Sunday, 12 December 2021

Medical store per utarti ababelen by Dr Babar Javed

   

میڈیکل اسٹور پر اترتی ابابیلیں👍

( ڈاکٹر بابر جاوید)

 

(زرا نم ھو تو یہ مٹی ......)

 

سیلزمین سے دوائیں نکلوانے کے بعد، پیسے دینے کے لیے جب کائونٹر پر پہنچا تو مجھ سے پہلے قطار میں دو لوگ کھڑے تھے۔

سب سے آگے ایک بوڑھی خاتون، اس کے پیچھے ایک نوجوان لڑکا۔

میری دوائیاں کائونٹر پر سامنے ہی رکھی تھیں اور ان کے نیچے رسید۔ ساتھ ہی دو اور ڈھیر بھی تھے جو مجھ سے پہلے کھڑے لوگوں کے تھے۔

مجھے جلدی تھی کیونکہ گھر والے گاڑی میں بیٹھے میرا انتظار کررہے تھے۔۔۔ مگر دیر ہورہی تھی کیونکہ بوڑھی خاتون کائونٹر پر چپ چاپ کھڑی تھی۔

میں نے دیکھا، وہ بار بار اپنے دبلے پتلے، کانپتے ہاتھوں سے سر پر چادر جماتی اور جسم پر لپیٹتی تھی۔ اسکی چادر کسی زمانے میں سفید ہوگی مگر اب گِھس کر ہلکی سرمئی سی ہوچکی تھی۔ پائوں میں عام سی ہوائی چپل اور ہاتھ میں سبزی کی تھیلی تھی۔ میڈیکل اسٹور والے نے خودکار انداز میں خاتون کی دوائوں کا بل اٹھایا اور بولا۔

'980 روپے'۔ اس نے خاتون کی طرف دیکھے بغیر پیسوں کے لیے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ خاتون نے چادر میں سے ہاتھ باہر نکالا اور مُٹھی میں پکڑے, مڑے تڑے، 50 روپے کے دو نوٹ کائونٹر پر رکھ دئیے۔ پھر سر جھکالیا۔اب دکاندار نے سر اٹھا کر عورت کو دیکھا اور بولا۔

'بقایا ؟'۔ اس کی آواز اچانک دھیمی ہوگئی تھی۔ بالکل سرگوشی کے برابر۔ بوڑھی عورت سر جھکائے اپنی چادر ٹھیک کرتی رہی۔

شاید دو سیکنڈز کا سناٹا ہوا مگر ان دو سیکنڈز میں ہم سب کو اندازہ ہوگیا کہ عورت کے پاس دوائوں کے پیسے یا تو نہیں ہیں یا کم ہیں اور وہ کشمکش میں ہے کہ کیا کرے۔ دکاندار نے اچانک سر جھٹکا اور کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر، تیزی سے عورت کی دوائوں کا ڈھیر، تھیلی میں ڈال کر آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

'اچھا اماں جی۔ شکریہ'۔

بوڑھی عورت کا سر بدستور جھکا رہا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے تھیلی پکڑی اور کسی کی طرف دیکھے بغیر دکان سے باہر چلی گئی۔ ہم سب اسے جاتا دیکھتے رہے۔

میں حیران تھا کہ 980 روپے کی دوائیں اس دکاندار نے صرف 100روپے میں دے دی تھیں۔ اس کی فیاضی سے میں متاثر ہوا تھا۔

جونہی وہ باہر گئی، دکاندار پہلے ہمیں دیکھ کر مسکرایا۔ پھر کائونٹر پر رکھی پلاسٹک کی ایک شفاف بوتل اٹھالی جس پر لکھا تھا

 

'ڈونیشنز فار میڈیسنز'

یعنی دوائوں کے لیے عطیات

 

اس بوتل میں بہت سارے نوٹ نظر آرہے تھے۔ زیادہ تر دس اور پچاس کے نوٹ تھے۔ دکاندار نے تیزی سے بوتل کھولی اوراس میں سے مٹھی بھر کر پیسے نکال لیے۔ پھر جتنے پیسے ہاتھ میں آئے انہیں کائونٹر پر رکھ کر گننے لگا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ کیا کام شروع ہوگیا ہے مگر دیکھتا رہا۔

دکاندار نے جلدی جلدی سارے نوٹ گنے تو ساڑھے تین سو روپے تھے۔

اس نے پھر بوتل میں ہاتھ ڈالا اور باقی پیسے بھی نکال لیے۔

اب بوتل بالکل خالی ہوچکی تھی۔ اس نے بوتل کا ڈھکن بند کیا اور دوبارہ پیسے گننے لگا۔ اس بار کُل ملا کر ساڑھے پانچ سو روپے بن گئے تھے۔

اس نے بوڑھی عورت کے دیے ہوئے، پچاس کے دونوں نوٹ، بوتل سے نکلنے والے پیسوں میں ملائے اور پھر سارے پیسے اٹھا کر اپنی دراز میں ڈال دئیے۔

پھر مجھ سے آگے کھڑے گاہک کی طرف متوجہ ہوگیا۔

'جی بھائی'۔

نوجوان نے، جو خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا، ایک ہزار کا نوٹ آگے بڑھا دیا۔ دکاندار نے اس کا بل دیکھ کر نوٹ دراز میں ڈال دیا اور گِن کر تین سو تیس روپے واپس کردیے۔

ایک لمحہ رکے بغیر، نوجوان نے بقایا ملنے والے نوٹ پکڑ کر انہیں تہہ کیا۔ پھر بوتل کا ڈکھن کھولا اور سارے نوٹ اس میں ڈال کر ڈھکن بند کردیا۔ اب خالی ہونے والی بوتل میں پھر سے، 100 کے تین اور دس کے تین نوٹ نظر آنے لگے تھے۔ نوجوان نے اپنی تھیلی اٹھائی, سلام کیا اور دکان سے چلا گیا۔

بمشکل ایک منٹ کی اس کارروائ نے میرے رونگھٹے کھڑے کردئیے تھے۔ میرے سامنے، چپ چاپ، ایک عجیب کہانی مکمل ہوگئی تھی اور اس کہانی کے کردار، اپنا اپنا حصہ ملا کر، اسکرین سے غائب ہوگئے تھے۔

صرف میں وہاں رہ گیا تھا جو اس کہانی کا تماشائی تھا۔

'بھائی یہ کیا کیا ہے آپ نے؟'۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں پوچھ بیٹھا۔'یہ کیا کام چل رہا ہے؟'۔

'اوہ کچھ نہیں ہے سر'۔ دکاندار نے بے پروائی سے کہا۔'ادھر یہ سب چلتا رہتا ہے'۔

'مگر یہ کیا ہے؟۔ آپ نے تو عورت سے پیسے کم لیے ہیں؟۔ پورے آٹھ سو روپے کم۔ اور بوتل میں سے بھی کم پیسے نکلے ہیں۔ تو کیا یہ اکثر ہوتا ہے؟'۔

میرے اندر کا پرانا صحافی بے چین تھا جاننے کے لیے کہ آخر واقعہ کیا ہے۔

'کبھی ہوجاتا ہے سر۔ کبھی نہیں ہوتا۔ آپ کو تو پتا ہے کیا حالات چل رہے ہیں'۔ دکاندار نے آگے جھک کر سرگوشی میں کہا۔'دوائیں اتنی مہنگی ہوگئی ہیں۔ سفید پوش لوگ روز آتے ہیں۔ کسی کے پاس پیسے کم ہوتے ہیں۔ کسی کے پاس بالکل نہیں ہوتے۔ تو ہم کسی کو منع نہیں کرتے۔ اللہ نے جتنی توفیق دی ہے، اتنی مدد کردیتے ہیں۔ باقی اللہ ہماری مدد کردیتا ہے'۔

اس نے بوتل کی طرف اشارا کیا۔

'یہ بوتل کتنے دن میں بھر جاتی ہے؟'۔ میں نے پوچھا۔

'دن کدھر سر'۔ وہ ہنسا۔'یہ تو ابھی چند گھنٹے میں بھرجائے گی'۔

'واقعی'۔ میں حیران رہ گیا۔ 'پھر یہ کتنی دیر میں خالی ہوتی ہے؟'۔

'یہ کبھی خالی نہیں ہوتی سر۔ اگر خالی ہوجائے تو دو سے تین گھنٹے میں پھر بھر جاتی ہے۔ دن میں تین چار بار خالی ہوکر بھرتی ہے۔ شکر الحمدللہ'۔ دکاندار نے اوپر دیکھ کر سینے پر ہاتھ رکھا اور بولا۔

'اتنے لوگ آجاتے ہیں پیسے دینے والے بھی اور لینے والے بھی'۔ میں نیکی کی رفتار سے بے یقینی میں تھا۔

'ابھی آپ نے تو خود دیکھا ہے سر'۔ وہ ہنسا۔'بوتل خالی ہوگئی تھی۔ مگر کتنی دیر خالی رہی۔ شاید دس سیکنڈ۔ لیکن ابھی دیکھیں'۔ اس نے بوتل میں پیسوں کی طرف اشارہ کیا۔

'پیسے دینے والے کون ہیں؟۔

'ادھر کے ہی لوگ ہیں سر۔ جو دوائیں خریدنے آتے ہیں، وہی اس میں پیسے ڈالتے ہیں'۔

'اور جو دوائیں لیتے ہیں ان پیسوں سے، وہ کون لوگ ہیں؟'۔ میں نے پوچھا۔

'وہ بھی ادھر کے ہی لوگ ہیں۔ زیادہ تر بوڑھے، بیوائیں اور کم تنخواہ والے لڑکے ہیں جن کو اپنے والدین کے لیے دوائیں چاہیے ہوتی ہیں'۔ اس نے بتایا۔

'لڑکے؟'۔ میرا دل لرز گیا۔'لڑکے کیوں لیتے ہیں چندے کی دوائیں؟'۔

'سر اتنی بے روزگاری ہے۔ بہت سے لڑکوں کو تو میں جانتا ہوں ان کی نوکری کورونا کی وجہ سے ختم ہوگئی ہے'۔ اس نے دکھی لہجے میں کہا۔ 'اب گھر میں ماں باپ ہیں۔ بچے ہیں۔ دوائیں تو سب کو چاہئیں۔ تو لڑکے بھی اب مجبور ہوگئے ہیں اس بوتل میں سے دوا لینے کے لیے۔ کیا کریں۔ کئی بار تو ہم نے روتے ہوئے دیکھا ہے اس میں سےلڑکوں کو پیسے نکالتے ہوئے۔ یقین کریں ہم خود روتے ہیں'۔ مجھے اس کی آنکھوں میں نمی تیرتی نظر آنے لگی۔

'اچھا میرا کتنا بل ہے؟'۔ میں نے جلدی سے پوچھ لیا کہ کہیں وہ میری انکھوں کی نمی نہ دیکھ لے۔

'سات سو چالیس روپے'۔ اس نے بل اٹھا کر بتایا اور ایک ہاتھ سے اپنی آنکھیں پونچھیں۔ میں نے بھی اس کو ہزار کا نوٹ تھمایا اور جو پیسے باقی بچے، بوتل کا ڈھکن کھول کر اس میں ڈال دیے۔

'جزاک اللہ سر'۔ وہ مسکرایا اور کائونٹر سے ایک ٹافی اٹھا کر مجھے پکڑا دی۔

میں سوچتا ہوا گاڑی میں آبیٹھا۔

غربت کی آگ ضرور بھڑک رہی ہے ۔

مفلسی کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔

مگر انہی آسمانوں سے ابابیلوں کے جھنڈ بھی، اپنی چونچوں میں پانی کی بوندیں لیے، قطار باندھے اتر رہے ہیں۔

خدا کے بندے اپنا کام کررہے ہیں۔

چپ چاپ۔ گم نام۔ صلے و ستائش کی تمنا سے دور۔

اس یقین  کے ساتھ کہ خدا دیکھ رہا ہے اورمسکرارہا ہے کہ اس کے بندے اب بھی اس کے کام میں مصروف ہیں۔

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

***************

Zikar e Hussain se fikar e Hussain tak by Dr Babar Javed

   

ذکرِ حسین ؓ سے فکرِ حسینؓ تک!!

( ڈاکٹر بابر جاوید)

 ذکر کا مدعا فکر ہے، اور فکر ہمیں آمادۂ ذکر کرتا ہے۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ فکر ایک خاموش ذکر ہے اور ذکر ایک بولتا ہوا فکر!!  ذکر ایک دعویٰ ہے، فکر ایک نظریاتی وابستگی ہے----فکر ایک ایسی نظریاتی وابستگی ہےٗ جس میں دل اور عقل یکجائی میں ہم نوائی کرتے ہیں۔  ذکر اور فکر کے بعد ہی انسان ایک مبنی بر شعور عمل کی شاہراہ پر جادۂ منزل ہوتا ہے۔ ذکر سے فکر تک ، اور پھر فکر سے  عمل تک سفر--- ایک ایسا سفر ہےٗ جو راستے میں دم نہیں توڑتا۔ یہ سفر اپنی منزل سے دُور نہیں --- شرط یہ ہے کہ مسافر مایوس نہ ہو،  دوسرے مسافروں سے جھگڑا نہ کرے اور وہ مادّی نظامِ فکر کے ہاتھ پر بیعت نہ کرے۔ آج کے دَور میں جس نے اپنے نظامِ فکر پر مادّے کی حکمرانی قبول کر لی‘ اُس نے گویا یزید کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ یزید اور اہلِ شام مادّی نظامِ فکر کی علامت ہیں۔ جنابِ حسین ؑ اور اہلِ مدینہ روحانی اور اخلاقی نظامِ فکر کے داعی ہیں۔

 

 کرب و بلا کا یہ واقعہ محض دو شخصیات یا دو قبیلوں کا تنازع نہیں، اور نہ ہی یہ حصولِ اقتدار کی کوئی جنگ تھی۔ مدینہ سے کربلا   کے پڑاؤ تک یہ سارا سفر دراصل دو نظریات کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف امام عالی مقام اپنے ناناٗ ہادیٔ دوعالم‘ شہر علمؐ کی عطا کردہ آسمانی ہدایت کے نمائندہ ہیں، یہ اپنے والدِ گرامی‘ دَرِ علم ٗابوترابؑ کے فکری ورثے کے جانشین ہیں ---- اور دوسری طرف شامی حکمران ہیں‘ جو قیصر وکسریٰ کے نقشِ قدم  پر سنگ و خشت کے محلات کی تعمیر میں مصروف ہیں اور اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کی لیے ہر وہ کام کر گزرنے کے لیے تیار ہیں جس کی نظیر نہ کہیں دین میں ملتی ہے اور نہ ہی کتابِ انسانیت سے۔ اِدھر خانوادۂ نبوّ ت ورسالت ؐ کا بچہ بچہ، جوان، خواتین اور عمر رسیدہ بزرگ ٗسب کے سب کتابِ انسانیت میں بابِ حریت رقم کر رہے ہیں۔

 

عارفین کہتے ہیں کہ کربلا کا قافلہ رکا نہیں، آج بھی رواں دواں ہے، آج بھی جو شخص روحانی و اخلاقی اقدار کا امین ہوگا ‘مادّی نظامِ فکر کی قوتیں اُس کا جینا محال کر دیں گی، اُسے کوفۂ ملامت سے گزرنا ہو گا، شامی صفت لوگ  اسے اس کے حق سے محروم  کریں گے، وہ  سرِعام طعن و تضحیک کا  نشانہ بنے گا --- اور  اپنے ظرف کے حسبِ حال دشت ِ کرب و بلا میں آبلہ پیمائی اُس کا مقدر ہوگی۔ اگر وہ اس پر راضی رہتا ہے، شکوہ و شکایت کاراستہ اختیار نہیں کرتا ‘ تو وہ بالیقین اِس قافلے کا حصہ گنا جائے گا---ایسا قافلہ کہ جسے اس کا غبار بھی  نصیب ہو جائےٗ وہ خوش نصیب کہلاتا ہے، انعام یافتہ لکھا جاتا ہے اور حکمت کے خیر کثیر سے اُس کا دامن بھر دیا جاتا ہے۔ اِس راہ کے راہرو کو جلوہ ٔدانشِ فرنگ خیرہ نہ کر سکے گا کیونکہ اِس کی آنکھ میں خاکِ مدینہ و نجف  کا سرمہ  لگا دیا جاتا ہے۔

 

 ذکرِ حسین ؑایک شوق ہے، فکرِ حسینؐ ایک ذوق ہے۔ شوق اور ذوق دونوں کا بلند آہنگ ہونا ضروری ہے، تا آن کہ شاہراہِ مستقیم پر انسان  گامزن ہو سکے  ---  یہی راہ ہے ٗجو سیدھی ہے، یہی انعام یافتگان کی منزل ہے --  عارفینِ حق اِسی راہ پر جادہ پیما ہوتے ہیں۔ راہِ حق کے راہروٗ  اپنے پیش رَو کے قدم پر ہوتے ہیں اور اپنی استقامت کی وجہ سے پیچھے آنے والوں کے لیے ایک سنگِ میل بن جاتے ہیں۔ سلسلہ بہ سلسلہ یہ تمام سلسلے دَرِ علم ؐ کی وساطت سے شہر علمؐ میں جا ملتے ہیں۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ فقر کے بہتر( 72) درجے ہیں اور میدانِ کربلا میں یہ تمام کے تمام  درجے طے ہوئے۔ 

 

 واقعہ کربلا صرف ایک دینی درس ہی نہیں‘ بلکہ ایک مکمل درسِ انسانیت  ہے۔ اِس کی یاد، ذکر اور فکر تک رسائی کے لیے قاضیوں اور مفتیوں سے فتویٰ نہ لیا جائے بلکہ اپنے باطن میں اس کا ربط تلاش کیا جائے،  ضمیر انسانیت میں اُس کا جواز ڈھونڈا جائے۔ اس قیمتی پیغام کو مسلکی اور گروہی تعصبات کی نذر نہ کیا جائے‘ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ خانوادہ نبوت و ولایت پوری اُمّت ِ مسلمہ کا سرمایہ ہے، اِ س خانوادے سے مؤدّت کا حکم قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کا  ہر حکم قیامت تک کے لیے نافذ العمل ہے۔ سیاسی اور سماجی مجبوریاں کسی حکم کو منسوخ نہیں کر سکتیں۔اگر کسی کو ذکر حسین ؑمیں پنہاں فکر حسینؐ کے سَوتوں تک معنوی رسائی میسر نہیں آرہی ہے‘  تو وہ ذکرِ حسینؑ کا جواز قران میں موجود حکم’’مؤدۃ ذی القربیٰ‘‘ ہی میں تلاش کر لے---- اس آیت مبارکہ میں رسولِ پاکﷺ کو وحی کی جارہی ہے کہ آپؐ انہیں کہہ دیں‘ میں تم سے رسالت کا اجر نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے عزیز و اقرباء کے ساتھ مؤدت اختیار کرو۔ مستند احادیث مبارکہ میں درج ہے کہ اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دو اور انہیں اہلِ بیت کی محبت سکھاؤ۔ مؤدتٗ محبت سے کم درجے کا جذبہ ہے، اِس کا کم از کم مطلب یہ ہے کہ اہل بیت اور جملہ سادات کو عوام الناس کی صف میں کھڑا نہ کیا جائے۔ خالقِ کائنات نے اپنے حبیبؐ کے نسب کو یہ عزت و تکریم دی  کہ عوام الناس  کا صدقہ و زکوٰۃ  اِن پر حرام کر دیا‘ہمیں  مخلوق ہونے کے ناتے  یہ فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔

 

  ہمارے ہاں یہ ایک عجیب رواج بن چکا ہے کہ محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہی سوشل میڈیا پر متنازع گفتگو کا آغاز ہو جاتا ہے، ہر طرف ایک دانشورانہ اور مجتہدانہ پند و نصائح کا طومار لگ  جاتا ہے-- ذکر ایسے نہیںٗ ایسے ہونا چاہیے ، یاد اس طرح نہیں بلکہ اس طرح منانی چاہیے ، محبت کے تقاضے یوں نہیں بلکہ یوں پورے ہوتے ہیں، اور یہ کہ یہ لفظی ترکیب اس طرح نہیں بلکہ اس طرح سے باندھنی چاہیے، الغرض اس لایعنی بحث میں ہم ذکر اور فکر دونوں سے دُور ہوئے جاتے ہیں۔ یہ  ایک  فکری المیہ ہے کہ ہم محبت اور عقیدت کی بجائے اہلِ بیت کی بے مثل قربانیوں کو محض سیاسی تناظر میں دیکھنے کی جستجو کرتے ہیں۔ تاریخی واقعہ جیسا بھی ہو ٗاگر تاریخی شخصیت سے محبت و مؤدت کا رشتہ نہ ہوگا تو ساری  گفتگو ایک بے تعلق  فلسفہ بن کر رہ جاتی ہے۔ سیاسی توجیہات تلاش کرنے والے تلاشِ حق میں ناکام رہ جاتے ہیں۔ بے تعلق فلسفہ اور تاریخ تو غیر مسلم بھی پڑھتے رہتے ہیں اور  اپنے طور ریسرچ کرتے رہتے ہیں، لیکن انہیں کلمہ اور کلمے والوں کی نسبت نصیب نہیں ہوتی۔ بات ریسرچ کی نہیں‘ سرچ کی ہے۔ ریسرچ واقعات اور افراد  کی ہوتی ہے، سرچ یا تلاش ٗحق کی ہوتی ہے۔ حق کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ حق ٗحق کو نہیں کاٹتا۔ مردانِ حق اپنے سے پہلے گزرنے والے حق پرستوں کے ساتھ ربط اور رابطے میں ہوتے ہیں۔ ایسی تحقیق جو ماضی سے منقطع کردے‘ وہ عام طور پر گمراہ کن ہوتی ہے۔ راہِ حق ٗراہروانِ حق کے چلنے اور کہنے سے ترتیب پاتا ہے۔ حکم ہے’’کونو مع الصادقین‘‘ سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔ مرشدی حضرت واصف واصفؒ فرماتے ہیں کہ سچ وہ ہے جو سچے کی  زبان سے نکلے۔  اب یہ جاننا کوئی راکٹ سائینس نہیں کہ حق پرست کون تھے، اور اُن کے مقابل میں آنے والے کون ہیں۔ آج ہم اپنے رائے کا ووٹ جس کیمپ کی طرف کاسٹ کرتے ہیں، اگر ماضی میں ہمیں وہ زمانہ ملتا تو ہم اسی کیمپ کا حصہ ہوتے۔ سلامتی کے جس دین کو سلامت رکھنے کے لیے آلِ نبیؐ نے اپنا سب  کچھ  قربان کیا ٗ اس دین کو ہم نے کہاں کہاں برباد کیا؟ ہمیں سوچنا چاہیے۔ ہمیں اپنی سوچ کے گریبان میں جھانک کر دیکھ لینا چاہیےکہ ہم کس طرف کھڑے ہیں. معترفین کی طرف یا معترضین کی طرفداری میں؟

حکیم الامّت اس معاملے میں ایک پُرحکمت فرقان قائم کرگئے.

 

حقیقتِ اَبدی ہے مقامِ شبیّری.

 

بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی.۔۔

***************

Kaghaz ki dosti by Amna

  افسانہ:

کاغذ کی دوستی

 

زندگی میں آپ کا سچا ساتھی پتہ ہے کون ہوتا ہے۔ اللّٰہ کے ساتھ سے تو کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تو کبھی ساتھ چھوڑتا ہی نہیں ہے۔ لیکن ہم انسان ہے نہ ہم چاہتے ہیں کوئی ہو جو ہمارے سامنے بیٹھ کر ہمیں سُنے ، ہمیں دکھائی دے۔ اور پتہ ہے ایسا کون ہے سیدھی لکیروں والا صاف کاغذ۔ یہ کاغذ انسانوں کی نسبت زیادہ وفادار ہوتا ہے ۔ بس اسکی ایک شرط ہوتی ہے ۔ یہ چاہتا ہے اِسے ہمیشہ سنبھال کر رکھا جائے۔ جب تک ہم اِسے اہمیت دیتے ہیں یہ ہمارے راز سنبھال کر رکھتا ہے ۔

پتہ سب کی زندگی ایک کہانی ہے۔ اور ہر کوئی اس کو اپنے انداز میں پڑھ رھا ہے۔ بس زندگی کی کتاب میں یہاں اچھے ورق لکھے ہیں وہاں برے ورق بھی لکھے ہیں یہ الگ بات ہے کہ کسی کے اچھے ورق پہلے آجاتے ہیں تو کیسی کے برے ۔۔ لیکن اچھے اور برے ورق ہر کہانی میں میں اپنے اپنے انداز میں لکھے ضرور ہیں ۔۔

اور ہم انسان ہمیشہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہو جو ہماری اس کہانی کو سُنے ، اُکتاے بغیر کوئی ہو جو غور سے سُنے، پر یہ دنیا ہے یہاں بس سب کی پاس اپنے مطلب کی بات سننے کا وقت ہے

پتہ ہے اس کہانی کو بغیر مطلب کے کون پوری طرح اپنے اندر سمیٹ سکتا ہے۔  ایک سیدھی لکیروں والا کاغذ۔۔

میری زندگی کی ہر اچھائی اور برائی کو اپنے اندر سمیٹنے والا میرا بہت ہی اچھا اور سچا دوست کاغذ۔۔

یہ کبھی مجھے چھوڑتا نہیں ہے، میرے قلم کو اپنے اپر لکھنے سے روکتا نہیں ہے۔" ٹائم نہیں ہے " یہ نہیں کہتا۔ میری خوشی میرا غم اپنے اندر سمیٹ کر مجھے بکھرنے سے بچا لیتا ہے

میری یہ دوستی آٹھویں کلاس سے ہوئی ، پھر وقت اور لوگوں کے رویوں نے اِسے مظبوط کر دیا

یہ میری تنہائی کا ساتھی اور میرا ہمراز بن کے رہا ہے ۔

اس مصروف دور میں چاہے فیملی ہو یا دوست ہر کوئی بس اپنی  ذمداری تک ہی آپکا ساتھ دیتا ہے ۔ آج کے دور میں فیملی کی ذمداری ضروریات پوری کرنا اور دوستوں کا کام سکول کالج میں آپکے ساتھ گھومنا اور آپکو کمپنی دینا ہے۔ یقین کرے اس سے زیادہ کسی کو آپکی زندگی سے کوئی سروکار نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے اور میں نے اس حقیقت کو بہت جلد مان لیا تھا۔ میں نے کاغذ کی دوستی کو اپنے لیے منتخب کر کے اپنی تنہائیوں کو اپنے تک محدود کر لیا تھا۔ میں نے کبھی کسی سے ٹائم نہیں مانگا تھا۔۔ مجھے لوگوں سے بیزاری ہونے لگی تھی۔ کسی کی بھی دوستی مجھے بس کچھ دن اچھی لگتی ، کچھ دن بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا کوئی مجھ پہ اپنا آپ مسلط کر رہا ہے۔ مجھے اُکتاہٹ ہوتی۔

میں تنہائی پسند تھی مگر ایک اداس اور خاموش لڑکی کبھی نہیں تھی ۔ میں اپنی سٹوڈنٹ لائف کو پوری طرح انجوائے کرتی ، ہنستی تھی ہنساتی تھی۔۔ لیکن بند کمرے میں رہنا پسند تھا مجھے۔

لیکن جب کوئی دوست مجھ سے ٹائم مانگے ، شکایت کرے ، حق جتائے مجھے اچھا نہیں لگتا تھا ، مجھے اُس سے بیزاریت ہو جاتی۔ شائد میں اپنی ذات پر کسی کا حق نہیں چاہتی تھی۔ نہ مجھے کسی کی ذات پہ اپنی دوستی کا حق جتانے کا شوق تھا۔جب کوئی دوست بننا چاہتی تو بنا لیتی مگر جب کوئی شکوہ شکایت کرے تو مجھے اپنی ذات کسی قید میں محسوس ہوتی۔

میں اپنا سب کچھ اپنی ڈائری میں لکھتی، جب مجھے کوئی ہرٹ کرتا میں روتی نہیں تھی بس کاغذ پہ لکھ دیتی ، ہرٹ کرنے والے کو بھی نہیں بتاتی ، میں ہنستی رہتی تھی اور لوگوں کو لگتا تھا مجھے کچھ بُرا نہیں لگتا۔۔ اس لئے کوئی کچھ بھی بول دیتا تھا مذاق کہہ کر۔

مجھے لوگوں کی ہمدردیاں نہیں پسند تھی، مجھے میری پرواہ دکھانے والوں سے چڑ ہوتی تھی۔ میرے پاس کاغز تھا قلم تھی مجھے کبھی کسی کی ضرورت پڑی ہی نہیں تھی۔

پھر زندگی کی کتاب میں ایک ایسا ورق آگیا جو پوری زندگی پر حاوی ہو گیا۔۔ جس کی شروعات اتنی خوبصورت تھی کہ پوری کتاب میں بس ایک ہی ورق کی لگی ۔ ایسا لگا کے اب ورق نہیں پلٹا جاے گا ۔

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کسی کی دوستی کبھی آپکی زندگی کو اتنا خوبصورت بنا سکتی ہے۔ مجھے اُس سے مل کر لگا کے میں غلط سوچتی رہی اب تک۔ میں سمجھتی رہی لوگ اپنے مطلب تک دوست ہوتے ہیں بس۔ وہ میری پہلی دوست تھی جس سے میں کبھی بیزار نہیں ہوئی تھی کبھی ۔ جس سے باتیں کرنا مجھے اچھا لگتا تھا۔ میری دوست بن کر اُس نے میری تنہائیوں کو ختم کیا تھا۔ کبھی زندگی میں کوئی ایسا تھا ہی نہیں یا کسی کو اتنا حق دیا ہی نہیں تھا ۔ جو دن رات بات کرے ۔ وہ دن رات میری خبر رکھتی ، بات نہ ہو پریشان ہو جاتی۔۔ وہ سمجھاتی کہ دوسری دوستوں کے ساتھ اچھے سے رہا کرو لڑائی نہ کیا کرو ۔۔اُس کے آنے کے بعد میرے پاس اپنے سچے اور پُرانے دوست کے لیے وقت ہی نہ رہا۔ میں نے ساری ڈائریاں لاک اپ میں رکھ دی۔۔

دن میں کیا کیا۔۔ سب وہ پوچھتی

 

وہ میری تنہایاں اکیلے رہنے کی عادت سب مجھے جیسے بھول ہی گیا۔۔

بس پھر زندگی کی کتاب کا ورق پلٹنے کا وقت ہو گیا۔۔۔ وہ تو صرف ایک ورق ہی تھا اور میں نے پوری کتاب ہی سمجھ لیا تھا پھر کچھ یوں ہوا کہ اُس نے مجھے۔۔

 

"تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی" سے

"تمہارے ساتھ نہیں رہنا" تک کا سفر کروایا

دل میں اعلیٰ مقام دے کر مجھے

میری ہی نظروں سے گرایا۔۔۔۔۔

اندھیرے مٹا کر روشنی دکھا کر

پھر اس نے گہری کھائی میں گِرایا

دوست نہیں ہوتا کوئی ، قسمیں کھا کر بھی

چاہو تو مر جاؤ اب یوں اُس نے بتایا

کچھ ایسے اُس نے اس دوستی کو

نبھایا۔۔ کچھ ایسے اُس نے نبھایا

 

پتہ ہے آج میرے پاس اس کہانی کو سننے والا کوئی نہیں، کیونکہ کسی دوست کو اتنی اہمیت دینا، اتنا چاہنا

سننے والے کے لیے شائد ایک مزاق ہو۔

مگر آج جب درد دل سے عاجز آکر اپنے پرانے دوست کو لاک اپ سے نکالا تو آج بھی وہ میرے دکھ کو سمیٹنے کے لیے تیار تھا۔ آج بھی یہ کاغذ کا ٹکڑا انسانوں کو مات دے گیا

کیوں چھوڑا تھا یہ نہیں پوچھا اس نے۔۔ بس جو کسی کو نہیں کہہ سکتے وہ کہو ۔۔۔

پتہ ہے دوست تو اب بھی بہت ہے پر اب یقین باقی نہیں رہا نہ کسی دوستی کی ضرورت ۔ اب اپنی ذات کے اندھیروں میں رہنا اچھا لگتا ہے

افسانہ نگار: آمنہ

٭٭٭٭٭٭٭٭

Thekedaron ka mulk by Dr Babar Javed

   

ٹھکیداروں کا ملک !!

( ڈاکٹر بابر جاوید)

مجھے کل ایک دوست نے کراچی کی ایک خاتون کا وزیراعلیٰ سندھ کے نام خط بھجوایا، خاتون نے خط میں لکھا، میرے خاوند انتہائی علیل ہیں، یہ ہفتے میں تین بار ڈائیلیسز کراتے ہیں، ان کے ڈائیلیسز، ماہانہ ٹیسٹوں، ادویات، انجیکشنز اور ڈاکٹروں کی فیسوں پر ایک لاکھ 75 ہزار روپے ماہانہ خرچ ہو جاتے ہیں۔

ہماری دونوں بیٹیاں مل کر یہ اخراجات برداشت کرتی ہیں لیکن اب ان کے بس کی بات بھی نہیں لہٰذا میری آپ سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر میرے خاوند کے میڈیکل اخراجات کا کوئی مستقل بندوبست کر دیں، خاتون نے آخر میں لکھا، میرے خاوند میرے گھر میں رہتے ہیں اور یہ گھر مجھے میری والدہ نے دیا تھا، یہ ایک عام سا خط تھا، ملک میں روز ہزاروں لوگ اس قسم کے خط لکھتے ہیں اور حکومت سے امداد مانگتے ہیں، یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں لیکن یہ خط اس کے باوجود غیرمعمولی ہے، کیوں؟

کیوں کہ یہ درخواست کسی عام شخص نے نہیں کی، یہ خط پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کی بہو دُر لیاقت علی خان نے لکھا تھا اور جس مریض کے لیے امداد مانگی جا رہی ہے اس کا نام اکبر علی خان ہے اور یہ لیاقت علی خان اور بیگم رعنا لیاقت علی کا بیٹا ہے۔

ہمارے ملک میں شاید بہت کم لوگوں کو علم ہو گا لیاقت علی خان کرنال کے بہت بڑے جاگیردار خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ان کی جاگیر میں ریلوے اسٹیشن تھا اور ان کے کھیت اور باغ میلوں تک پھیلے تھے، وہ 1918 میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں پڑھنے گئے تھے، وکالت شروع کی تو وہ چند برسوں میں ہندوستان کے بڑے وکلاء میں شمار ہونے لگے، 1923میں سیاست میں آئے اور 1926 میں انگریز دور میں یوپی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔

 

مسلم لیگ جوائن کی تو قائداعظم کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کے سب سے بڑے لیڈر بن گئے، 1947 میں پاکستان آئے تو اپنی ساری زمین جائیداد، روپیہ پیسہ حتیٰ کہ کپڑے تک بھارت چھوڑ آئے اور کراچی میں جائیداد کا کسی قسم کا کلیم نہ کیا، اس سرزمین پر ایک انچ زمین نہ لی، وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے، وہ اگر چاہتے تو آدھا کراچی، لاہور اور راولپنڈی ان کا ہوتا، وہ اگر دہلی اور ممبئی کے گھروں کا کلیم ہی لے لیتے تو ان کا خاندان آج ارب پتی ہوتا لیکن اس درویش صفت انسان نے ملک کو اپنا سب کچھ دے دیا لیکن بدلے میں لیا کچھ نہیں۔

ان کی بیگم اپنے زمانے کی انتہائی خوب صورت، مہذب اور پڑھی لکھی خاتون تھیں، وہ برٹش آرمی کے انگریز میجر جنرل ڈینیل پینٹ کی بیٹی تھیں، والدہ برہمن تھی، لکھنو یونیورسٹی سے گریجوایشن کی اور گوکھلے میموریل اسکول کلکتہ میں پڑھانا شروع کر دیا، 1931 میں ایم اے کیا اور دہلی میں پروفیسر بن گئیں، ان کا نام شیلا آئرن پینٹ تھا، 1932 میں اسلام قبول کیا، خان لیاقت علی خان سے شادی کی اور شیلا سے بیگم رعنا لیاقت علی خان بن گئیں۔

ان کے دو بیٹے تھے، اکبر علی خان اور اشرف علی خان، یہ دونوں سعادت مند بھی تھے اور عزت دار بھی، لیاقت علی خان اور رعنا لیاقت علی خان نے جوانی فراوانی میں گزاری تھی، دنیا جہاں کی نعمتیں ہاتھ باندھ کر سامنے کھڑی رہتی تھیں لیکن یہ لوگ جب پاکستان آئے تو یہ خالی ہاتھ تھے، کراچی میں خان لیاقت علی خان کے نام پر ہزاروں ایکڑ پر لیاقت آبادکا سیکٹر بنا لیکن اس میں بھی خان لیاقت علی خان نے ایک انچ زمین نہیں لی۔

یہ جب 16 اکتوبر 1951 کو راولپنڈی میں سید اکبر کی گولی کا نشانہ بنے اور ان کی اچکن اتاری گئی تو پتا چلا ملک کے پہلے وزیراعظم نے شیروانی کے نیچے کرتہ نہیں پہنا ہوا تھا، بنیان تھی اور وہ بھی پھٹی ہوئی تھی، گھر میں کپڑوں کے صرف تین جوڑے اور دو جوتے تھے، اکائونٹ میں چند سو روپے تھے، بیگم اور بچے وزیراعظم ہائوس میں رہتے تھے، خواجہ ناظم الدین نئے وزیراعظم بن گئے، یہ اس گھر میں آئے تو پتا چلا لیاقت علی خان کی فیملی کے لیے پورے ملک میں کوئی گھر موجود نہیں، سوال اٹھا یہ لوگ کہاں جائیں گے؟

 

لہٰذا خواجہ ناظم الدین نے بیگم رعنا لیاقت علی خان کو ہالینڈ میں سفیر بنا کر بھیج دیا، بیگم رعنا ہالینڈ، پھر اٹلی اور آخر میں تیونس میں سفیر رہیں، یہ واپس آئیں تو ذوالفقار علی بھٹو نے انھیں گورنر سندھ بنا دیا، یہ پاکستان کی پہلی خاتون چانسلر بھی رہیں، یہ کراچی یونیورسٹی کی چانسلر تھیں، آپ اپوا سے لے کر پاکستان نیشنل وومن گارڈز، پاکستان وومن ریزرو، پاکستان کاٹیج انڈسٹریز شاپ، ماڈل کالونی برائے کرافٹس، گل رعنا نصرت انڈسٹریل سینٹر، کمیونٹی سینٹر یا پھر فیڈریشن آف یونیورسٹی وومن اور انٹرنیشنل وومن تک ملک میں خواتین کا کوئی ادارہ دیکھ لیں آپ کو خواتین سے متعلقہ ہر بڑے ادارے کے پیچھے بیگم رعنا لیاقت علی خان ملیں گی، یہ جب ہالینڈ میں سفیر تھیں تو ان کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہوا۔

ہالینڈ کی ملکہ جولیانا ان کی دوست بن گئیں، یہ دونوں خواتین اس وقت پورے یورپ میں مشہور تھیں، بیگم رعنا لیاقت تاش کے کھیل بریج کی بہت بڑی ایکسپرٹ تھیں، یہ روزانہ ملکہ کے ساتھ بریج کھیلتی تھیں، ایک دن ملکہ جولیانانے بیگم رعنا کے ساتھ شرط لگائی اگر تم آج کی بازی جیت گئی تو میں تمہیں اپنا ایک محل گفٹ کر دوں گی، بازی شروع ہوئی اور بیگم رعنا لیاقت علی جیت گئیں، ملکہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنا ایک محل رعنا لیاقت علی خان کو دے دیا اور بیگم صاحبہ نے یہ محل حکومت پاکستان کے لیے وقف کر دیا۔

آج بھی ہالینڈ میں پاکستان کا سفارت خانہ اسی محل میں قائم ہے، یہ 1990میں کراچی میں فوت ہوئیں اور انھیں مزار قائد پر خان لیاقت علی خان کے پہلو میں دفن کر دیا گیا لیکن یہ ہوں یا خان لیاقت علی خان وہ اپنی اولاد کے لیے کوئی زمین یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے اور آج ان کے صاحب زادے اکبر علی خان اپنی بیگم دُر لیاقت کے گھرمیں رہتے ہیں اوران کی حالت یہ ہے ان کی بیگم اپنے بیمار خاوند کے علاج کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھنے پر مجبور ہیں، ملک کے پہلے وزیراعظم کے صاحب زادے اور بہو ہر ماہ ایک لاکھ 75 ہزار روپے افورڈ نہیں کر سکتے، یہ خان لیاقت علی خان کے ملک میں اپنے ڈائیلیسز کا خرچ پورا نہیں کر سکتے۔

 

یہ ملک ان لوگوں کا تھا، یہ وہ لوگ تھے جو میلوں پر پھیلی جاگیریں چھوڑ کر اس ملک میں آئے اور پھر پھٹی ہوئی بنیان کے ساتھ دفن ہوئے، یہ ملک راجہ صاحب محمود آباد جیسے لوگوں کا ملک تھا، وہ محمود آباد کی ریاست کے راجہ تھے، پوری زندگی اپنی رقم سے مسلم لیگ چلائی، پاکستان بنا تو کراچی آ گئے اور حکومت سے کوئی گھر، کارخانہ اور زمین نہیں لی، ملک میں جب سیاسی افراتفری پھیلی، مارشل لاء لگا تو یہ مایوس ہو گئے اور چپ چاپ اٹھے، بیگ اٹھایا اور لندن جا بسے۔

راجہ صاحب محمود آباد کا 1973میں لندن میں انتقال ہوا، وہ انتقال سے قبل ہر ملنے والے سے کہتے تھے "میں پوری زندگی جن انگریزوں سے لڑتا رہا، مجھے آخر میں انھی انگریزوں کے گھر میں پناہ لینا پڑ گئی اور میں آج ان کی مہربانی سے اپنا آخری وقت عزت کے ساتھ گزار رہا ہوں " یہ سردار عبدالرب نشتر، مولوی فضل حق، حسین شہید سہروردی اور خواجہ ناظم الدین کا ملک تھا، یہ لوگ ملک بننے سے قبل کروڑ بلکہ ارب پتی تھے لیکن وہ اس ملک میں آئے۔

عسرت میں زندگی گزاری اور پھر ان کی اولادیں اکبر علی خان کی طرح علاج اور چھت کو ترستی ہوئی دنیا سے رخصت ہو گئیں جب کہ ان کے اردگرد1700ایکڑ کا رائے ونڈ بھی بن گیا، کراچی کا بلاول ہائوس 64 عمارتیں ہضم کرنے کے باوجود بھی نامکمل رہا، لندن کے ایک فلیٹ کی برکت سے تین سو کنال کا بنی گالہ بھی بن گیا اور راولپنڈی کی رنگ روڈ میں چند کلومیٹر کا اضافہ کر کے زلفی بخاری کے نام پر اربوں روپے سمیٹ لیے گئے اور غلام سرور خان کے نام پر نواسٹی کے مالکان نے مارکیٹ میں بیس تیس ہزار فائلیں بھی بیچ دیں۔

آپ المیہ دیکھیے آج اس ملک میں قائداعظم کے رشتے دار چھت، علاج اور سواری کو ترس رہے ہیں، خان لیاقت علی خان کی بہو وزیراعلیٰ کو لیاقت علی خان کے صاحب زادے کے لیے ایک لاکھ 75 ہزار روپے کی امداد کی درخواست کر رہی ہے، راجہ صاحب محمود آباد ان انگریزوں کے قبرستان میں مدفون ہیں جن سے لڑ کر انھوں نے پاکستان حاصل کیا تھا، حسین شہید سہروردی بیروت میں لیٹے ہیں، خواجہ ناظم الدین کی آل اولاد تاریخ کے صفحات میں گم ہو گئی۔

مولوی فضل حق عبرت کی نشانی بن کر ڈھاکہ میں دفن ہو گئے اور محمد علی بوگرا ملک چھوڑ کر بوگرا گئے اور چپ چاپ وہاں انتقال کر گئے جب کہ ملک کے ٹھیکے دار آج بھی چینی، آٹے اور ایل این جی سے ایک ایک مہینے میں چار چار سو ارب روپے کما لیتے ہیں، آج لیاقت علی خان کی بہو اس ملک میں پوچھ رہی ہے کیا یہ ملک ان ٹھیکے داروں کے لیے بنا تھا، کیا لیاقت علی خان جیسے لوگوں نے یہ ملک اس لیے بنایا تھا کہ ان کے نواب ابن نواب بچے علاج کو ترستے رہیں جب کہ زلفی بخاری اور غلام سرور خان جیسے لوگ اربوں روپے کما لیں؟

یہ ہے آج کا پاکستان، ٹھیکے داروں کا ملک۔ ٹھیکے دار مفادات کے حمام میں ننگے نہا رہے ہیں، یہ ایک ایک رات میں وفاداری بدل کر صاف ستھرے ہو جاتے ہیں جب کہ مالک اور ان کی اولادیں علاج اور عزت کو ترستی ترستی دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں، ملک کے مالکوں کے بچے ڈائیلیسزکا خرچ برداشت نہیں کر پا رہے جب کہ وزیرصحت ادویات کی قیمت بڑھا کر تین چار ارب روپے جیب میں ڈالتے ہیں اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل بن جاتے ہیں، کیا بات ہے؟ ہمیں شاید من حیث القوم انھی احسان فراموشیوں کی سزا مل رہی ہے، ہم شاید اسی لیے پوری دنیا سے جوتے کھا رہے ہیں۔


***************

Tuesday, 7 December 2021

Ghazal by Irum Naz

 

 غزل


شاعرہ:- ارم ناز(کھنڈہ، صوابی)


میں ارمانوں کے گمنام شہر میں ماری جاؤں گی
میں کسی طلسماتی پہر میں ماری جاؤں گی

نہ ہوگا ساتھ کوئی اپنا سوائے تنہائی کے
میں خاموشیوں کے سنسان قہر میں ماری جاؤں گی

میں طوفانِ نوح کی زد میں آئی ہوئی ناتواں کشتی
مجھے معلوم ہے میں جذبات کی لہر میں ماری جاؤں گی

وہ شخص ساحر ہے کر لیتا ہے بس میں اپنے
میں اک لمحہ گر ٹہری تو اس کے سحر میں ماری جاؤں گی

راستے پُرخار ہے یوں ضد نہ کر ساتھ چلنے کی
میری مان تم اپنے گھر میں ٹہر، میں ماری جاؤں گی

موت کا کوئی خاص وقت کہاں معین ہے
نہ ہوئی نصیب بوقتِ فجر تو میں ظہر میں ماری جاؤں گی

نہ موجود مہلت ہے نہ ہے خواہش اب جینے کی
سو عین ممکن ہے کہ میں اسی دہر میں ماری جاؤں گی 

موسموں کے حسن اثرانداز نہیں ہوتے بیزار طبعیتوں پر
ہو گی بہار مگر میں اپنی ذات کی کُہر میں ماری جاؤں گی 

خدا کے حوالے کر اے سنگدل ماہیوال نہ دیں سہارا مٹی کا
گھڑا اگر جو ٹھوٹ گیا تو میں نہر میں ماری جاؤں گی

نہ بنا جذبوں کو اذیت بھری قید، خدارا محتاط رہ
وگرنہ میں تمہاری حبس بھری مِہر میں ماری جاؤں گی


To day posting list PDF 1 to 7 December 2021

                                                                                                                                                                                     




To day posting list PDF

1 to 7 December 2021

This is the list where you can easily read our daily novels which we post on that particular day . It will make you to easily find your favorite novels collections . Which novels are added in this day you will come to know and you can download and read online by clicking on  the given  " List " . 
we will try to  to give you such list on daily bases .
These writer has written these novels with their effort and spend lots of time and energy . They are trying hard to give you strong material and heart touching words and characters . 
No doubt some of them is very famous among you but who are new writers try to read them and  appreciate their efforts .

                                       Now here is the list of

December    2021

  
You can download through the links and  can read them .

If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

Here is her novel to read and to download 


To day posting list PDF


Download Link ( Posting list )


Ek larki khawab si by Miss Rajput (Episode 1 & 2)

Jansar by Fatima Farooq (Episode 6)

Mohabbat se khuda tak ka safar by Mehwish Siddique episode 13

Ab kya kia jaye afsana by Sehrish Khan

Bewafa by Sidra Sheikh Complete

Afsos afsana by Zill Writer

Yariyan by Sidra Sheikh Complete

Safar tamam hua by Sumera Sarfraz Complete ( Episode Last )

Tera mera sath ho by Bint E Hawa (Episode 8)

Ek larki khawab si by Miss Rajput Complete (Episode 3) 

Raakh by Azwa Eman ( New Episode 18 )

Hina Digest October 2021

Dhoop chaon by Masooma Mansoor Complete

Achay main ki dulhan aapa by Shireen Haider Complete

Main juhi tere aangan ki by Aliya Hira

Pakeeza Digest November 2021

Aakhri chaal by Asma Aziz Complete PDF

Zandan e zat by Fatima Niazi Complete Episode 11 

Khawab aye dil bikharny na do by Yumna Complete

Dharkan by Sidra Sheikh Complete

Ada bint e abdul hameed by Enna Ahmad Complete

Mala By Nimra Ahmed Episode 1 PDF

Aab e Rawaan by Heba Shah (Part 6)

Zindan by Noor Ameer (Part 4)

Hijar e yaar mein by Ritab Wajid (Episode 3)

Khamoshiyan Season 2 by Sidra Sheikh Complete

Khamoshiyan Season 1 by Sidra Sheikh Complete

Jeeny bhi de dunya hame by Sidra Sheikh Complete

Woh Shaksh Akhrish Mujhe Be-Jaan kar Gaya by TinkerBell Complete Friendship Based Novel, Suspense Based Novel

Maat by Sidra Chaudhary Complete

Safar tamam hua by Sumera Sarfraz Complete

Ek chota sa ehsas mohabbat kehlata hai by Husny Kanwal Complete

Shiddat e mohabbat by Nazia Rajpoot Complete PDF  (Episode 27 Part 2)

Woh Shaksh Akhrish Mujhe Be-Jaan kar Gaya by TinkerBell Complete

Maat by Sidra Chaudhary Complete

Jasim by Aqsa Rehman (Part 3)

Tahammul e ishq by Maliha Choudhary Complete

Ashk Shafaq Goo by Sawera Ahmed Complete Online Reading epi 10

Gham e taweel dam e mukhtasir pee ghalib hai by Rida Zaidi (Part 3)

Mujhy tera har zulm qabool by Suhaira Awais Complete

Azmaish by Kaanzadi Complete PDF

Tere sung by Noor Fatim (Episode 13 )





If you have problem in dawn load please click this link belo



Sunday, 5 December 2021

Mala By Nimra Ahmed Episode 1 PDF

      

 


Mala By Nimra Ahmed Episode 1 PDF 

Is a social romantic novel by the writer 

She has written many stories and has large number of 

fans waiting for her novels 

she has written in many digest like 

Shuaa Kiran Khawateen 

Hina Hijjab 


and many more 

She is very famous for her unique writing style 

Mostly writer shows us the reality and stories 

which are around us 

They have such   ability to guide us through their 

words and stories 

Novels are available as in PDF and Online Read .

You can download through the links and  can read them .


If you find any issue in download or online reading links please 


watch the video given in link at the end of the links 

Here is her novel to read and to download 



 Download Link 


OR

OR


Read Online 




OR


Click on the READ MORE  button to continue reading


If you have problem in download please click this link below 

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...