Showing posts with label Short novels. Show all posts
Showing posts with label Short novels. Show all posts

Sunday, 12 December 2021

Kaghaz ki dosti by Amna

  افسانہ:

کاغذ کی دوستی

 

زندگی میں آپ کا سچا ساتھی پتہ ہے کون ہوتا ہے۔ اللّٰہ کے ساتھ سے تو کبھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ وہ تو کبھی ساتھ چھوڑتا ہی نہیں ہے۔ لیکن ہم انسان ہے نہ ہم چاہتے ہیں کوئی ہو جو ہمارے سامنے بیٹھ کر ہمیں سُنے ، ہمیں دکھائی دے۔ اور پتہ ہے ایسا کون ہے سیدھی لکیروں والا صاف کاغذ۔ یہ کاغذ انسانوں کی نسبت زیادہ وفادار ہوتا ہے ۔ بس اسکی ایک شرط ہوتی ہے ۔ یہ چاہتا ہے اِسے ہمیشہ سنبھال کر رکھا جائے۔ جب تک ہم اِسے اہمیت دیتے ہیں یہ ہمارے راز سنبھال کر رکھتا ہے ۔

پتہ سب کی زندگی ایک کہانی ہے۔ اور ہر کوئی اس کو اپنے انداز میں پڑھ رھا ہے۔ بس زندگی کی کتاب میں یہاں اچھے ورق لکھے ہیں وہاں برے ورق بھی لکھے ہیں یہ الگ بات ہے کہ کسی کے اچھے ورق پہلے آجاتے ہیں تو کیسی کے برے ۔۔ لیکن اچھے اور برے ورق ہر کہانی میں میں اپنے اپنے انداز میں لکھے ضرور ہیں ۔۔

اور ہم انسان ہمیشہ چاہتے ہیں کہ کوئی ہو جو ہماری اس کہانی کو سُنے ، اُکتاے بغیر کوئی ہو جو غور سے سُنے، پر یہ دنیا ہے یہاں بس سب کی پاس اپنے مطلب کی بات سننے کا وقت ہے

پتہ ہے اس کہانی کو بغیر مطلب کے کون پوری طرح اپنے اندر سمیٹ سکتا ہے۔  ایک سیدھی لکیروں والا کاغذ۔۔

میری زندگی کی ہر اچھائی اور برائی کو اپنے اندر سمیٹنے والا میرا بہت ہی اچھا اور سچا دوست کاغذ۔۔

یہ کبھی مجھے چھوڑتا نہیں ہے، میرے قلم کو اپنے اپر لکھنے سے روکتا نہیں ہے۔" ٹائم نہیں ہے " یہ نہیں کہتا۔ میری خوشی میرا غم اپنے اندر سمیٹ کر مجھے بکھرنے سے بچا لیتا ہے

میری یہ دوستی آٹھویں کلاس سے ہوئی ، پھر وقت اور لوگوں کے رویوں نے اِسے مظبوط کر دیا

یہ میری تنہائی کا ساتھی اور میرا ہمراز بن کے رہا ہے ۔

اس مصروف دور میں چاہے فیملی ہو یا دوست ہر کوئی بس اپنی  ذمداری تک ہی آپکا ساتھ دیتا ہے ۔ آج کے دور میں فیملی کی ذمداری ضروریات پوری کرنا اور دوستوں کا کام سکول کالج میں آپکے ساتھ گھومنا اور آپکو کمپنی دینا ہے۔ یقین کرے اس سے زیادہ کسی کو آپکی زندگی سے کوئی سروکار نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے اور میں نے اس حقیقت کو بہت جلد مان لیا تھا۔ میں نے کاغذ کی دوستی کو اپنے لیے منتخب کر کے اپنی تنہائیوں کو اپنے تک محدود کر لیا تھا۔ میں نے کبھی کسی سے ٹائم نہیں مانگا تھا۔۔ مجھے لوگوں سے بیزاری ہونے لگی تھی۔ کسی کی بھی دوستی مجھے بس کچھ دن اچھی لگتی ، کچھ دن بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا کوئی مجھ پہ اپنا آپ مسلط کر رہا ہے۔ مجھے اُکتاہٹ ہوتی۔

میں تنہائی پسند تھی مگر ایک اداس اور خاموش لڑکی کبھی نہیں تھی ۔ میں اپنی سٹوڈنٹ لائف کو پوری طرح انجوائے کرتی ، ہنستی تھی ہنساتی تھی۔۔ لیکن بند کمرے میں رہنا پسند تھا مجھے۔

لیکن جب کوئی دوست مجھ سے ٹائم مانگے ، شکایت کرے ، حق جتائے مجھے اچھا نہیں لگتا تھا ، مجھے اُس سے بیزاریت ہو جاتی۔ شائد میں اپنی ذات پر کسی کا حق نہیں چاہتی تھی۔ نہ مجھے کسی کی ذات پہ اپنی دوستی کا حق جتانے کا شوق تھا۔جب کوئی دوست بننا چاہتی تو بنا لیتی مگر جب کوئی شکوہ شکایت کرے تو مجھے اپنی ذات کسی قید میں محسوس ہوتی۔

میں اپنا سب کچھ اپنی ڈائری میں لکھتی، جب مجھے کوئی ہرٹ کرتا میں روتی نہیں تھی بس کاغذ پہ لکھ دیتی ، ہرٹ کرنے والے کو بھی نہیں بتاتی ، میں ہنستی رہتی تھی اور لوگوں کو لگتا تھا مجھے کچھ بُرا نہیں لگتا۔۔ اس لئے کوئی کچھ بھی بول دیتا تھا مذاق کہہ کر۔

مجھے لوگوں کی ہمدردیاں نہیں پسند تھی، مجھے میری پرواہ دکھانے والوں سے چڑ ہوتی تھی۔ میرے پاس کاغز تھا قلم تھی مجھے کبھی کسی کی ضرورت پڑی ہی نہیں تھی۔

پھر زندگی کی کتاب میں ایک ایسا ورق آگیا جو پوری زندگی پر حاوی ہو گیا۔۔ جس کی شروعات اتنی خوبصورت تھی کہ پوری کتاب میں بس ایک ہی ورق کی لگی ۔ ایسا لگا کے اب ورق نہیں پلٹا جاے گا ۔

میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کسی کی دوستی کبھی آپکی زندگی کو اتنا خوبصورت بنا سکتی ہے۔ مجھے اُس سے مل کر لگا کے میں غلط سوچتی رہی اب تک۔ میں سمجھتی رہی لوگ اپنے مطلب تک دوست ہوتے ہیں بس۔ وہ میری پہلی دوست تھی جس سے میں کبھی بیزار نہیں ہوئی تھی کبھی ۔ جس سے باتیں کرنا مجھے اچھا لگتا تھا۔ میری دوست بن کر اُس نے میری تنہائیوں کو ختم کیا تھا۔ کبھی زندگی میں کوئی ایسا تھا ہی نہیں یا کسی کو اتنا حق دیا ہی نہیں تھا ۔ جو دن رات بات کرے ۔ وہ دن رات میری خبر رکھتی ، بات نہ ہو پریشان ہو جاتی۔۔ وہ سمجھاتی کہ دوسری دوستوں کے ساتھ اچھے سے رہا کرو لڑائی نہ کیا کرو ۔۔اُس کے آنے کے بعد میرے پاس اپنے سچے اور پُرانے دوست کے لیے وقت ہی نہ رہا۔ میں نے ساری ڈائریاں لاک اپ میں رکھ دی۔۔

دن میں کیا کیا۔۔ سب وہ پوچھتی

 

وہ میری تنہایاں اکیلے رہنے کی عادت سب مجھے جیسے بھول ہی گیا۔۔

بس پھر زندگی کی کتاب کا ورق پلٹنے کا وقت ہو گیا۔۔۔ وہ تو صرف ایک ورق ہی تھا اور میں نے پوری کتاب ہی سمجھ لیا تھا پھر کچھ یوں ہوا کہ اُس نے مجھے۔۔

 

"تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی" سے

"تمہارے ساتھ نہیں رہنا" تک کا سفر کروایا

دل میں اعلیٰ مقام دے کر مجھے

میری ہی نظروں سے گرایا۔۔۔۔۔

اندھیرے مٹا کر روشنی دکھا کر

پھر اس نے گہری کھائی میں گِرایا

دوست نہیں ہوتا کوئی ، قسمیں کھا کر بھی

چاہو تو مر جاؤ اب یوں اُس نے بتایا

کچھ ایسے اُس نے اس دوستی کو

نبھایا۔۔ کچھ ایسے اُس نے نبھایا

 

پتہ ہے آج میرے پاس اس کہانی کو سننے والا کوئی نہیں، کیونکہ کسی دوست کو اتنی اہمیت دینا، اتنا چاہنا

سننے والے کے لیے شائد ایک مزاق ہو۔

مگر آج جب درد دل سے عاجز آکر اپنے پرانے دوست کو لاک اپ سے نکالا تو آج بھی وہ میرے دکھ کو سمیٹنے کے لیے تیار تھا۔ آج بھی یہ کاغذ کا ٹکڑا انسانوں کو مات دے گیا

کیوں چھوڑا تھا یہ نہیں پوچھا اس نے۔۔ بس جو کسی کو نہیں کہہ سکتے وہ کہو ۔۔۔

پتہ ہے دوست تو اب بھی بہت ہے پر اب یقین باقی نہیں رہا نہ کسی دوستی کی ضرورت ۔ اب اپنی ذات کے اندھیروں میں رہنا اچھا لگتا ہے

افسانہ نگار: آمنہ

٭٭٭٭٭٭٭٭

Wednesday, 4 August 2021

Crime story by Dr Babar Javed

 معاشرے اور اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں اور ان کی تربیت اچھی کریں ۔ورنہ کہیں ہم پچھتائیں گے۔

کرائم سٹوری

تحریر۔ ڈاکٹر بابر جاوید

 

شوکت مقدم پاکستان نیوی کے سابق آفیسر ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد دو ملکوں جنوبی کوریا اور قزاقستان میں پاکستان کے سفیر رہے، ان کی دو صاحب زادیاں اور ایک بیٹا ہے، دوسری بیٹی کا نام نور مقدم تھا، نور 20 جولائی کی شام ہولناک طریقے سے قتل ہو گئی اور اس قتل نے پورے اسلام آباد کو ہلا کر رکھ دیا۔

 

لوگ پانچ دن سے دہشت زدہ ہیں، نور کے ساتھ کیا ہوا؟ اس طرف آنے سے پہلے میں آپ سے ایک دوسری فیملی کا تعارف بھی کراؤں گا، پاکستان میں جعفربرادرز کے نام سے ایک بڑا بزنس گروپ ہے، یہ لوگ کھربوں روپے کے مختلف کاروبار کرتے ہیں۔

 

جعفربرادرز کے ایک بھائی عبدالقادر جعفر لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر بھی رہے ہیں، ان کے صاحب زادے ذاکر جعفر بھی ارب پتی ہیں، ذاکر جعفر کا بزنس برطانیہ اور امریکا تک پھیلا ہوا ہے، کراچی میں رہتے ہیں لیکن امراء کی طرح انھوں نے بھی اپنا ایک گھر اسلام آباد کے پوش ایریا ایف سیون فور میں بنا رکھا ہے اور فیملی کراچی اور اسلام آباد دونوں جگہوں پررہتی ہے، ذاکر جعفر کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے اور بیگم عصمت کا تعلق آدم جی فیملی سے ہے، ذاکر جعفر کے بڑے بیٹے کا نام ظاہر ذاکر جعفر ہے، یہ عرف عام میں ظاہر جعفر کہلاتا ہے۔

 

امریکا میں پیدا ہوا، نیوجرسی میں پڑھتا رہا، لندن میں بھی زیر تعلیم رہا اور یہ آج کل پاکستان میں رہتا تھا، دنیا میں پاگل پن کی نو وجوہات ہوتی ہیں، پہلی تین وجوہات دولت، دولت اور دولت ہے، ظاہر جعفر سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوا لہٰذا اس میں وہ ساری خرابیاں موجود ہیں جو عموماً دولت مندوں میں ہوتی ہیں، تکبر، بدتمیزی، ظلم اور نشہ، میرے ایک دوست ایسے نوجوانوں کو پائلٹ کہتے ہیں، کیوں؟

 

کیوں کہ یہ نوجوان اپنے والدین کی دولت اڑاتے ہیں لہٰذا یہ پائلٹ ہوتے ہیں، ظاہر جعفر بھی پائلٹ تھا، یہ بھی دن رات والدین کی دولت اڑاتا تھا، نور مقدم اور ظاہر جعفر دوست تھے، یہ "لیونگ ریلیشن شپ" میں تھے، ایک دوسرے کے ساتھ گھومتے پھرتے اور کھاتے پیتے رہتے تھے، خاندان بھی ایک دوسرے کو جانتے ہیں، 19 جولائی کو عید سے پہلے نور مقدم اچانک گھر سے غائب ہو گئی۔

 

والدین نے تلاش کیا، وہ نہ ملی، فون بھی بند آ رہا تھا، شوکت مقدم نے ذاکر جعفر سے رابطہ کیا، ذاکر جعفر نے جواب دیا، میں کراچی میں ہوں، میں نے پتا کیا لیکن نور ظاہر کے ساتھ نہیں ہے، والدین نے تشویش کے عالم میں ہر طرف فون کرنا شروع کر دیے، اس دوران نور کا فون آن ہوا اور اس نے والدہ کو بتایا، میں دوستوں کے ساتھ لاہور آئی ہوئی ہوں، کل پرسوں تک آ جاؤں گی، والدہ مطمئن ہو گئی، 20 جولائی کو کہانی کھلی، وہ لاہور نہیں تھی، وہ ظاہر جعفر کے ساتھ اس کے گھر میں تھی اور ذاکر جعفر نے شوکت مقدم (لڑکی کے والد) کے ساتھ جھوٹ بولا تھا، 20 جولائی چار بجے نور اور ظاہر کا جھگڑا ہوا اور ظاہر نے اسے مارنا شروع کر دیا۔

 

نور نے جان بچانے کے لیے روشن دان کھول کر پہلی منزل سے چھلانگ لگا دی، وہ گرل کے ساتھ بھی ٹکرائی اور فرش پر گرنے سے زخمی بھی ہو گئی، گھر پر اس وقت دو ملازم تھے، جمیل احمد اور محمد افتخار، ان میں سے ایک خانساماں تھا اور دوسرا چوکی دار، یہ جوان لوگ ہیں، نور ان کے سامنے فرش پر گری اور گھسٹ کر گیٹ کی طرف بڑھنے لگی، وہ چوکی دار کی منتیں کر رہی تھی تم گیٹ کھول دو، ظاہر مجھے مار دے گا لیکن وہ پتھر بن کر کھڑا رہا، ظاہر جعفر تیزی سے سیڑھیوں سے نیچے آیا اور نور کو بالوں سے گھسیٹتے ہوئے دوبارہ اوپر لے گیا۔

 

وہ اس کا سر سیڑھیوں پر بھی مارتا رہا، یہ دن ساڑھے چار بجے کا واقعہ تھا، ملازمین نے فون کر کے ظاہر کے والد ذاکر جعفر کو بتادیا لیکن اس نے اگنور کر دیا، ظاہر نے اس کے بعد نور کو بالائی منزل پر ٹارچر کرنا شروع کر دیا، اس نے اس کے جسم میں چار جگہ چاقو مارا، ایک بڑا زخم چھاتی پر بھی تھا، وہ اس کی منتیں کرتی رہی لیکن وہ اس کے جسم کو چاقو سے کاٹتا رہا، نور نے اپنے فون سے ویڈیو کالز کی کوشش بھی کی اور شور بھی کیا لیکن کوئی اس کی مدد کو نہ آیا، ظاہر نے اس دوران اپنے والد کو فون کر کے بتایا، نور میرے ساتھ شادی نہیں کر رہی، میں اسے قتل کر رہا ہوں، والد نے اس بات کو بھی سیریس نہیں لیا، ملازمین نے اس دوران ایک بار پھر والد کو بتایا کمرے کے اندر سے چیخوں کی آوازیں آ رہی ہیں اور لوگ گھر کی طرف دیکھ رہے ہیں، والد نے چوکی دار سے کہا، تم فکر نہ کرو، میں ابھی تھراپی سینٹر والوں کو بھیجتا ہوں۔

 

ہم اسٹوری کو یہاں روک کر تھراپی سینٹر کی طرف آتے ہیں، اسلام آباد کے ایف سیون سیکٹر میں دو بھائیوں دلیپ کمار اور وامق ریاض نے تھراپی سینٹر کے نام سے اعلیٰ طبقے کے بچوں کے لیے نفسیاتی ری ہیبلی ٹیشن سینٹر بنا رکھا ہے، یہ سینٹر پارٹیوں کے دوران امراء کے بچوں کو سنبھالتے ہیں، ذاکر جعفر نے وامق ریاض کو فون کیا اوربڑے عام سے لہجے میں کہا "وامق میرے گھر میں کسی کو بھجوا دو وہاں ظاہر کسی لڑکی کے ساتھ Solicite کر رہا ہے، Solicite اعلیٰ طبقے کی انگریزی میں غیرقانونی، غیراخلاقی جنسی تعلق کو کہتے ہیں، والد کا لہجہ اتنا معمولی تھا کہ ڈاکٹر بھی حیران رہ گیا، بہرحال تھراپی سینٹر نے اپنی ٹیم بھجوا دی، اس دوران ظاہر اور نور کے دوست بھی ان کے گھر پہنچ گئے۔

 

وہ گیٹ پر کھڑے تھے اور ٹیلی فون پر ظاہر کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے، تھراپی سینٹر کی ٹیم نے ظاہر کو دروازہ کھولنے کا کہا، اس نے انکار کر دیا، ٹیم لیڈر امجد سیڑھی لگا کر اوپر گیا، اس نے کھڑکی توڑی اور اندر کی صورت حال دیکھ کر سکتے میں آگیا، پورے کمرے میں خون تھا جب کہ نور کا سر جسم سے الگ دور پڑا تھا، امجد نے ٹیم کو آواز دی، فوراً اوپر آ جاؤ لیکن ٹیم کے پہنچنے سے پہلے ہی ظاہر نے امجد پر حملہ کر دیا، گولی چلائی لیکن گولی پستول میں پھنس گئی، اس نے اس کے بعد امجد پر چاقو سے حملہ کر دیا، چاقو امجد کے جگر میں لگ گیا لیکن وہ بہرحال اس سے لڑتا رہا اور اس نے اسے گرا لیا، اس دوران ٹیم آ گئی اور اس نے ظاہر کو باندھ دیا، ہمسائے یہ افراتفری دیکھ رہے تھے، ایک ہمسائے نے پولیس بلا لی، پولیس بھی اندر داخل ہو کر سکتے میں آ گئی۔

 

پولیس نے ظاہر ذاکر جعفر کو گرفتار کر لیا، شوکت مقدم کو بھی سانحے کی اطلاع دے دی گئی، ظاہر کا والد کراچی سے واپس آ گیا اور آ کر پولیس پر چڑھائی کر دی، اس کا بار بار کہنا تھا "آپ میرے بیٹے کو قاتل کہنے والے کون ہوتے ہیں، یہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے" پولیس نے اسے سمجھایا لیکن دولت میں اگر تکبر نہ ہو تو پھر دولت، دولت نہیں ہوتی، ذاکر جعفر نے وکلاء کی لائن بھی لگا دی اور ہر طرف سے دباؤ بھی ڈالنا شروع کر دیا لیکن میں یہاں پولیس کی تعریف کروں گا بالخصوص ڈی آئی جی افضال احمد کوثر قابل تعریف ہے۔

 

یہ شخص دباؤ میں نہیں آیا، اس نے تفتیش کرائی اور جب یہ ثابت ہو گیا اگر ظاہر جعفر کے والدین معاملے کو سیریس لے لیتے یا اپنے بیٹے کو سپورٹ نہ کرتے تو نور مقدم بچ سکتی تھی تو اس نے ذاکر جعفر اور ان کی بیگم عصمت آدم جی کو بھی گرفتار کر لیا اور ان دونوں ملازمین کو بھی پکڑ لیا جو اگر اس وقت ذرا سی کوشش کر لیتے، پولیس کو اطلاع کر دیتے یا کسی ہمسائے کو بلا لیتے تو بھی نور بچ سکتی تھی، ذاکر جعفر اور ان کی بیگم عصمت آدم جی نے گرفتاری سے بچنے کی ساری کوششیں کیں، ریمانڈ کے وقت بھی وکلاء کی لائن لگا دی لیکن بہرحال پولیس کی استقامت کی وجہ سے یہ کوشش ناکام ہو گئی اور اب قاتل ظاہر جعفر، اس کے والدین اور ملازمین سب حوالات میں ہیں، جعفر فیملی اب قاتل ظاہر جعفر کو بچانے کے لیے اسے نفسیاتی مریض اور نشئی ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

 

یہ لوگ جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر ایسی خبریں پھیلا رہے ہیں "یہ امریکا میں بھی جیل میں رہا اور اسے لندن سے بھی وائلنس کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا" وغیرہ وغیرہ، یہ بھی پتا چلا ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی کو جب نور کے قتل کا علم ہو گیا تو انھوں نے تھراپی سینٹر کے ساتھ مل کر ظاہر جعفر کو نفسیاتی مجرم بنانے کی کوشش کی، پولیس کوبھی گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، پولیس گیٹ پھلانگ کر اندر گئی تھی، پولیس نے جب ظاہر کو گرفتار کیا تھا تووہ اس وقت بھی ہوش وحواس میں تھا اور یہ آج بھی مکمل سینسز میں ہے، آپ اس کی چالاکی دیکھیے، یہ پولیس کے ہر سوال پر ایک ہی جواب دیتا ہے "میں امریکی شہری ہوں، مجھ پر پاکستانی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا اور آپ مجھ سے میرے وکیل کے ذریعے سوال کریں " یہ پولیس کو بیان نہیں دے رہا، والدین نے بھی اس کے دماغی توازن کی خرابی کی رپورٹس بنوانی شروع کر دی ہیں۔

 

نور مقدم کیس، افغان سفیر کی بیٹی کا واقعہ اور عثمان مرزا کیس سڑتے ہوئے جوہڑ کا صرف ایک جھونکا ہیں، اسلام آباد میں ایسے سیکڑوں ہزاروں واقعات ہو چکے ہیں اور روز ہو بھی رہے ہیں، شہر پارٹیوں، نشئیوں اور امراء کے بچوں کی واہیات حرکات کا سرکس بن چکا ہے، آپ رات کے وقت سڑک پر نہیں نکل سکتے کیوں کہ نشے میں دھت لوگ آپ کو کچل جائیں گے اور ان کے والدین بڑے آرام سے "میرے بچے Soliciteکر رہے تھے"کہیں گے اور بچے اگلی فلائٹ پکڑ کر باہر چلے جائیں گے، یہ ہے اسلام آباد، شہر کے نام پر جنگل۔

******************

Thursday, 4 June 2020

Purisrar school by Hadeed Haris Awan


۔۔۔۔۔۔۔پرسرار اسکول۔۔۔۔۔۔
حدید حارث اعوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


خرم کی اسکول کی نوکری کا آج پہلا دن تھا اس وقت نوکریاں آسانی سے نہی ملتی تھیں اسے بھی بڑی مشکل سے نوکری ملی تھی وہ بھی شہر سے بہت دور ایک چھوٹے سے علاقے میں وہ شہر کا رہنے والا تھا اس لے رات بھی وہیں گزارنی پڑتی تھی اس اسکول میں ایک کمرہ تھا جس میں اسکول ٹیچر سوتے تھے یہ کمرہ باقی کلاس رومز سے تھوڑا ہٹ کے تھا اسکول ٹایم کے بعد خرم کمرے میں آیا کمرہ زیادہ بڑا نہی تھا اسمیں دو چارپایوں کی جگہ تھی اور ایک کھڑکی تھی یہ خرم کی پہلی رات تھی وہاں پر اس وقت اس کی عمر کم و بیش 20 سال تھی کھانا کھاتے ہوے اچانک اسےلگا جیسے کوی اسے دیکھ رہا ہے اس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑای یہ دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہو گے کیونکہ کھڑکی سے ایک بہت بڑی نیلی آنکھ اسے گھور رہی تھی اکیلا کمرہ اندھیرا اور ایک بہت بڑی آنکھ اسےگھر رہی تھی خرم کا تو یہ حال تھا کہ کوٹو تو بدن میں لہو نہی بھاگ بھی نہی سکتا تھا کیونکہ نوکری بڑی مشکل سے ملی تھی بس اس نے دل میں آیت الکرسی کا ورد شروع کر دیا اور آنکھیں نیچے کرلی  بس پھر کیا تھا اس کے بعد یہ روز کا معمول بن گی کبھی بڑی بڑی آنکھیں کھڑکی سے گھورتی اور جب سونے لگتا تو کبی گھنگھرو کی آوازیں سنای دیتی کبھی ڈھول پیٹنے لگتا کبھی کیا کبھی کیا الغرض سونے نا دیتے آیت الکرسی اور دعاو کی وجہ سے تکلیف تو نہی دے سکتے تھے جنات بس ڈراتے بہت تہے اس کمرے کے باھر برگد کے درخت تھے خرم کو قن درختوں سے ڈر نہی لگتا تھا جتنا اس کمرے سے لگتا تھا لیکن کمرے میں جانا پڈتا تھا کینکہ باہر سردی ہوتی تھی اس اسکول میں ایک اور ٹیچر بھی تھا اس کا گھر بھی دور تھا خرم اسے کہتا کہ وہ بھی رات رک جاے تو ہم دو ہونگے تو ڈر کم لگے گا اکیلے میں زیادہ خوف آتا تھا لیکن وہ ٹیچر خرم کے پاوں پکڑ لیتا کہتا آپ کو خدا کا واسطہ مجھے جانے دیں خرم پریشان ہوتا کہ اب کیا کرے  کبھی کبھی جب وہ ٹیچر رکتے تھے اکیلےاور ڈر جاتے  تھے شروع میں تو خرم بہت ڈرتا تھا آہتہ آہتہ عادی ہوگیا اب تو روز اس کے پاس بستی کے لوگ آتے تھے باتے کرتے اور چلے جاتے اور جب خرم کے پاس کوی ہوتا تو وہ بستی والے نہی آتے تھے ایک دن وہی ٹیچر اور ایک گارڈ خرم کے پاس بیٹھے تھے کی. اچانک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسا لگا جیسے کمرے کے باھر کوئ پاوں گھسیٹ گھسیٹ کر چل رہا ہو وہ ٹیچر چوکنا ہو کر بیٹھ گئے پھر ایک دم سے جیسے کوئ دونوں ہاتھوں سے دروازے کو پیٹ رہا ہو وہ ٹیچر ایک دم سے گے اور دروازہ کھول دیا لیکن باھر کئ نہی تھا اگر کوئ انسان ہوتا تو جس طرح دروازہ بج رہا تھا اس ٹیچر کو دونوں ہاتٙ سینے پے لگتے مگر ایسا کچھ نہی تھا پھر وہ ٹیچر اور وہ گرڈ جس نے ٹاچ اٹھا رکھی تٙی باھر بھاگے باہر ہر جگہ دیکھا مگر کوئ نہی تھا کمرے سے باہر ریت تھی وہں بھی کسی یے پاوں کے نشان نہی تھے چھت پر بھی دیکھ لو خرم نے کمرے میض بیٹھ بیٹھے کہا وہاں بھی کوئ نہی تھا پھر اس ٹیچر نے بتا یا کہ جب وہ اکیلا ہوتا تھا تو ایسے ڈرتا تھا وہ سمجھتا تھا کہ خرم مجھے ڈراتا ہے لیکن اب اسے پتا چل گیا  کہ یہ کام کسی انسان کا نہی ہے پھر خرم کو ایک  راز معلوم ہویا جس سے اسے کافی آسانی ہوئ اور وہ جب تک وہاں رہا چین سے رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو دوستو کیسی لگی آپ سب کو میری پہلی اور سچی کاوش پڑھ کر ضرور بتایے گا مجھے انتظار رہے گا یہ کہانی ١٠٠ سچی ہے میرے والد صاحب کے ساتھ گزری ہے.



**********************



Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...