" مرحہ کے پکارنے پر لڑکے نے مڑ کے اسے دیکھا۔مرحہ کو شدید جھٹکا لگا اسکی صرف آواز ہی نہیں اسکی شکل وصورت بھی ہوباہو روحان کی طرح تھی مگر نگاہیں تو بلکل اس جیسی نہ تھی۔اسکے بھائی کی نگاہوں میں تو اسکے لیے تحفظ ہی تھا مگر اس لڑ کے کی نگاہیں۔ان میں تو صرف ہوس ہی بھری ہوئی تھی پھر بھلا وہ کیسے اسکا بھائی جیسا ہو سکتا تھا۔

تو وہ کیا بجا ہی عدم تحفظ کا شکار تھی، کیا ہمارا معاشرہ ہمیں واقع وہ تحفظ فراہم نہیں کرسکتا جو ایک باپ اور بھائی کرسکتا ہے؟

***************

Article by Saif Awan

  

نظریں سامنے کتاب پر جمی تھیں لیکن دماغ کو چاروں طر ف سے خیالات نے گھیر رکھا تھا،ایک سوچ جاتی تو دوسری آجاتی۔ اور جب وہ جاتی تو تیسری آجاتی۔ مثلاً  "ہماری ٹیم کا بھی جواب نہیں۔ آسان سے میچ کو پھنسا کر لوگوں کی سانسیں اٹکا دیتی ہے۔۔۔۔ 145ہی تو بنانا تھے۔اوپر کے دو آئوٹ ہوجائیں تو باقی کےچار ایسے آتے جاتےہیں جیسے صرف شکلیں دکھانے کےلئے کھیلنے آئے تھے۔۔۔ خیر چھوڑ و  "
 
صفحہ پلٹا تو خیال آیا " یہ کرائم پٹرول صرف انوپ سونی کی وجہ سے ہی دیکھنے کو دل کرتا تھا۔۔۔۔ دیوانکا تریپاتھی دھیا تو بس اپنی ٹپ ٹاپ میں لگی رہتی ہے۔۔۔ اور یہ جو آج کل سونالی کلکرنی آئی ہے۔ یہ تو کسی کام کی نہیں۔۔۔۔ ایک ہی ٹون میں بولتی چلی جاتی ہے۔ آواز کی اٹھک بیٹھک اور تاثرات نام کی تو چیز ہی نہیں ۔۔۔۔خیر جو بھی ہو، ہمیں تو کہانی سے غرض ہے۔ ۔۔۔کم سے کم ہر بارکچھ نیا دیکھنےکو تو مل جاتا ہے۔" پھر صفحہ پلٹا تو نئی سوچ آگئی۔ " نبیل دو دن پہلے قرنطینہ ہوکر اٹھا ہے۔ ۔۔۔میں نے ایک میسج تک نہیں کیا۔ جب اسے کرونا ہواتھا ، تب بھی میں صرف سوچتا ہی رہاکہ کال یا میسج کرکےافسوس کر لوں۔۔۔ اب خالی حال پوچھا تو عجیب لگے گا۔کوئی پارٹی وارٹی کردیتا ہوں،۔۔۔لیکن رمضان میں پارٹی کیسے۔۔۔۔ایسا کرتا ہوں کسی دن افطاری کروا دیتا ہوں۔۔۔چلو سوچتے ہیں کچھ" پھر صفحہ پلٹا اور اب نئے خیال نے ذہن پر دستک دی" کیا زمانہ آگیا ہے ۔ اب لوگ ہٹ ہونے کےلئے بھی کچھ بھی کرلیتے ہیں۔۔۔ یہ کتنا واہیات گانا ہے۔ چرس اور گانجا میرے کو پیارا۔۔۔ ایسے الفاظ تو بولتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اور وہ لاکھوں لوگوں کو سنا رہا ہے۔۔۔۔۔آواز کتنی گندی ہے۔۔۔پھر بھی لوگ پسند کرتے ہیں۔۔۔یہ لوگوں کی پسند ناپسند بھی عجیب ہی ہے ویسے اوٹ پٹانگ چیزوں میں لوگوں کی دلچسپی حیران کن حد تک زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔بس کیا کریں۔۔اپنی اپنی پسند۔۔۔۔"
نیا صفحہ شروع ہوچکا تھا تو چیک کا خیال آیا۔ "چیک اکائونٹ میں جمع کروانے جانا ہے لیکن روزے کی حالت میںبندہ جائے بھی تو کیسے۔ دن میں باہر نکلنے کو دل ہی نہیں کرتا ۔۔۔۔۔اور پھر بینک والے تو اب کرونا کی وجہ سے باہر ہی لائن میں کھڑا کردیتے ہیں۔۔۔۔اوپر سے رمضان میں تو بینک ٹائم پھر صرف تین بجے تک ہی ہوتاہے۔۔۔۔ کسی دن تھوڑا سا تنگ تو ہونا ہی پڑے گا۔ ۔۔۔ایسا کروں گاکہ  جمعے والے دن نماز سے فارغ ہو کر سوئوں گا نہیںبلکہ سیدھا بینک چلاجائوں گا ۔۔۔۔۔چلو کرتاہوں اس کا بھی کچھ"
اب صفحہ پلٹاتو نظریں چونک سی گئیں۔۔خیال رک سے گئے۔۔۔سوچ ٹھہر سی گئی۔۔کیونکہ ان  ان گنت خیالات اور سوچوں کی اسی ادھیڑ بن میں۔۔۔۔۔۔۔۔ پارہ ختم ہوچکا تھا
تب مجھے کسی کی یہ بات یاد آئی کہ کیا وجہ ہے کہ  عرب کے بدوئوں کی کایا پلٹ دینے والی یہ کتاب آج ہر گھر میں  موجود ہونے کے باوجود ہمیں کیوں جھنجھوڑ نہیں پا رہی۔۔۔

تحریر ۔۔۔۔۔سیف اعوان

 

Giri hui aurat Afsana by Syeda Rida Muntha Hamdani

  گری ہوئی عورت

از قلم

سیدہ ردا منتہا ہمدانی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 ہاہاہاہا ہاہاہاہا !

اتنے اونچے قہقہے پر علی اس ٹولے کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

بیوقوف عورت میری اینجوائے منٹ کو محبت سمجھ رہی ہے۔۔۔

اسی ٹولے میں سے ایک لڑکے کی آواز ابھری تھی۔

علی کا دل کانپ کر رہ گیا۔

آخر ایک اور بنتِ حوا اپنا مذاق بنوا رہی ہے۔علی دل ہی دل میں کڑھنے لگا۔

یہ شام کا وقت تھا ، علی چہل قدمی اور تازہ ہوا کی غرض سے گھر کے قریبی پارک میں چلا آیا۔ذرا جو سانس لینے کے لئے رکا تو ساتھ ہی بلد و بانگ قہقہہ اسکی سماعت سے ٹکرایا تھا۔

جب علی نے اپنے دائیں جانب نگاہیں دوڑائیں تو کچھ آوارہ لڑکوں کا ٹولہ وہاں موجود تھا۔گھاس پر آڑے ترچھے  لیٹے وہ لڑکے بے ہنگم سی ہنسی ہنس رہے تھے موضوع بحث کوئی لڑکی تھی۔

ارے سالی پیچھے ہی پڑ گئی ہے دو بول محبت کے جو بول دو عورت خود کو نجانے کونسی ریاست کی شہزادی سمجھنے لگتی ہے

علی پر تو مانو گھڑوں پانی پڑ گیا تھا۔مرد کے اس روپ پر اسے چنداں حیرت نہیں ہوئی جو عورت کو محض کھلونا سمجھتے ہیں کیونکہ آجکل کی عورت نے خود کو ایسے ہی پیش کر دیا ہے۔۔۔۔

 جو وقت گزاری کے لئے مردوں کی تسکین کا باعث بن رہی ہے۔۔۔۔۔

وہ سوچنے لگا

اسی اثناء میں اس لڑکے کا موبائل بجنے لگا۔

ہاں شہزادی بولو اپنے لہجے میں دنیا بھر کی مٹھاس سموتے ہوئے وہ شخص بولا،

علی وہاں قریب پڑے بنچ پر ٹک سا گیا ، نا چاہتے ہوئے بھی وہ یہ تماشا دیکھنے پر مجبور تھا۔۔۔۔۔۔

ارے ارے  تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔!!!

میں اب ٹھیک ہوں بس تمہاری آواز سن لی مانو جسم میں جان آ گئی ہو۔۔۔۔۔۔

دل کرتا ہے تمہاری گود میں سر رکھ کر لمبی تان کر سو جاؤں کبھی۔۔۔۔۔

چاہے اسکے بعد یہ آنکھ نہ کھلے ابدی نیند سو جاؤں اتنی سی دل نادان کی تمنا ہے

بولتے  ہوئے ساتھ والے لڑکے کو آنکھ ماری تھی اور دوسرے دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ پر تالی بجا کر ہنس پڑے۔۔۔۔

ایک منٹ جان من ذرا ابو کی کال آ گئی ہے لوفرانہ انداز میں بولتے ہوئے فون کام سے ہٹا کر اس نے بگڑے ہوئے تیوروں سے اپنے آوارہ دوستوں کو دیکھا تھا

سالے الو کے پٹھے ذرا دھیما نہیں ہنس سکتے۔ابھی اسکو آواز چلی جاتی ہاتھ آئی مچھلی اگر پھسل جاتی

ہاہاہاہا تو بھی کمینہ کہیں بھی چالو ہو جاتا ہے ابے اب بس کر ۔

باقی سب اس گفتگو پر ہنسنے لگے۔

یار تو بڑا گرا ہوا ہے ہر ٹائم ہی چالو رہتا ہے

دیکھ اب تو زیادہ کر رہا ہے گرا ہوا مرد کو کہا جاتا ہے مگر عورت بھی کم گری ہوئی نہیں جو اپنی اندھا دھند تعریف پر سدھ بدھ کھو دیتی ہے۔ارے سالی چیز کیا ہے۔پیار کے دو شبدوں پر خود کو کسی اور دنیا کا تصور کرنے لگتی ہے

علی خود سے نظریں چراتے ہوئے وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا کیونکہ مزید اخلاق سے گری ہوئی گفتگو سننے کی اب اس میں تاب نہ تھی

گری ہوئی عورت ہک ہا....!!!

اس نے لمبی سانس لی تھی۔اگر عورت خود کو یوں پیش کرے گی تو گری ہوئی عورت ہی کہلائے گی۔مردوں کا کیا ہے وہ اس طرح کے القابات افورڈ کر سکتے ہیں مگر ایک بار جو عورت گر گئی تو یہ معاشرہ اسکو گرا ہوا سمجھ کر اپنے قدموں تلے روند کر گزر جائے گا۔چند گری ہوئی عورتوں کی وجہ سے ہر باکردار عورت بدنام ہے اور چند  گرے ہوئے مرد بھی تمام مردوں پر کالا دھبہ ہیں۔

گو کہ اکثریت میں عورت کے جذبات خالص ہی ہوتے ہیں مگر کہیں کیا خوب پڑھا تھا

جس پر اعتبار کر کے تم اپنے محبت لٹا دیتی ہو اے بنت حوا

وہ مردوں میں بیٹھ کر تمہاری ذات کو موضوع بنا کر قہقہے لگاتا ہوگا

علی سوچوں میں ڈوبا ہوا گھر کے راستے پر گامزن تھا۔۔۔۔۔۔۔

**********************

Friday, 23 April 2021

To day posting list PDF 22 , 23 April ,2021

                                                                                    




To day posting list PDF

22 , 23  April ,2021 

This is the list where you can easily read our daily novels which we post on that particular day . It will make you to easily find your favorite novels collections . Which novels are added in this day you will come to know and you can download and read online by clicking on  the given  " List " . 
we will try to  to give you such list on daily bases .
These writer has written these novels with their effort and spend lots of time and energy . They are trying hard to give you strong material and heart touching words and characters . 
No doubt some of them is very famous among you but who are new writers try to read them and  appreciate their efforts .

                                       Now here is the list of

April  2021

  
You can download through the links and  can read them .

If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

Here is her novel to read and to download 


To day posting list PDF


Complete Novels 

Episode Novels


If you have problem in download please click this link belo



Wednesday, 21 April 2021

To day posting list PDF 20 , 21 April ,2021

                                                                                   




To day posting list PDF

20 , 21 April ,2021 

This is the list where you can easily read our daily novels which we post on that particular day . It will make you to easily find your favorite novels collections . Which novels are added in this day you will come to know and you can download and read online by clicking on  the given  " List " . 
we will try to  to give you such list on daily bases .
These writer has written these novels with their effort and spend lots of time and energy . They are trying hard to give you strong material and heart touching words and characters . 
No doubt some of them is very famous among you but who are new writers try to read them and  appreciate their efforts .

                                       Now here is the list of

April  2021

  
You can download through the links and  can read them .

If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

Here is her novel to read and to download 


To day posting list PDF


Complete Novels 

If you have problem in download please click this link belo



Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...